18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

فیکٹری آتشزدگی: مالکان کے بیانات قلمبند

آتشزدگی کا شکار ہونے والی گارمنٹس فیکٹری، علی اینٹرپرائززکے باہر ہلاک شدگان کے لواحقین جمع ہیں۔ فائل تصویر اے ایف پی

کراچی: کراچی میں ہولناک آتشزدگی کا شکار ہونے والی فیکٹری کے مالکان شاہد بھائیلہ اور ارشد بھائیلہ نے پیر کو ایک عدالتی ٹرابیونل کے سامنے اپنا بیان قلمبند کرایا ۔ اس حادثے میں دو سو پچاس سے زائد ملازمین جل کر ہلاک ہوگئے تھے۔

واقعے کے بعد تیرہ ستمبر کو کراچی پولیس نے گارمنٹ فیکٹری کے مالکان کیخلاف مقدمہ قتل قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

کراچی کی تاریخ میں کسی فیکٹری میں لگنے والی خوفناک آگ میں دو سو اٹھاون ملازم لقمہ اجل بن گئے تھے جس کے بعد کراچی کے کارخانوں اور فیکٹریوں میں حفاظتی اقدامات پر ایک نئی بحث نے جنم لیا تھا۔

فیکٹری مالکان نے وکیل نے دعویٰ کیا کہ پولیس کے پاس چھتیس سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج موجود ہے جسے ٹرابیونل میں ثبوت کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

فیکٹری مالک نے کہا کہ فیکٹری کے دروازے بند نہیں تھے ۔ انہوں نے کہا کہ فائرفائٹنگ ڈپارٹمنٹ سے کئی مرتبہ رابطہ کیا گیا لیکن فائرٹینڈر ایک گھنٹے کے بعد فیکٹری پہنچے۔

" پولیس جو آتشزدگی کے بیس منٹ بعد فیکٹری پہنچ گئی تھی ، اس نے بھی فائرانجنز کو بلانے کی کوشش کی، " دوسرے بھائی نے دعویٰ کیا۔

فیکٹری مالکان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آگ بجھانے اورجان بچانے کے عمل میں پانی ختم ہوگیا اور ریسکیو آپریشن کو کچھ دیر کیلئے روک دیا گیا۔

شاہد بھائیلہ نے بتایا کہ وہ خود سائٹ فائر اسٹیشن گئے تھے جہاں انہیں بتایا گیا کہ ان کے پاس پانی نہیں اور اب پانی سخی حسن اسٹیشن سے منگوایا جارہا ہے۔

ٹرائبیونل کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ قربان علوی نے بیانات قلمبند کئے۔

جسٹس علوی کے استفسار پر شاہد بھائیلہ نے بتایا فیکٹری کے مالی معاملات ایک ٹھیکیدار کے حوالے کئے گئے تھے اور وہ نہیں جانتے کہ اس دن ملازمین کو آجرت دی جارہی تھی یا نہیں۔

دونوں بھائیوں نے بتایا کہ فیکٹری کے پاس انتظامی طور پر بین الاقوامی سرٹیفکیٹ ہے جس کے مطابق فیکٹری کے تمام انتظامات بین الاقوامی معیار کے تحت چلائے جارہے تھے۔

اس حصے سے مزید

ایم کیو ایم کا کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل پر احتجاج

شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ کے رہنماؤں نے تحفظ پاکستان آرڈیننس کو کالا قانون قرار دیا۔

علماء و مشائخ کنونشن میں مذہب کے نام پر ناانصافی کی مذمت

کنونشن میں حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ ان افراد کے خلاف کارروائی کرے، جو شدت پسندی اور دیگر واقعات میں ملوث ہیں۔

خیرپور میں گیس پائپ لائن دھماکے سے تباہ

پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد سندھ کے مختلف شہروں میں گیس کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے