22 ستمبر, 2014 | 26 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

دہشتگردی کا خدشہ ہے، رحمان ملک

وفاقی وزیرِ داخلہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آج دہشتگردی کا خدشہ ہے۔ فائل تصویر اے پی

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ ملک کے کچھ شہروں میں ممکنہ دہشتگردی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

انہوں کے کل کے اپنے اس بیان کو دوہرایا کہ پنجاب کی کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اسلام آباد میں داخل کرایا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں عشق رسول صلی اللہ علیہ  کانفرنس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں اج بھی فوج  ہائی الرٹ رہے گی۔

رحمان ملک کا کہنا تھا کہ اسلام اباد ،مری، چکوال، پشاور میں موبائل سروس معطل کردی گئی ہےاور اس سلسلے میں دو صوبائی چیف سیکریٹریز نے موبائل فون سروس بند کرنے کے لیے خطوط لکھے تھے۔

رحمان ملک نے نواز شریف پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف یوم عشق رسول کے موقع پر سیاست نہ کریں۔

اس سے قبل انہوں نے کہا کہ کل اسلام آباد میں ہونے والے پرتشدد مظاہرے پنجاب حکومت کی ایما پر ہوئے تھے۔

اس حصے سے مزید

ضرب عضب: فضائی کارروائی میں مزید 23 'دہشت گرد' ہلاک

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے وزیراعظم سے ایک طویل ملاقات بھی کی جس میں ضرب عضب پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

جاوید ہاشمی کی پی ٹی آئی رکنیت معطل

جاوید ہاشمی کو وضاحت کیلئے انتیس ستمبر کو پارٹی سیکریٹریٹ میں طلب کرلیا گیا ہے۔

عمران، قادری پر مقدمات کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

دونوں رہنماؤں کیخلاف دہشت گردی کے مقدمات کی تحقیقات کیلیے ایس پی صدر کی صدارت میں ایک 6 رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-