17 ستمبر, 2014 | 21 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

جنرل کیانی کے خلاف درخواست خارج

Gen-kayani-670
پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی ۔ — فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان کی ایک عدالت نے فوجی سربراہ  کی مدت ملازمت میں توسیع کےخلاف دائر درخواست خارج کر دی ہے۔

سابق فوجی افسران کی ایک نمائندہ سوسائٹی نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخوست دائر کر رکھی تھی۔

درخواست گزار کرنل ریٹائرڈ انعام الرحمان کا مؤقف تھا کہ ساٹھ سال کی عمر کے بعد کوئی بھی فوجی عہدے پر نہیں رہ سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ صدرِ پاکستان کو آرمی چیف کے تقرر کا اختیار تو حاصل ہے لیکن وہ ان کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں کر سکتے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اقبال حمیدالرحمان نے پیر کو درخواست کے قابل سماعت ہونے کے حوالے سے اپنے ریمارکس میں کہا کہ افواج پاکستان کے سروس امور اعلی عدالت میں نہیں اٹھائے جاسکتے۔

انعام الرحمان نے بارہ ستمبر کو دائر درخواست میں میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ان کی سوسائٹی جنرل کیانی کی مدتِ ملازمت میں توسیع کو غیر اخلاقی اور غیر آئینی سمجھتی ہے۔

ان کا دعوی تھا کہ 1956 کے پاکستان آرمی ایکٹ میں کوئی ایسی شق موجود نہیں جس کے تحت کسی کو بھی عہدے کی معیاد جتنی توسیع دی جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج کے سربراہ کو تین سال کی مکمل توسیع دیتے ہوئے اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا کہ اس سے ساٹھ سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ کا قانون متاثر ہو گا۔

درخواست گزار نے یہ بھی دعوی کیا کہ جنرل کیانی نے دبئی میں طے پانے والے این آر او معاہدے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ان کے بقول جنرل کیانی اس وقت کے صدر مشرف کے ہمراہ دبئی گئے تھے اور وہی اس معاہدے کے ضامن کے طور پر بھی سامنے آئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے جنرل کیانی  کی مدت ملازمت میں اسی لیے غیر قانونی توسیع کی تاکہ ضامن کا تحفظ کیا جا سکے۔

اس حصے سے مزید

دفعہ 144 کے تحت درج مقامات ختم کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مقامات خارج کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ماورا قانون اقدام کی اجازت نہیں سکتی ہے۔

مبینہ پولیس اہلکار کی پی ٹی آئی میں شمولیت

بعد میں فیصل آباد پولیس کے دستے کے انچارج نے اس شخص کے پولیس انسپکٹر ہونے کے دعویٰ کو مسترد کردیا۔

ہنگامی صورتحال میں گمشدہ بچوں کے تحفظ کی پالیسی تیار

قدرتی آفات سے بچوں کے لیے خطرات میں اضافہ ہوجاتا ہے، بلکہ بچے بدسلوکی اور استحصال کی صورتحال کا مزید نشانہ بنتے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مزید جمہوریت

نظام لپیٹ دینے اور امپائر کی باتیں کرنے کے بجائے ہمارا مطالبہ صرف مزید جمہوریت ہونا چاہیے، کم جمہوریت نہیں۔

تبدیلی آگئی ہے

ملک میں شہری حقوق کی عدم موجودگی میں عوام اب وسیع تر بھلائی کا سوچنے کے بجائے اپنے اپنے مفاد کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

بلاگ

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔

کراچی میں فرقہ وارانہ دہشتگردی

کراچی ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ دہشت گردی کی زد میں ہے اور روزانہ کوئی نہ کوئی بے گناہ سنی یا شیعہ اپنی جان گنوا رہا ہے۔

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔

کریچر - تھری ڈی: گوڈزیلا یا ڈیوی جونز کا کزن؟

یہ کہنا غلط نہ ہوگا بپاشا ہارر تھرلرز تک محدود ہوگئی ہیں جبکہ عمران عبّاس نے انکے گرد چکر کاٹنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔