23 اگست, 2014 | 26 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ، تین ہلاک

ڈرون طیارہ۔ فائل فوٹو

میرانشاہ: شمالی وزیرستان میں تحصیل دتہ خیل کےعلاقے میں امریکی ڈرون حملہ ہوا۔ امریکی ڈرون حملے میں تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

خبر کے مطابق جاسوس طیارے سے ایک گاڑی پر دو میزائل فائر کیے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ میزائل حملے کے بعد بھی علاقے میں ڈرون طیاروں کی پروازیں جاری ہیں جس کی وجہ سے خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

اس حصے سے مزید

اورکزئی ایجنسی: امن لشکر اور شدت پسندوں میں جھڑپ، پانچ ہلاک

ذرائع کے مطابق مارے جاے والے مبینہ شدت پسند درّۂ آدم خیل میں طالبان کے مومن گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔

مانسہرہ: ریپ کے ملزم کی جان سے مارنے کی دھمکیاں

ریپ کی شکار لڑکی نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس اہلکار عدالت سے باہر معاملہ طے نہ کرنے پر قتل کی دھمکیاں دے رہا ہے۔

پشاور: تیز بارش میں حادثات، 8 افراد ہلاک، 42زخمی

پشاور اور گرد ونواح میں تیزہواؤں کے ساتھ آندھی اورگردآلود طوفان شروع ہوا جس کے بعد گرج چمک کے ساتھ شدید بارش شروع ہوگئی۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

Amir Nawaz Khan
24 ستمبر, 2012 11:08
ڈرون حملے کا علاقہ طالبان کے حافظ گل بہادر گروپ کا گڑہ سمجھا جاتا ہے جہاں حافظ گل بہادر گروپ کی پناہ گاہئیں ہیں۔ وزیرستان ،خصوصا شمالی وزیرستان ،القاعدہ اور طالبان اور غیر ملکی جہادیوں کا گڑھ اور دہشت گردی کا مرکز سمجھا جاتا ہے کیونکہ دنیا بھر کے دہشت گرد یہاں موجود ہیں۔ اسامہ بن لادن و الظواہری کے ساتھی غیرملکی دہشت گرد شمالی وزیرستان پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں اور انہوں نے پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔القاعدہ اور طالبان سمیت دیگر دوسرے گروپوں کی پناہ گاہیں پاکستان کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ القائدہ اور طالبان کے وجود میں آنے پہلے پاکستان میں تشدد اور دہشتگردی نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور تشدد آمیز مذہبی انتہا پسندی نے اس ملک کے وجود کو ہی خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ یہ وہی عسکریت پسند ہیں جنہوں نے ریاست اور اس کے عوام کے خلاف اعلان جنگ کر رکھاہے ۔اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ یا تو ہم ان مسلح حملہ آوروں کے خلاف لڑیں یا پھر ان کے آگے ہتھیار ڈال دیں جو پاکستان کو دوبارہ عہدِ تاریک میں لے جانا چاہتے ہیں۔ صلح جوئی کی پالیسی نے ملک کو پہلے ہی بھاری نقصان پہنچایا ہے جس کی قیمت ہم انسانی جانوں کی زیاں نیز معاشرے اور معیشت پر اس کے برےاثرات کی شکل میں ادا کر چکے ہیں . دہشت گرد عناصر شہر وں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرکے ملک میں انتشار پیدا کررہے ہیں۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا بیرسٹر مسعود کوثرکہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں حکومت کی رٹ کبھی نہیں رہی اور شمالی وزیرستان اغواکاروں کا گڑھ ہے۔ ڈرون حملے صرف اور صرف دہشت گردوں کے خلاف کئیے جاتے ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ دوسرے ممالک کے لئے بھی ایک خطرہ ہیں۔۔ درحقیقت ڈرون حملوں سے عام شہریوں کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہ ہے اور اگر کسی کو ڈرونز سےخطرہ ہے، تو وہ یا تو دہشت گرد و شدت پسند ہیں یا ان کے حامی ۔ ڈرونز کی افادیت دشوار گزار اور مشکل ترین علاقوں مین دہشت گردوں کی خفیہ پناہ گاہوں کو تباہ کرنے اور دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے ضمن مین مسلمہ ہے اور ڈرونز کا نشانہ بلا کا ہے۔ ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے شدت پسند ہوتےہیں۔ اسی بنا پر علاقے کے اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ ڈرون حملے جاری رہنا چاہئیں کیونکہ ان کا نشانہ شدت پسند ہوتے ہیں۔ آزاد میڈیا کو قبائلی علاقوں تک رسائی حاصل نہیں ہے اور وہ پاکستانی میڈیا کی خبروں ، اور دہشت گردوں کی سپلائی کردہ معلومات سے استفادہ کرتے ہین جو کہ قابل اعتبار معلومات نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر رپورٹیں غلط معلومات من گھڑت واقعات اور مفروضوں پر مبنی ہوتی ہیں۔ ہمیں جہادی عناصر کو ہمیشہ کے لئے نکیل ڈالنی ہو گی اور ان کی بیخ کنی کرنا ہو گی کیونکہ یہ ہمارے بچوں ،عورتوں،بزرگوں اور بے گناہ و معصوم شہریوں کو طالبان و القائدہ کے ہاتھوں بچانے اور محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے۔
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ڈرامے کی آخری قسط

اب اس آخری میلوڈرامہ کا جو بھی انجام ہو- اس نے پاکستانیوں کی آخری ہلکی سی امید کوبھی ریزہ ریزہ کردیا ہے-

پی ٹی آئی کی خالی دھمکیاں

جو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، وہ حقیقت سے دور ہیں۔ ایسا کوئی راستہ موجود نہیں، جس سے پارٹی اپنی ان دھمکیوں پر عمل کر سکے۔

بلاگ

سیاست میں شک کی گنجائش

شکوک کے ساتھ ساتھ ان افواہوں کو بھی تقویت مل رہی ہے کہ عمران خان اور طاہرالقادری اصل میں اسٹیبلشمنٹ کے مہرے ہیں۔

پکوان کہانی : شاہی قورمہ

جو اکبر اعظم کے شاہی باورچی خانے کی نگرانی میں راجپوت خانساماؤں کے تجربات کا نتیجہ ہے۔

دفاعی حکمت عملی کے نقصانات

مصباح کے دفاعی انداز کے اثرات ہمارے جارحانہ انداز رکھنے والے بیٹسمینوں پر بھی پڑے ہیں

پاکستان ایک "ساس" کی نظر سے

68 سالہ جین والر کو پاکستان بہت پسند آیا، اتنا زیادہ کہ بقول ان کے مجھے پاکستان سے محبت ہوگئی ہے۔