01 اگست, 2014 | 4 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

بھتہ اور ہم

 بھتے کی کئی شکلیں اور صورتیں ہیں۔ بھتہ جو کسی نا کسی طرح آپ بھرتے رہتے ہیں۔ چاہتے نا چاہتےہوئے، جانے یا انجانے میں بھتہ آپ سے وصول ہوتا رہتا ہے۔

شہر ہو کہ گاؤں، گلی ہو، سڑک ہو، دفتر، ہسپتال کہ ہوٹل کہاں کہاں بچیں گے۔ بھتے سے بھاگنے اور نظریں چرانے کا کوئی فائدہ نہیں۔

بھتہ آپ کی جان بھی لے سکتا ہے توآپ کا جہان بھی۔ کوئی بھتہ دے کر جی رہا ہے تو کوئی لے کر۔

ایک مجبور ہے اور دوسرا بھی شاید مجبور ہے، دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ ایک دوسرے کے بغیر جی نہیں سکتے۔

اصل بات ہے طاقت اور اختیار کی۔ ایک کے پاس اختیا ر ہے اور دوسرا بے اختیار، جو بے اختیار ہے اسے بھرنا ہے اور جس کے پاس اختیار ہے اسکو تو لینا ہے۔

جو بھی کچھ آپ کے پاس ہے وہ اسی کا ہے، شہر بھی اسی کے ہیں تو گاؤں میں بھی وہی بیٹھا ہے۔

بچپن میں کہانیاں پڑھتے تو کانوں میں آدم بو آدم بو کی آوازیں گونجنے لگتیں۔ اب اس جدید دور میں بھی آدم بوآدم بو کی ہی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔

اب یہ آوازیں کتابوں سے نکل کر میڈیا کے ذریعے پھیل رہی ہیں۔ صرف آوازیں نہیں، بو بھی پھیل رہی ہےحضرت آدم کی۔

صرف دکھائی نہیں دیتا تو وہ راکشس، جسے میڈیا اور اخبارات کے ذریعے پھیلائے ہوئے جھوٹ کی چادر نے آپ کی آنکھوں سے اوجھل رکھا ہوا ہے۔

جھوٹ کی اتنی فراوانی ہے کہ سچ پر سو پردے پڑے ہوئے ہیں۔ پردے تو اچھے خاصے پڑھے لکھوں  کے ذہنوں پر بھی پڑے ہوئے ہیں کہ ان کے دماغوں تک بھی کچھ نہیں پہنچ پاتا۔

ان کے تو ذہنوں کی طرح ، آنکھوں پر بھی پردے پڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے انہیں کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔

سب ایک دوسرے سے افسوس کرتے ہیں ، دو چار  بے سروپا جملے بول کر اپنی  اپنی راہ لے لیتے ہیں اور دل ہی دل میں شکر بھی ادا کرتے ہیں کہ ابھی اس آگ سے وہ محفوظ ہیں۔

یہ انہیں  بھی نہیں معلوم کہ کب تک۔ سب مجبور ہیں، سر جھکائے چلتے رہتےہیں۔ جھوٹ  ہے کہ شہر میں دندناتا پھر رہا ہے اور سچ کو سر چھپانے کی جگہ بھی میسر نہیں۔

پہلے جب بقر عید پر قربانی ہوتی تو کھال اسلامی جماعت والوں کا حق بنتی یا کوئی مدرسے والا آن کھڑا ہوتا۔

پھر جب یہ معلوم ہوا کہ اس میں تو بہت پیسہ ہے، تو اس پر لڑائیاں شروع ہوگئیں اور پھر ایسا وقت  بھی آیا کہ جانوروں کی کھالیں قربانی سے پہلے ہی لے لی جاتیں۔

اب تو زکوٰۃ، خیرات اور تو اور فطرہ کی بھی پرچیاں بٹتی ہیں، پوری کی پوری رسید بک پہنچ جاتی ہے کہ اپنا فطرہ تیار رکھیں۔

اوپر والے خدا کو کیا راضی رکھیں گے، پہلے زمین کے خداؤں کو تو راضی کرلیں۔

پہلے ایک پارٹی والوں کا راج تھا اب اور بھی پیدا ہوگئے ہیں۔ کسی کو دین کے نام پر چاہیئے تو کسی کو قومیت کے نام پر۔ آپ نے اگر ایک کو دے دیا تو دوسرا اس سے پہلے ہی کھڑا ہوگا۔

آپ اپنے موبائل میں کریڈٹ ڈالیں، بھتہ پہلےہی کٹ جائے گا۔ کوئی بھی بل جو آپ بھرتے ہیں اس میں بھتہ پہلے سے شامل ہوتا ہے، ہمیں عادت ہی نہیں رہی کہ بل پڑھ کر بھی دیکھیں۔

جو بجلی آپ نے استعمال بھی نہیں کی اس کا بھی بل آپ ہی کو بھرنا ہے۔جو نہیں بھر رہے وہ با اختیا ر ہیں ، چونکہ آپ بے اختیار ہیں اس لیے آپ کو ہی خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

چاہے آپ کے ہاں بجلی بھی چوبیس میں سے چار گھنٹے آتی ہو۔ ٹیلیفون، گیس، پانی، کچھ بھی ہو بغیر استعمال کیے آپ کو ان کے اخراجات بھرنے ہیں۔

جو ان کا وافر استعمال کرتے ہیں ان کو تو کچھ بھی نہیں بھرنا۔ ان کے گھروں میں سوئمنگ پول بھرے ہوں اورآپ کو نہانے کے لیے دو لوٹے بھی میسر نہیں، لیکن بل آپ کے پاس ہی پہنچے گا۔

نہیں بھرا تو کاٹنے میں دیر بھی نہیں لگاتے۔لاکھوں کے بل پر بجلی کاٹنے کی اجازت عدالتیں دیتی ہیں۔ آپ کا تو ہزار دو ہزار کا بل ہے اس کی کس سے اجازت لینی ہے۔

دوکان کھولنی ہے، کاروبار کرنا ہے، سو مرحلے ہیں۔ سرکار نے بھی دس دس ادارے بنا رکھے ہیں، اجازت دینے اور نظر رکھنے کے لیے۔

اور سرکار کے باہر بھی دس دس پھر رہے ہیں۔ سب کا پیٹ بھرنا ہے، سب کو کھلانا ہے، نیچے سے اوپر تک۔

قانون جتنے بھی  بنا رکھے ہیں صرف ڈرانے کے لیے، عمل نہ خود کرتے ہیں نہ دوسرے کو کرنے دینا ہے۔اگر قانون پر چلنا ہے تو یہ  یہ نقصان ہیں،  ہمارا ساتھ دوگے تو فائدے میں رہوگے۔

اگر ہم سے منحرف ہوئے تو پھر چکر کاٹتے رہوعدالتوں کے۔ ایسا قانون کی بھول بھلیوں میں پھنسائیں گے کہ عمر گذر جائے گی، بڈھے ہوجاؤگے، فیصلہ پھر بھی نہیں آئے گا۔

اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ کس راستے کا انتخاب کرنا ہے۔ قانون کا یا ہمارا۔

طرح طرح کے ٹیکس جو لوگ بھرتے ہیں، صرف  انہی کو بھرنے پڑتے ہیں ۔ خاص کر تنخواہ دار تو اس ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس بھرتا ہے۔

باقی جن کو نہیں بھرنا ہوتا، وہ بااختیار بن جاتے ہیں اور ایسی فضول چیزوں سے ان کا دور دور تک واسطہ نہیں پڑتا۔

سیاستدان ہوں یا افسر، وردی میں ہوں یا بغیر وردی۔ چاہے دین کا کاروبار کر رہے ہوں  یا قومییت کا چورن بیچ رہے ہوں ۔ سرمایہ دار ہوں  یا ٹھیکیدار۔

وہ یا تو ان سب چیزوں سے مستشنیٰ  ہوتے ہیں یا  ایسے لوگوں کو تنخواہ  پر رکھ لیتے ہیں جن کو ٹیکس بچانے کے سب راستے معلوم ہوتے ہیں۔

وکیل ہیں، مشیر ہیں، کنسلٹنٹ ہیں ،آپ ان کی خدمات حاصل کرلیں مزے میں رہیں گے۔ایک قانون کی بھول بھلیوں سے واقف کا تقرر کرلیں ،سو غیر قانونی راستے بتا دے گا۔

پورےکا پورا ملک لے دے کے چل رہا ہے۔ ہر طرف افہام و تفہیم ہے۔ جتنے بھی با اختیار ہیں سب مل بانٹ کے کھاتے ہیں اورایک دوسرے کو بچانے میں لگے رہتے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے قائد جن کوگر موقع ملےتو ایک دوسرے کو نگل لیں، لیکن روزگلے ملتے ہیں، کانفرنسیں کرتے ہیں اورساتھ چلنے کے پیمان کرتے نہیں تھکتے۔

ادارے جو ایک دوسرے کے اربوں روپے کھا کے بیٹھے ہوئے ہیں، لیکن پھر نئے نئے قرضے لیتے ہیں، نئے نئے ترقیاتی منصوبے بناتے ہیں، قوم کو اور نئی خوش خبریاں دیتے نہیں تھکتے۔

پہلے جن اسکولوں، ہسپتالوں اور سڑکوں کا وجود صرف  سرکاری فائلوں میں موجود تھا ان میں اور اضافہ کرتے ہیں اور اپنے اپنے بھتے کا بندوبست کرتے ہیں۔

الیکشن سے پہلےنئی نئی ملازمتوں کے اعلان سنائی دینے لگے ہیں۔ ملازمتیں تو چاچے مامے اور بھانجے بھتیجے لے جائیں گے، باقی جو بچیں گی فائلوں کی زینت بنیں گی۔

جن سے پہلے بھی بغیر ملازمت کے تنخواہیں نکلتی رہی ہیں اور اب اور بھی نکلیں گی۔ آپ تو جانتے ہیں مہنگائی کتنی بڑھ گئی ہے، پاؤنڈ اور ڈالر تو ویسے بھی آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔

اخراجات  تو کسی طور بھی پورے کرنے ہیں۔ کہیں آگ لگی ہے تو کہیں سیلاب آیا ہوا ہے۔

اعلان پر اعلان ہو رہے ہیں۔ بارشوں نے بھی جاتے جاتے اپنا کام کردیا۔ اب غریبوں تک کچھ پہنچے نا پہنچے ، وہاں تک جائے گا تو اسی راستے سے جس پر ہم بیٹھے ہیں۔

اپنا تو بھتہ محفوظ ہےبھائی ۔ غریبوں کا کیا ہے، رو دھو کے، کچھ لے دے کے سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ جان تو ویسے بھی آنی جانی چیز ہے، آتی جاتی رہے گی۔

تصویری خاکے بشکریہ مصنف


وژیول آرٹس میں مہارت رکھنے والے خدا بخش ابڑو بنیادی طور پر ایک سماجی کارکن ہیں۔ ان کے دلچسپی کے موضوعات انسانی حقوق سے لیکر آمرانہ حکومتوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ ڈان میں بطور الیسٹریٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے بند ہیں.

تبصرے (5)

عمر فاروق
22 ستمبر, 2012 08:15
سب سے بڑے بھتہ خور تو اقتدار کے ایوانوں میں ہیں. ان کا ذکر کیوں نہیں کرتے آپ؟
نادیہ خانم
22 ستمبر, 2012 08:21
ارے بھایی یہی تو بجلی کہلاتی ہے جو آپ تک اگر پہنچتی ہے تو صرف بل بن کر گرنے کی صورت میں. جانے دیجیےٹ ہر بار ڈیپریشن بڑھاتے ہیں. کبھی خوشی کا رااگ بھی الاپیے. کہیں نہ کہیں کچھ تو اچھا بھی ہو رہا ہوگا. کوٰی لکھاریٹ کویی گویا، کویی فنکار بھی کہیں نہ کہیں تو اپنے کام کی دھن میں مگن چلا جا رہا ہوگا.
اقبال افغانی
22 ستمبر, 2012 08:25
بہت بڑھیا! اگر قانون پر چلنا ہے تو یہ یہ نقصان ہیں، ہمارا ساتھ دوگے تو فائدے میں رہوگے۔ آخر آپ ان سے مل کیوں نہیں جاتے؟
Raza
24 ستمبر, 2012 21:12
assalamu alaikum bhta our hum khuda bhkash abru ka colum bhot zabardast ha. Urdu dawn news achi wap site hai.
Johany
13 اکتوبر, 2012 00:49
I never thoghut I would find such an everyday topic so enthralling!
مقبول ترین
بلاگ

ساغر صدیقی : ایک دل شکستہ شاعر

وہ خوبصورت نظمیں لکھتے، پھر بلند آواز میں خالی نگاہوں سے پڑھتے، پھر ان کاغذات کو پھاڑ دیتے جن پر وہ نظمیں لکھی ہوتیں

پکوان کہانی: کابلی پلاؤ - شمال کی شان

گوشت میں پکے چاول اس خطے کے جنگجوؤں کی ذہنی مطابقت اور جسمانی ساخت کے لیے موزوں تھے۔

ایک پاکستانی صحافی کی امریکا یاترا

میں نے جب یہ پوچھا کے کیا وہ پاکستان جانا چاہے گا تو اس کا کہنا تھا کے ہاں مجھے پاکستان جانے کا بہت شوق ہے۔

مووی ریویو: 'کک' صرف سلمان خان کی فلم نہیں

باصلاحیت اداکاروں کے ساتھ فلم بنا کر ساجد ناڈیا والا نے خود کو ایک قابل ڈائریکٹر منوا لیا ہے۔