23 اگست, 2014 | 26 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

کوئٹہ: جیالوجیکل سروے آف پاکستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہلاک

جیالوجیکل سروے آف پاکستان کی ویب سائٹ کا ایک عکس۔ بشکریہ جیالوجیکل سروے آف پاکستان

کوئٹہ: کوئٹہ میں سروے آف پاکستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو بدھ کے روز ہلاک کردیا گیا۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں آج صبح سویرے سریاب روڈ  پر سروے آف پاکستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر گھر سے دفتر جارہے تھے کہ موڑ پر گاڑی آہستہ ہوئی تو موٹر سائکل سواروں نے گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔

خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینیئر پولیس اہلکار نے بتایا کہ ماہرِ ارضیات محسن علی نقوی کو سریاب روڈ پر واقع جیالوجیکل سروے آف پاکستان کے گیٹ پر قتل کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق، جیالوجیکل سروے آف پاکستان کے گیٹ پر موٹر سائیکل پر سوار دو افراد ان کا انتظار کررہے تھے اور انہوں نے محسن علی نقوی کو بہت قریب سے نشانہ بنایا۔

حملہ آوروں نے ان کے سر کو نشانہ بنایا۔ نقوی کا تعلق کراچی سے تھا۔

اس حصے سے مزید

تربت:سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 16عسکریت پسند ہلاک

فرنٹئیر کور کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن میں اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد کیا ہے۔

سرحد پار سے عسکریت پسندوں کا حملہ، سیکورٹی اہلکار ہلاک

ترجمان فرنٹیئر کور کے مطابق ستر سے زائد دہشت گرد پاکستانی سرحد بلوچستان کے ضلع سیف اللہ میں داخل ہوئے۔

کوئٹہ: ایف سی کی کارروائی، بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد

ملزمان کے قبضے سے اینٹی ٹینک مائنز، ایم ایم میزائل، مارٹر رائنڈز، ہینڈ گرنیڈز اور ڈیٹو نیٹرز برآمد ہوئے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

Mohammad jehangir
26 ستمبر, 2012 11:02
طالبانی دہشتگردوں اور ان کے ساتھیوں نے ہمارے پیارے ملک کو جہنم بنا دیا ہے، 42ہزار کے قریب معصوم اور بے گناہ لوگ اپنی جان سے گئے،پاکستان کی اقتصادیات آخری ہچکیاں لے رہی ہے اور داخلی امن و امان کی صورتحال دگرگوں ہے۔ مذہبی انتہا پسندی عروج پر ہے۔فرقہ ورانہ قتل و غارت گری کا ایک بازار گرم ہے اور کو ئی اس کو لگام دینے والا نہ ہے۔ طالبان ،لشکر جھنگوی، جندوللہ اور القائدہ ملکر پاکستان بھر میں دہشت گردی کی کاروائیاں کر رہے ہیں اور ملک کو فرقہ ورانہ فسادات کی طرف دہکیلنا چاہتے ہیں۔ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں بی ایل اے کے علاوہ لشکر جھنگوی بھی شامل ہے۔ اس سے پہلے گلگت میں فرقہ ورانہ فساد کرائے گئے اور مسلمانوں کا خون ناحق بہایا گیا،کوئٹہ اور ملک کے دوسرےحصوں میں شیعہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعہ قتل کیا جا رہا ہے۔فرقہ واریت پاکستان کے لئے زہر قاتل ہے۔ فرقہ واریت پھیلانے والوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو ملک میں خانہ جنگی شروع ہوجانے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان اور اسلام کے دشمن یہی چاہتے ھیں کہ شعیہ سنی فسادات کو ہوا دی جائے اور اس طرح اس ملک کے ٹکڑے کر دئے جائیں۔ موجودہ اشتعال انگیز فضا میں خدانخواستہ فرقہ واریت کا کوئی بڑا سانحہ ، کسی وقت بھی رونما ہو سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال کا فائدہ صرف اور صرف دہشت گردوں کو پہنچ رہا ہے اور پہنچے گا۔ فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں رسول اکرم کی تعلیمات میں کہیں بھی دوسرے مذاہب اورعقائدکے ماننے والوںکی گردنیں اڑانے کادرس نہیں ملتابلکہ سرکاردوعالمؐ نے تودوران جنگ کلمہ طیبہ پڑھ لینے والے کافرکوبھی قتل کرنے پرناراضی کا اظہارکیا لیکن بدقسمتی سے آج اسلام کی شکل کوبگاڑاجارہاہے، چند انتہاپسند عناصر پاکستان میں نہ صرف شیعہ مسلموں بلکہ غیرمسلموں کو زیادتیوں کانشانہ بنارہے ہیں، آج دنیابھرمیں اسلام کوبدنام کیاجارہاہے اوردنیاکواسلام اورمسلمانوں کی غلط تصویرپیش کرنے کاجوازمل رہاہے۔ خدا اور اس کے رسول کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے گناہوں اور معصوم بچوں،مردوں اور عورتوں کا خون بے دریغ اور ناحق بہایا جا رہا ہےاور وہ بھی اسلام نافذ کرنے کے نام پر۔ سکولوں ،مساجد اور امام بارگاہوں کو تباہ کیا جا رہا ہے اور افواج پاکستا ن اور پتولیس اور تھانوں پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ کون سا اسلام ان چیزوں کی اجازت دیتا ہے؟ ملک کا وجود ان دہشت گردوں نے خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اسلام کے نام پر بننے والا پاکستان آج دہشستان بن گیا ہے اور ہر سو ظلم و دہشت اور افرا تفری کا راج ہےاور ہم سب پھر بھی خاموش ہیں،آخر کیوں؟ یہ دہشت گرد مسلمان نہیں بلکہ ڈاکو اور لٹیرے ہیں ، اسلام کے مقدس نام کو بدنام کر رہے ہیں۔ مسلمان تو کیا غیر مسلموں کو بھی اسلام سے متنفر کر رہے ہیں۔ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲) ................................................. پڑہئیے گااقبال جہانگیر کا تازہ ترین بلاگ : گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج http://www.awazepakistan.wordpress.com
سروے
مقبول ترین
قلم کار

کچھ جوابات

وزیر اعظم کا اعلان کردہ کمیشن مسئلے سلجھانے کے بجائے زیادہ الجھا دے گا۔

بڑھتی مایوسی

مایوسی تب اور بڑھتی ہے جب عوام دیکھتے ہیں کہ حکمران عوامی پیسے سے اپنے کام چلانے میں شرم بھی محسوس نہیں کرتے۔

بلاگ

پاکستان ایک "ساس" کی نظر سے

68 سالہ جین والر کو پاکستان بہت پسند آیا، اتنا زیادہ کہ بقول ان کے مجھے پاکستان سے محبت ہوگئی ہے۔

مووی ریویو: گارڈینز آف گیلیکسی ایک ویژول ٹریٹ ہے

جو یادوں کے ایسے دور میں لے جاتی ہے جب ایکشن کے بجائے مزاح کسی کامک کا سرمایہ اور اسے بیان کرنے کا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔

اب مارشل لاء کیوں ناممکن؟

ایوب، ضیاء اور مشرّف، تینوں ہی مغربی قوّتوں کے جغرافیائی سیاسی کھیلوں میں اسٹریٹجک کردار کے بدلے جیتے تھے۔

عمران خان کے نام کھلا خط

گزشتہ ایک ہفتے کے واقعات پی ٹی آئی ورکرز کی تمام امیدوں اور توقعات کو بچکانہ، سادہ لوح اور غلط ثابت کر رہے ہیں۔