29 اگست, 2014 | 2 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

رمشا کیس جوینائل کورٹ میں چلانے کا فیصلہ

لوگ رمشا کے گھر کے پاہر جمع ہیں۔ فوٹو اے پی

اسلام آباد: اسلام آباد کی ایک عدالت نے پولیس کو مبینہ طور پر توہین مذہب کی مرتکب رمشا کے جوینائل ٹرائل کے لیے چالان پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پیر کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد جواد عباس نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مقدمہ کی سماعت جیل میں کرنے کے حکم کو مسترد کر دیا۔

عدالت نے پولیس کو جوینائل قوانین کے مطابق چالان خصوصی عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

یہی عدالت اب یکم اکتوبر کو بطور جوینائل کورٹ مقدمہ کی سماعت کرے گی۔

مزید براں، عدالت نے رمشا اور امام مسجد خالد جدون کی طلبی کے نوٹس جاری کرتے ہوئے گزشتہ سماعت کے موقع پر چالان تفتیشی آفیسر اور ڈسٹرکٹ اٹارنی میں پیدا ہونے والے تنازعہ کا معاملہ مجسٹریٹ کو بھجوا دیا ہے۔

وکیل استغاثہ نے میڈیا کو بتایا کہ اگرچہ پولیس نے رمشا کو بے گناہ قرار دیا ہے تاہم وہ ثبوت اور شواہد پیش کریں گے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کے نواحی گاؤں میرا جعفرکی رہائشی مسیحی بچی کو سولہ جولائی کو ایک مقامی شخص کی شکایت پر پولیس نے توہین مذہب کے قانون کے تحت گرفتار کیا تھا۔

سات ستمبر کو عدالت نے رمشا کو پانچ پانچ لاکھ کے دو مچلکوں پر اڈیالہ جیل سے ضمانت پررہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

آٹھ ستمبر کو جیل سے رہا کرنے کے بعد رمشا کو سخت حفاظتی نگرانی میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔

اس حصے سے مزید

آئی ایس پی آرکابیان حکومتی منظوری سے جاری ہوا، وفاقی وزیر داخلہ

چوہدری نثارنےکہاہےکہ حکومت نےکسی کو ضامن اور ثالث نہیں بنایا,آئی ایس پی آرکابیان وزیراعظم کودیکھانے کےبعدجاری کیاگیا۔

نواز شریف نے آرمی چیف سے 'معاونت' مانگی، آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق حکومت نےآرمی چیف سے موجودہ صورتحال کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا کہا تھا۔

عمران خان کا کراچی،لاہور،فیصل آباد اور ملتان میں مظاہروں کا اعلان

آئی ایس پی آر کے بیان کے بعد چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم ایک اور جھوٹ بولنے پر قوم سے معافی مانگیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

اسلام آباد کا تماشا

عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ جوڈیشل کمیشن ایک کمزور وزیر اعظم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر تحقیقات کر سکے گا.

جمہوریت کے تسلسل کی ضرورت

حکومت نےکس قدر عجلت میں مذاکرات کا فیصلہ کیا، اس سے معاملات کے اوپر جی ایچ کیو کی گرفت کا اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے۔

بلاگ

اجتماعی سیاسی قبر

فوج کو سیاسی معاملات میں شرکت کی دعوت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاستدان سیاسی معاملات سے نمٹنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

مووی ریویو: مردانی - پاورفل کہانی، بہترین پرفارمنس

بولی وڈ اداکار رانی مکھرجی اور طاہر بھاسن دونوں ہی اپنی بولڈ پرفارمنس کے لئے تعریف کے لائق ہیں۔

عظیم مقاصد، پر راستہ؟

اس طوفان کے نتیجے میں ان چاہی افرا تفری پھیل سکتی ہے، اسلیے اچھے مقاصد کے لیے ایسے راستے اختیار نہیں کیے جانے چاہییں۔

انقلاب معافی چاہتا ہے

ڈی چوک وہ سیاسی چراغ ہے جس کو اگر ضدی شہزادے کافی حد تک رگڑ دیں تو کچھ پتا نہیں اس میں سے انقلاب کا جن نکل ہی آئے۔