19 ستمبر, 2014 | 23 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

رمشا کیس جوینائل کورٹ میں چلانے کا فیصلہ

لوگ رمشا کے گھر کے پاہر جمع ہیں۔ فوٹو اے پی

اسلام آباد: اسلام آباد کی ایک عدالت نے پولیس کو مبینہ طور پر توہین مذہب کی مرتکب رمشا کے جوینائل ٹرائل کے لیے چالان پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پیر کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد جواد عباس نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مقدمہ کی سماعت جیل میں کرنے کے حکم کو مسترد کر دیا۔

عدالت نے پولیس کو جوینائل قوانین کے مطابق چالان خصوصی عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

یہی عدالت اب یکم اکتوبر کو بطور جوینائل کورٹ مقدمہ کی سماعت کرے گی۔

مزید براں، عدالت نے رمشا اور امام مسجد خالد جدون کی طلبی کے نوٹس جاری کرتے ہوئے گزشتہ سماعت کے موقع پر چالان تفتیشی آفیسر اور ڈسٹرکٹ اٹارنی میں پیدا ہونے والے تنازعہ کا معاملہ مجسٹریٹ کو بھجوا دیا ہے۔

وکیل استغاثہ نے میڈیا کو بتایا کہ اگرچہ پولیس نے رمشا کو بے گناہ قرار دیا ہے تاہم وہ ثبوت اور شواہد پیش کریں گے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کے نواحی گاؤں میرا جعفرکی رہائشی مسیحی بچی کو سولہ جولائی کو ایک مقامی شخص کی شکایت پر پولیس نے توہین مذہب کے قانون کے تحت گرفتار کیا تھا۔

سات ستمبر کو عدالت نے رمشا کو پانچ پانچ لاکھ کے دو مچلکوں پر اڈیالہ جیل سے ضمانت پررہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

آٹھ ستمبر کو جیل سے رہا کرنے کے بعد رمشا کو سخت حفاظتی نگرانی میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔

اس حصے سے مزید

دھاندلی ثابت ہونے پر وزیراعظم سے مستعفی ہونے کے اعلان کا مطالبہ

حزب اختلاف کی جماعتوں کےسیاسی جرگےنےنوازشریف،عمران خان اورطاہرالقادری کوخط لکھاہےجس میں یہ مطالبہ کیاگیاہے۔

وزیراعظم، اسمبلی کے 70 فیصد ارکان ٹیکس نہیں دیتے، عمران

گزشتہ حکومت میں نوازشریف کے پاس کوئی عہدہ نہیں تھا پھر پروٹوکول کیوں تھا، سربراہ پی ٹی آئی۔

مشترکہ مفادات کونسل کااجلاس طلب،چاروں وزرائے اعلی مدعو

وزیراعظم نے22ستمبرکواجلاس طلب کیا ہے،وزیراعلی خیبر پختونخوا نوازشریف کے استعفی کے لیے دیئے جانے والے دھرنے میں شریک ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مزید جمہوریت

نظام لپیٹ دینے اور امپائر کی باتیں کرنے کے بجائے ہمارا مطالبہ صرف مزید جمہوریت ہونا چاہیے، کم جمہوریت نہیں۔

تبدیلی آگئی ہے

ملک میں شہری حقوق کی عدم موجودگی میں عوام اب وسیع تر بھلائی کا سوچنے کے بجائے اپنے اپنے مفاد کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

بلاگ

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔

کراچی میں فرقہ وارانہ دہشتگردی

کراچی ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ دہشت گردی کی زد میں ہے اور روزانہ کوئی نہ کوئی بے گناہ سنی یا شیعہ اپنی جان گنوا رہا ہے۔

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔