18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

حکومت کا بلور کے اعلان سے اظہار لاتعلقی

وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور۔ — فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان کی حکومت نے وفاقی وزیر ریلوے کی جانب سے توہین آمیز فلم بنانے والے کے قتل پر انعام کے اعلان سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے حکمران اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور کے اعلان کی مذمت کی ہے۔

وزیر اعظم ہاؤس کے ترجمان شفقت جلیل نے بی بی سی کو بتایا کہ بلور کے بیان سے حکومت کا’قطعاً کوئی تعلق نہیں‘ ہے۔

بلور نے گذشتہ روز پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ متنازع فلم ساز کو قتل کرنے والے کو ایک لاکھ ڈالر انعام دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ  القاعدہ اور طالبان بھائیوں کو دعوت دیتے ہیں کہ اس عظیم کام میں وہ ان کا ساتھ دیں۔

بلور نے مزید کہا کہ 'اگر انہیں موقع ملا تو وہ فلم ساز کو خود اپنے ہاتھوں سے قتل کریں گے'۔

جلیل نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم اس حوالے سے اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی سے بھی بات کریں گے۔

دوسری جانب، اے این پی کے ترجمان زاہد خان نے وضاحت کی ہے کہ بلور کا بیان ذاتی نوعیت کا ہے۔

اے این پی کی ہی ایک اور رکن قومی اسمبلی بشرٰی گوہر کے مطابق بلور کا بیان پارٹی پالیسی نہیں ہے ۔

اس حصے سے مزید

پروسیکیوٹر کی تقرری سے متعلق مشرف کی درخواست مسترد

خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔

اسلام آباد منڈی دھماکے کی تفتیش میں امرود فرم کا منیجر گرفتار

حکام کے مطابق تقریباً 40 پیٹیاں ایک مسافر بس کی چھت پر لوڈ کرکے اسلام آباد کی پھل و سبزی کی مارکیٹ میں لائی گئیں تھیں۔

چیئرمین پیمرا، واپڈا عہدوں سے فارغ

وزیراعظم نے چیئرمین واپڈا سے استعفیٰ لیکر ظفر محمود کو نیا چیئرمین مقرر کردیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

محمد عارف
23 ستمبر, 2012 22:14
کیا پاکستان کے حکمرانوں مسلمان نہیں ہیں ۔ کہ راجہ صاحب بلور صاحب کے بیان کی تائید بھی نہیں کر سکتے ۔
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔