03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

فیکٹری آتشزدگی: مالکان کے بیانات قلمبند

آتشزدگی کا شکار ہونے والی گارمنٹس فیکٹری، علی اینٹرپرائززکے باہر ہلاک شدگان کے لواحقین جمع ہیں۔ فائل تصویر اے ایف پی

کراچی: کراچی میں ہولناک آتشزدگی کا شکار ہونے والی فیکٹری کے مالکان شاہد بھائیلہ اور ارشد بھائیلہ نے پیر کو ایک عدالتی ٹرابیونل کے سامنے اپنا بیان قلمبند کرایا ۔ اس حادثے میں دو سو پچاس سے زائد ملازمین جل کر ہلاک ہوگئے تھے۔

واقعے کے بعد تیرہ ستمبر کو کراچی پولیس نے گارمنٹ فیکٹری کے مالکان کیخلاف مقدمہ قتل قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

کراچی کی تاریخ میں کسی فیکٹری میں لگنے والی خوفناک آگ میں دو سو اٹھاون ملازم لقمہ اجل بن گئے تھے جس کے بعد کراچی کے کارخانوں اور فیکٹریوں میں حفاظتی اقدامات پر ایک نئی بحث نے جنم لیا تھا۔

فیکٹری مالکان نے وکیل نے دعویٰ کیا کہ پولیس کے پاس چھتیس سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج موجود ہے جسے ٹرابیونل میں ثبوت کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

فیکٹری مالک نے کہا کہ فیکٹری کے دروازے بند نہیں تھے ۔ انہوں نے کہا کہ فائرفائٹنگ ڈپارٹمنٹ سے کئی مرتبہ رابطہ کیا گیا لیکن فائرٹینڈر ایک گھنٹے کے بعد فیکٹری پہنچے۔

" پولیس جو آتشزدگی کے بیس منٹ بعد فیکٹری پہنچ گئی تھی ، اس نے بھی فائرانجنز کو بلانے کی کوشش کی، " دوسرے بھائی نے دعویٰ کیا۔

فیکٹری مالکان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آگ بجھانے اورجان بچانے کے عمل میں پانی ختم ہوگیا اور ریسکیو آپریشن کو کچھ دیر کیلئے روک دیا گیا۔

شاہد بھائیلہ نے بتایا کہ وہ خود سائٹ فائر اسٹیشن گئے تھے جہاں انہیں بتایا گیا کہ ان کے پاس پانی نہیں اور اب پانی سخی حسن اسٹیشن سے منگوایا جارہا ہے۔

ٹرائبیونل کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ قربان علوی نے بیانات قلمبند کئے۔

جسٹس علوی کے استفسار پر شاہد بھائیلہ نے بتایا فیکٹری کے مالی معاملات ایک ٹھیکیدار کے حوالے کئے گئے تھے اور وہ نہیں جانتے کہ اس دن ملازمین کو آجرت دی جارہی تھی یا نہیں۔

دونوں بھائیوں نے بتایا کہ فیکٹری کے پاس انتظامی طور پر بین الاقوامی سرٹیفکیٹ ہے جس کے مطابق فیکٹری کے تمام انتظامات بین الاقوامی معیار کے تحت چلائے جارہے تھے۔

اس حصے سے مزید

حیدر آباد: عمارت گرنے سے 13 افراد ہلاک، متعدد زخمی

چوڑی پاڑہ میں گرنے والی تین منزلہ عمارت کے ملبے تلے دب کر مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

قحط کا شکار تھر، لوگ غربت کے باعث خودکشی کر رہے ہیں

محض سات مہینوں کے اندر تھرپارکر ضلع میں اکتیس افراد غربت کے باعث موت کو گلے لگا چکے ہیں۔

وزیراعظم، وزیرداخلہ کی نااہلی کے لیے درخواست دائر

سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نواز شریف کو آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت نااہل قرار دیا جائے


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔