01 اکتوبر, 2014 | 5 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

افغانستان کی پاکستان کو تنبیہ

افغان وزیر خارجہ زلمے رسول۔ — اے ایف پی

اقوام متحدہ: افغانستان نے پاکستان سے ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر سرحد پار گولہ باری بند کر دے۔

افغان وزیر خارجہ زلمے رسول  نے جمعرات کو پاکستان کے سرحد پار حملوں کو 'گہری تشویش' کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حملوں سے افغنانیوں میں 'غیر مثالی غصہ اور تذبذب' پایا جاتا ہے۔

افغانستان ماضی میں بھی پاکستان پر کنڑ صوبے میں گولہ باری کا الزام عائد کر چکا ہے۔

زلمے رسول نے پندرہ ملکی کونسل کے ایک اجلاس میں کہا کہ وہ ایک مرتبہ پھر ان حملوں کی فوری روک تھام کا مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ ان حملوں نے درجنوں شہریوں کی جانیں لی ہیں جبکہ کئی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کابل پاکستان سے ان حملوں کو مکمل طور پر بند کرنے کے لیے رابطے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان اپنے ہمسایہ ملک سے 'قریبی' تعلقات کا خواہاں ہے۔

اس موقع پر انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی خبردار کیا کہ اس طرح کے حملے جاری رہنے سے دونوں ملکوں میں پہلے سے کشیدہ تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

پاکستان پر الزام ہے کہ وہ طالبان کی پشت پناہی کر رہا ہے جو کابل حکومت گرانا چاہتے ہیں۔

جوابًا، پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھپے ہوئے پاکستانی طالبان سرحد پار کر کے ان کے سیکورٹی اہلکاروں پر حملے کرتے ہیں۔

دوسری جانب، افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی نے اجلاس کو بتایا کہ ' ملک کے مختلف حصوں میں طالبان کے خلاف عوام کے اُٹھ  کھڑے ہونے کی اطلاعات کا جائزہ لینا ضروری ہے'۔

انہوں نے کہا کہ تحفظ اور انصاف کی خواہش نے مقامی آبادیوں کو صورتحال اپنے ہاتھوں میں لینے پر مجبور کر دیا ہے۔

اس حصے سے مزید

کابل میں دو خودکش بم دھماکے، چھ ہلاک

پولیس حکام کے مطابق چھ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ طالبان کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں کم سے کم بیس فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

افغان امریکا دوطرفہ سیکیورٹی معاہدے پر دستخط

افغانستان اور امریکا نے منگل کو افغان صدارتی محل میں دوطرفہ سیکیورٹی کے معاہدے پر دستخط کردیئے۔

افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹیو عبداللہ نے حلف اٹھا لیا

حلف برداری کی تقریب کے موقع پر دارالحکومت کابل میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟