02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

جنرل کیانی کے خلاف درخواست خارج

Gen-kayani-670
پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی ۔ — فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان کی ایک عدالت نے فوجی سربراہ  کی مدت ملازمت میں توسیع کےخلاف دائر درخواست خارج کر دی ہے۔

سابق فوجی افسران کی ایک نمائندہ سوسائٹی نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخوست دائر کر رکھی تھی۔

درخواست گزار کرنل ریٹائرڈ انعام الرحمان کا مؤقف تھا کہ ساٹھ سال کی عمر کے بعد کوئی بھی فوجی عہدے پر نہیں رہ سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ صدرِ پاکستان کو آرمی چیف کے تقرر کا اختیار تو حاصل ہے لیکن وہ ان کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں کر سکتے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اقبال حمیدالرحمان نے پیر کو درخواست کے قابل سماعت ہونے کے حوالے سے اپنے ریمارکس میں کہا کہ افواج پاکستان کے سروس امور اعلی عدالت میں نہیں اٹھائے جاسکتے۔

انعام الرحمان نے بارہ ستمبر کو دائر درخواست میں میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ان کی سوسائٹی جنرل کیانی کی مدتِ ملازمت میں توسیع کو غیر اخلاقی اور غیر آئینی سمجھتی ہے۔

ان کا دعوی تھا کہ 1956 کے پاکستان آرمی ایکٹ میں کوئی ایسی شق موجود نہیں جس کے تحت کسی کو بھی عہدے کی معیاد جتنی توسیع دی جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج کے سربراہ کو تین سال کی مکمل توسیع دیتے ہوئے اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا کہ اس سے ساٹھ سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ کا قانون متاثر ہو گا۔

درخواست گزار نے یہ بھی دعوی کیا کہ جنرل کیانی نے دبئی میں طے پانے والے این آر او معاہدے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ان کے بقول جنرل کیانی اس وقت کے صدر مشرف کے ہمراہ دبئی گئے تھے اور وہی اس معاہدے کے ضامن کے طور پر بھی سامنے آئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے جنرل کیانی  کی مدت ملازمت میں اسی لیے غیر قانونی توسیع کی تاکہ ضامن کا تحفظ کیا جا سکے۔

اس حصے سے مزید

کچرہ چننے والوں کی زندگی میں عارضی انقلاب

شاکر جان کی خواہش ہے کہ مظاہرین ڈی چوک پر ہمیشہ موجود رہیں، جن کی وجہ سے اس کے لیے روزی کمانا آسان ہوگیا ہے۔

سپریم کورٹ : پندرہ پارلیمانی جماعتوں کو نوٹس جاری

ممکنہ ماورائے آئین اقدام سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ وہ صرف ایک مرتبہ عمران خان سے ملے ہیں۔

اسلام آباد دھرنے پاکستان کے خلاف بغاوت ہیں، نثار

موجودہ سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے پارلیمٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔

تاریخ کی تکرار

پولیس پر تشدد اور دہشت گردی کا الزام لگانے والے کیا اپنے گھروں پر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو چڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آبی مسائل کا ذمہ دار ہندوستان یا خود پاکستان؟

پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ پچھلے 5 عشروں سے پانی کے وسائل کی خراب مینیجمنٹ ہے۔