23 ستمبر, 2014 | 27 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

فیکٹری آتشزدگی: مالکان کے بیانات قلمبند

آتشزدگی کا شکار ہونے والی گارمنٹس فیکٹری، علی اینٹرپرائززکے باہر ہلاک شدگان کے لواحقین جمع ہیں۔ فائل تصویر اے ایف پی

کراچی: کراچی میں ہولناک آتشزدگی کا شکار ہونے والی فیکٹری کے مالکان شاہد بھائیلہ اور ارشد بھائیلہ نے پیر کو ایک عدالتی ٹرابیونل کے سامنے اپنا بیان قلمبند کرایا ۔ اس حادثے میں دو سو پچاس سے زائد ملازمین جل کر ہلاک ہوگئے تھے۔

واقعے کے بعد تیرہ ستمبر کو کراچی پولیس نے گارمنٹ فیکٹری کے مالکان کیخلاف مقدمہ قتل قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

کراچی کی تاریخ میں کسی فیکٹری میں لگنے والی خوفناک آگ میں دو سو اٹھاون ملازم لقمہ اجل بن گئے تھے جس کے بعد کراچی کے کارخانوں اور فیکٹریوں میں حفاظتی اقدامات پر ایک نئی بحث نے جنم لیا تھا۔

فیکٹری مالکان نے وکیل نے دعویٰ کیا کہ پولیس کے پاس چھتیس سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج موجود ہے جسے ٹرابیونل میں ثبوت کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

فیکٹری مالک نے کہا کہ فیکٹری کے دروازے بند نہیں تھے ۔ انہوں نے کہا کہ فائرفائٹنگ ڈپارٹمنٹ سے کئی مرتبہ رابطہ کیا گیا لیکن فائرٹینڈر ایک گھنٹے کے بعد فیکٹری پہنچے۔

" پولیس جو آتشزدگی کے بیس منٹ بعد فیکٹری پہنچ گئی تھی ، اس نے بھی فائرانجنز کو بلانے کی کوشش کی، " دوسرے بھائی نے دعویٰ کیا۔

فیکٹری مالکان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آگ بجھانے اورجان بچانے کے عمل میں پانی ختم ہوگیا اور ریسکیو آپریشن کو کچھ دیر کیلئے روک دیا گیا۔

شاہد بھائیلہ نے بتایا کہ وہ خود سائٹ فائر اسٹیشن گئے تھے جہاں انہیں بتایا گیا کہ ان کے پاس پانی نہیں اور اب پانی سخی حسن اسٹیشن سے منگوایا جارہا ہے۔

ٹرائبیونل کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ قربان علوی نے بیانات قلمبند کئے۔

جسٹس علوی کے استفسار پر شاہد بھائیلہ نے بتایا فیکٹری کے مالی معاملات ایک ٹھیکیدار کے حوالے کئے گئے تھے اور وہ نہیں جانتے کہ اس دن ملازمین کو آجرت دی جارہی تھی یا نہیں۔

دونوں بھائیوں نے بتایا کہ فیکٹری کے پاس انتظامی طور پر بین الاقوامی سرٹیفکیٹ ہے جس کے مطابق فیکٹری کے تمام انتظامات بین الاقوامی معیار کے تحت چلائے جارہے تھے۔

اس حصے سے مزید

کراچی یونیورسٹی میں تدریسی عمل بحال کرنے کا فیصلہ

یونیورسٹی کی جنرل باڈی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کل سے جامعہ میں تدریسی عمل بحال کردیا جائے گا۔

دو سال کے لیے ٹیکنو کریٹس کی حکومت قائم کی جائے، الطاف حسین

لندن میں گورنر پنجاب کے ساتھ ملاقات کے دوران متحدہ کے قائد نے کہا کہ ثالثی کے لیے چوہدری سرور مناسب شخصیت ہیں۔

پیپلزپارٹی ایم پی اے کا گن پوائنٹ پر استعفی لینے کا الزام

پروین جونیجو نے گزشتہ برس کے عام انتخابات میں دادو سے پی ایس 76 سے کامیابی حاصل کی تھی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

سوشلزم کیوں؟

اگر ہم مسلسل بحث کرسکتے ہیں کہ جمہوریت کیوں نہیں، شریعت کیوں نہیں، تو اس سوال پر بھی بحث ضروری ہے کہ سوشلزم کیوں نہیں؟

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

بلاگ

مووی ریویو: 'خوبصورت' - فواد اور سونم کی خوبصورت کہانی

اپنے پُر مزاح کرداروں کے باوجود فلم شوخ اور رومانٹک ڈرامہ ہے، جسے آپ باآسانی ڈزنی کی طلسماتی کہانی کہہ سکتے ہیں-

کراچی میں بجلی کا مسئلہ اور نیپرا کا منفی کردار

اپنی نااہلی کی وجہ سے نیپرا نے بیرونی سرمایہ کاروں کو مشکل میں ڈال رکھا ہے، جن میں سے کچھ تو کام شروع کرنے کو تیار ہیں۔

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔