28 جولائ, 2014 | 29 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

احمد مختارکے بھائی ن لیگ میں شامل

وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی احمد مختار۔ — اے پی پی

لاہور: وفاقی وزیر برائے پانی وبجلی چوہدری احمد مختار کے بڑے بھائی چوہدری احمد سعید نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیارکرلی ہے۔

احمد سعید نے پیر کو لاہور میں وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف اور نواز شریف سے ملاقات کی۔

ملاقات میں چوہدری احمد سعید نے باضابطہ طور پر مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان بھی کیا۔

اس موقع پرشہباز شریف کا کہنا ہے کہ چوہدری سعید کی شمولیت سے ن لیگ کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو گا اور یہ قدم وفاق کے ایوانوں میں کسی زلزلے سے کم نہیں۔

چوہدری سعید اس سے قبل پرویزمشرف کے دور میں پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائن اور پھر زرعی ترقیاتی بینک کے چئیرمین رہ چکے ہیں۔

انہوں نے 2005 میں زرعی ترقیاتی بینک کی سربراہی سے استعفی دے دیا تھا۔

وہ اس وقت جوتے بنانے والی ایک معروف کمپنی کے چیرمین کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

سیاسی پنڈتوں کے مطابق چوہدری سعید کی شمولیت سے ایک طرف ن لیگ کوگجرات میں استحکام حاصل ہوگا تو دوسری جانب پی پی پی کی طرف سے تاجروں، صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کو پارٹی کی حمایت کے لیے کی جانے والی کوششوں کودھچکا لگے گا۔

اس حصے سے مزید

تین سالہ بچی کے ریپ کا ملزم گرفتار

پولیس کے مطابق ملزم متاثرہ بچی کا کزن ہے۔

راولپنڈی میں ن لیگ تقسیم

راولپنڈی میں سے سردار نسیم گروپ اور حنیف عباسی گروپ کے درمیان رقابت اب ایک کھلا راز بن چکی ہے۔

چکوال کی مشہور برفی اور اس کی پچاس سالہ روایت

چکوال جانے والے افراد سے توقع کی جاتی ہے کہ واپسی پر نثار ہوٹل کی لذیذ برفی بطور سوغات لے کر آئیں گے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔