17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

افغانستان کی پاکستان کو تنبیہ

افغان وزیر خارجہ زلمے رسول۔ — اے ایف پی

اقوام متحدہ: افغانستان نے پاکستان سے ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر سرحد پار گولہ باری بند کر دے۔

افغان وزیر خارجہ زلمے رسول  نے جمعرات کو پاکستان کے سرحد پار حملوں کو 'گہری تشویش' کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حملوں سے افغنانیوں میں 'غیر مثالی غصہ اور تذبذب' پایا جاتا ہے۔

افغانستان ماضی میں بھی پاکستان پر کنڑ صوبے میں گولہ باری کا الزام عائد کر چکا ہے۔

زلمے رسول نے پندرہ ملکی کونسل کے ایک اجلاس میں کہا کہ وہ ایک مرتبہ پھر ان حملوں کی فوری روک تھام کا مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ ان حملوں نے درجنوں شہریوں کی جانیں لی ہیں جبکہ کئی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کابل پاکستان سے ان حملوں کو مکمل طور پر بند کرنے کے لیے رابطے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان اپنے ہمسایہ ملک سے 'قریبی' تعلقات کا خواہاں ہے۔

اس موقع پر انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی خبردار کیا کہ اس طرح کے حملے جاری رہنے سے دونوں ملکوں میں پہلے سے کشیدہ تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

پاکستان پر الزام ہے کہ وہ طالبان کی پشت پناہی کر رہا ہے جو کابل حکومت گرانا چاہتے ہیں۔

جوابًا، پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھپے ہوئے پاکستانی طالبان سرحد پار کر کے ان کے سیکورٹی اہلکاروں پر حملے کرتے ہیں۔

دوسری جانب، افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی نے اجلاس کو بتایا کہ ' ملک کے مختلف حصوں میں طالبان کے خلاف عوام کے اُٹھ  کھڑے ہونے کی اطلاعات کا جائزہ لینا ضروری ہے'۔

انہوں نے کہا کہ تحفظ اور انصاف کی خواہش نے مقامی آبادیوں کو صورتحال اپنے ہاتھوں میں لینے پر مجبور کر دیا ہے۔

اس حصے سے مزید

افغان انتخابات: ابتدائی نتائج میں عبداللہ عبداللہ پہلے نمبر پر

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ان نتائج کے مطابق اشرف عنی دوسرے اور زلمے رسول تیسرے نمبر پر ہیں۔

افغان صدارتی انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری

پاکستان سمیت دنیا بھر نے افغانستان میں صدارتی انتخابات کی تکمیل کا خیرمقدم۔

پرامن افغان صدارتی انتخابات ختم، بھاری ٹرن آؤٹ متوقع

امریکی صدر باراک اوباما نے افغان عوام کو انتخابات میں بڑی تعداد میں شرکت پر مبارکباد دیتے ہوئے تاریخی سنگ میل قرار دیا۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟