01 ستمبر, 2014 | 5 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

کوئٹہ: جیالوجیکل سروے آف پاکستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہلاک

جیالوجیکل سروے آف پاکستان کی ویب سائٹ کا ایک عکس۔ بشکریہ جیالوجیکل سروے آف پاکستان

کوئٹہ: کوئٹہ میں سروے آف پاکستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو بدھ کے روز ہلاک کردیا گیا۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں آج صبح سویرے سریاب روڈ  پر سروے آف پاکستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر گھر سے دفتر جارہے تھے کہ موڑ پر گاڑی آہستہ ہوئی تو موٹر سائکل سواروں نے گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔

خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینیئر پولیس اہلکار نے بتایا کہ ماہرِ ارضیات محسن علی نقوی کو سریاب روڈ پر واقع جیالوجیکل سروے آف پاکستان کے گیٹ پر قتل کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق، جیالوجیکل سروے آف پاکستان کے گیٹ پر موٹر سائیکل پر سوار دو افراد ان کا انتظار کررہے تھے اور انہوں نے محسن علی نقوی کو بہت قریب سے نشانہ بنایا۔

حملہ آوروں نے ان کے سر کو نشانہ بنایا۔ نقوی کا تعلق کراچی سے تھا۔

اس حصے سے مزید

بلوچستان میں بارہ مشتبہ عسکریت پسند کی ہلاکت کا دعویٰ

گومازئی میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا جس کے نتیجے میں بارہ مشتبہ شرپسند ہلاک ہوگئے۔

بلوچستان: مختلف علاقوں میں فائرنگ، چار افراد ہلاک

کوہلو، ڈیرہ مراد جمالی اور قلعہ عبداللہ میں نامعلوم مسلح افراد کی ٹارگٹ کلنگ سے دو افراد زخمی بھی ہوئے۔

بلوچستان: ذکری فرقے کے چھ افراد سمیت نو ہلاک

حکام کے مطابق مسلح افراد نے ذکری فرقے سے تعلق والے افراد پر اس وقت فائرنگ کردی جب وہ ایک عبادت گاہ میں موجود تھے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

Mohammad jehangir
26 ستمبر, 2012 11:02
طالبانی دہشتگردوں اور ان کے ساتھیوں نے ہمارے پیارے ملک کو جہنم بنا دیا ہے، 42ہزار کے قریب معصوم اور بے گناہ لوگ اپنی جان سے گئے،پاکستان کی اقتصادیات آخری ہچکیاں لے رہی ہے اور داخلی امن و امان کی صورتحال دگرگوں ہے۔ مذہبی انتہا پسندی عروج پر ہے۔فرقہ ورانہ قتل و غارت گری کا ایک بازار گرم ہے اور کو ئی اس کو لگام دینے والا نہ ہے۔ طالبان ،لشکر جھنگوی، جندوللہ اور القائدہ ملکر پاکستان بھر میں دہشت گردی کی کاروائیاں کر رہے ہیں اور ملک کو فرقہ ورانہ فسادات کی طرف دہکیلنا چاہتے ہیں۔ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں بی ایل اے کے علاوہ لشکر جھنگوی بھی شامل ہے۔ اس سے پہلے گلگت میں فرقہ ورانہ فساد کرائے گئے اور مسلمانوں کا خون ناحق بہایا گیا،کوئٹہ اور ملک کے دوسرےحصوں میں شیعہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعہ قتل کیا جا رہا ہے۔فرقہ واریت پاکستان کے لئے زہر قاتل ہے۔ فرقہ واریت پھیلانے والوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو ملک میں خانہ جنگی شروع ہوجانے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان اور اسلام کے دشمن یہی چاہتے ھیں کہ شعیہ سنی فسادات کو ہوا دی جائے اور اس طرح اس ملک کے ٹکڑے کر دئے جائیں۔ موجودہ اشتعال انگیز فضا میں خدانخواستہ فرقہ واریت کا کوئی بڑا سانحہ ، کسی وقت بھی رونما ہو سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال کا فائدہ صرف اور صرف دہشت گردوں کو پہنچ رہا ہے اور پہنچے گا۔ فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں رسول اکرم کی تعلیمات میں کہیں بھی دوسرے مذاہب اورعقائدکے ماننے والوںکی گردنیں اڑانے کادرس نہیں ملتابلکہ سرکاردوعالمؐ نے تودوران جنگ کلمہ طیبہ پڑھ لینے والے کافرکوبھی قتل کرنے پرناراضی کا اظہارکیا لیکن بدقسمتی سے آج اسلام کی شکل کوبگاڑاجارہاہے، چند انتہاپسند عناصر پاکستان میں نہ صرف شیعہ مسلموں بلکہ غیرمسلموں کو زیادتیوں کانشانہ بنارہے ہیں، آج دنیابھرمیں اسلام کوبدنام کیاجارہاہے اوردنیاکواسلام اورمسلمانوں کی غلط تصویرپیش کرنے کاجوازمل رہاہے۔ خدا اور اس کے رسول کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے گناہوں اور معصوم بچوں،مردوں اور عورتوں کا خون بے دریغ اور ناحق بہایا جا رہا ہےاور وہ بھی اسلام نافذ کرنے کے نام پر۔ سکولوں ،مساجد اور امام بارگاہوں کو تباہ کیا جا رہا ہے اور افواج پاکستا ن اور پتولیس اور تھانوں پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ کون سا اسلام ان چیزوں کی اجازت دیتا ہے؟ ملک کا وجود ان دہشت گردوں نے خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اسلام کے نام پر بننے والا پاکستان آج دہشستان بن گیا ہے اور ہر سو ظلم و دہشت اور افرا تفری کا راج ہےاور ہم سب پھر بھی خاموش ہیں،آخر کیوں؟ یہ دہشت گرد مسلمان نہیں بلکہ ڈاکو اور لٹیرے ہیں ، اسلام کے مقدس نام کو بدنام کر رہے ہیں۔ مسلمان تو کیا غیر مسلموں کو بھی اسلام سے متنفر کر رہے ہیں۔ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲) ................................................. پڑہئیے گااقبال جہانگیر کا تازہ ترین بلاگ : گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج http://www.awazepakistan.wordpress.com
سروے
مقبول ترین
قلم کار

احتیاطی نظربندی کا غلط قانون

فوجی اور سویلین حکومتوں نے باقاعدگی سے احتیاطی نظربندی کو اپنے مخالفین کو خاموش کرنے اوردھمکانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

توجہ طلب شعبہ

بجلی کی لائنیں لگانے اور مرمت کرنے کو دنیا کے دس خطرناک ترین پیشوں میں شمار کیا جاتا ہے-

بلاگ

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔

تاریخ کی تکرار

پولیس پر تشدد اور دہشت گردی کا الزام لگانے والے کیا اپنے گھروں پر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو چڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آبی مسائل کا ذمہ دار ہندوستان یا خود پاکستان؟

پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ پچھلے 5 عشروں سے پانی کے وسائل کی خراب مینیجمنٹ ہے۔

نوازشریف: قوت فیصلہ سے محروم

نواز شریف اپنے بادشاہی رویے کی وجہ سے پھنس چکے ہیں، جو فیصلے انہیں چھ ماہ پہلے کرنے چاہیے تھے وہ آج کر رہے ہیں۔