21 اگست, 2014 | 24 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

کالا دیو عرف برقع

حواس باختہ احتجاج، دل ہلا دینے والی چیزوں اور وزیراعظم سے متعلق تجسس کے درمیان ایک ہی خوشی کی خبر تھی اور وہ یہ کہ کرینہ کپور سیف علی خان سے شادی کے بعد مسلمان ہوجائیں گی۔

صد شکر کہ عالم اسلام بھی جمالیات کی روشنی سے منور ہوجائے گا۔

یعنی یہ امید رکھنا بھی تسکین کا باعث ہے کہ آئندہ اسلامی نظریہ حیات و شخصیات سے متعلق احتجاج کے دوران ہم برانگیختہ ملاؤں، بے روز گاری کے مارے بدحواس نوجوانوں اور خود ساختہ ٹی وی دانشوروں کے علاوہ پری چہروں کو بھی "لقمہ احتجاج" بنا دیکھیں گے۔

خدا نخواستہ ایسا نہیں کہ عالم اسلام میں حسن کی کوئی کمی ہے۔ ہرگز نہیں! دراصل یہاں حسن و جمال کی تمام تر رعنائیوں کو ایک کالا دیو کھا جاتا ہے جسے عرف عام میں برقع کہتے ہیں۔

غالب سے معذرت کے ساتھ

"برقع میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں"

اب ایسا بھی نہیں کہ تمام صورتیں برقع نگل جاتا ہے۔ بہت سی اٹھکیلیاں لیتی جوانیاں اور بھی ہیں، لیکن بد قسمتی سے وہ احتجاج میں یوں شرکت نہیں کرتی جیسا کہ احتجاج کرنے کا حق ہے۔

جمال کے یہ پیکر صرف دو چیزوں میں دلچسپی لیتے ہیں، غریب عورتوں کے ساتھ کوئی انہونی ہوجائے اور ڈالروں کی بھرمار ہوجائے۔

جی ہاں! یہ حسن کے پیکر این جی اوز سے تعلق رکھتے ہوئے امریکہ اور یورپ کے خلاف احتجاج نہیں کرتے۔

بات دور نکل گئی لیکن مجھے کرینہ کپور کے تبدیلی مذہب سے (جس کی خبر سے میں وارفتہ ہوگیا ہوں) پیپلز پارٹی کی حکومت کا یوٹرن یاد آگیا جو اس نے ایک کم بخت خط سے متعلق اپنایا ہے۔

وہ خط جس کا متن بھی شاید کسی ذہن میں واضح نہیں لیکن اس نے زرداری حکومت کو ساڑھے چار سال سے سہارا دیا ہوا ہے اور جو اب اگلے الیکشن میں جانے کی تیاری کررہے ہیں۔

تاہم دو منتقم مزاج صحافی لمبی چھٹی کے بعد "موت کا منظر" لیے پھر منظر عام پر وارد ہوچکے ہیں۔ دونوں غیر ملکی شہریت رکھتے ہیں اور ان میں سے ایک ناکام ڈاکٹر جبکہ دوسرا آئی ایس آئی کے ہاتھوں پٹا ہوا صحافی ہے۔

دونوں بے سرو پا باتیں کرتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ ایک جہاز کہیں کھڑا ہے، زرداری کے دن تھوڑے ہیں، لوگ کہیں بھاگنے کی تیاری کررہے ہیں، لسٹیں تیار ہورہی ہیں وغیرہ وغیرہ۔

گو اب ناکام ڈاکٹر مگر خود ساختہ صحافی آیات کے سہارے لے کر اپنے نوحہ کو موثر بنانے کی کوشش کررہا ہے مگر مزے کی بات یہ ہے کہ یہ دونوں صحافی کچھ عرصہ قبل تک صدر سے ملنے اور ان کی نظر کرم کے لیے پاپڑ بیلتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ جہاں ایک اسلام آباد کے ایک فائیواسٹار ہوٹل میں ٹھہرے رہی تو دوسرے ایوان صدر تک جاکر بیٹھے رہے۔

صدر صاحب دونوں سے نہیں ملے سو زہر جو وہ پہلے ہی اگل رہے تھے غصے اور ہزیمت میں بدل گیا۔

دراصل شخصی حکومتوں کے زیر اثر رہتے رہتے یہ صحافی اتنے اذیت پسند ہوچکے ہیں کہ انہیں یاد ماضی چھوڑتا ہی نہیں!

مجھے صدر زرداری سے کوئی ہمدردی نہیں گو کہ میں ان کی سیاسی چالوں کا معترف ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ انہوں نے پاکستان میں سیاست کا انداز نہ صرف بدل دیا بلکہ مشکل بنادیا ہے تاہم یہ حضرات ایک ایسی عبوری حکومت کا خواب دیکھ رہے ہیں جو ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ہو اور اپنے دستوری دائرکار سے ہٹ کر لمبے وقت پر محیط ہو بقلم خود اپنی نادانیاں تحریر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ عبوری حکومت اللہ کے برگزیدہ اور یقیناً مردم گزیدہ لوگوں پر مشتمل ہوگی (جو کہیں نہ کہیں سے ہمیشہ پیدا ہوجاتے ہیں)۔  ٹی وی جرنلسٹوں سے زیادہ خوش خیال تو صرف روسی طوائفیں ہی ہوسکتی ہیں۔

صدر زرداری سماجی سطح پر کچھ نہیں دے سکے سوائے مہنگائی اور بے روز گاری کے، لیکن عالمی سطح پر پاکستان نے خود کو دوبارہ سے پوزیشن کرنا شروع کردیا ہے اور صوبوں کو زیادہ اختیارات بھی مل گئے ہیں۔

گوادر کا چین کو دیے جانا، ایران کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنا، ہندوستان کے ساتھ تجارتی رابطہ اور روس کے ساتھ نئے تعلقات کا استوار ہونا بہت اہم اقدامات ہیں۔

امید تو یہی کرنی چاہیے کہ تاریخ خود کو نہیں دہرائے گی۔ اگر ایسا ہوا تو ملک میں سیاسی خلفشار، بد امنی اور صوبائیت کا زہر سب کچھ نگل جائے گا۔ کچھ خوش فہم یہ کہتے ہیں کہ اگر غیر دستوری طریقہ سے کوئی نئی حکومت عمل میں لائی گئی تو عدلیہ اور میڈیا اس کا راستہ روکیں گے۔

عدلیہ کی بہت مجبوریاں ہیں جن میں سے ایک عوامی مقبولیت  ہے جو ایک حلقے کو بھونڈی بھی دکھائی دیتی ہے اور وہ اس کا اظہار بھی کرتا رہتا ہے۔ سوال ہہ ہے کہ اگر سیاستدان اس خبط میں مبتلا ہوسکتے ہیں تو کویی اور کیوں نہیں۔ سو ہم ابھی تک سلمان تاثیر کے قاتل کو سزا ملنے کے منتظر ہیں۔  میڈیا بہت سے ایسے معاملات میں جن پر اس کے مفادات کو ٹھیس پہنچتی ہو ہاتھ نہیں ڈالتا۔

جمہوری طریقہ سے نئے الیکشن کا انعقاد بہت بڑا واقعہ ہوگا اور اگر کسی بھی ادارے نے حد سے تجاوز کیا تو مارکس کی اس قول کو پھر سے زندہ کر جائے گا کہ تاریخ خود کو پہلی بار ٹریجڈی بن کر دہراتی ہے لیکن دوسری مرتبہ مضحکہ خیز کامیڈی بن کر۔

 

ذیشان حسین ٹی وی پروڈیوسر ہیں جو فلسفہ، ادب اور سیاست میں دلچسپی رہتے ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے بند ہیں.

تبصرے (7)

پاکستانی عورت
26 ستمبر, 2012 13:25
یہ ایک خالصتا پاکستانی اور سچے مسلمان مرد کے خیالات ہیں، جو اگر کوئی لڑکی مسلمان بنتی ہے تو خوشی سے پھولے نہیں سماتے اور اگر کوئی مسلمان لڑکی ہندو بنے تو پورے کا پورا مسلمان باہر آجاتا ہے. سوچیں کرینا کپور مسلمان ہوتیں اور کسی ہندو سے شادی کا فیصلہ کرتیں اور اپنا مذہب بدلنے کا فیصلہ بھی کرتیں تو دونوں ملکوں کے مسلمان کیا نہیں کرتے. یہاں تو پھر چھٹی ہوتی، لوگ مرتے، سینیما جلتے، آگ لگتی اور غیرت میں آکر مسلمان بھائی کیا کچھ نہیں کرتے اور پھر الزام حکومت پر آتا کہ امن امان اس کے کنٹرول میں نہیں ہے.
اقبال افغانی
26 ستمبر, 2012 16:20
بی بی یہ بلاگ ان ہی سچے مسلمان مرد بھاییوں کا ہی تو مذاق اڑانے کی لیے لکھا گیا ہے. خدرا اس بلاگ کو ایک بار پھر پڑھیے. 
لاریب
27 ستمبر, 2012 04:37
زیشان صاھب' یہ ملک اقبال کے نظریات سے بنا ہے. اپ اپنے مارکس کے فرسودہ نظریات کو یہاں اپلائی نہیں کر سکتے.
Truth Hurts
27 ستمبر, 2012 11:25
Zeeshan Hussain Quote ” Not that the Muslim Ummah is devoid of charm, it is just hidden in the black robe which once put on, serves as a great leveler like death for all women (whether charming or plain). Women lose their conspicuous characteristics in the robe” close quote. The order of covering themselves in robe (black or whatever) is a commandment in Islam for Pious and believing women and did your effort to mock this…. Lets see what Allah az zougal says in the Noble Quran on such situation Surat At- Taubah (Chapter 9 and verses 64-66) 64. The hypocrites fear lest a Soorah (chapter of the Quran) should be revealed about them, showing them what is in their hearts. Say: “(Go ahead and) mock! But certainly Allah will bring to light all that you fear.” 65. If you ask them (about this), they declare: “We were only talking idly and joking.” Say: “Was it at Allah (Suhan o talah), and His Ayat (proofs, evidences, verses, lessons, signs, revelations, etc.) and His Messenger (SAW) that you were mocking?” 66. Make no excuse; you have disbelieved after you had believed. If We pardon some of you, We will punish others amongst you because they were Mujrimoon (disbelievers, polytheists, sinners, criminals, etc.). So Fear Allah. May Allah forgive you….
فرید حیات
28 ستمبر, 2012 03:48
حیرت اور افسوس کا مقام ہے ایک ایسے شخص کو جس نے پاکستان کو ساڑھے چار سال میں‌ایک قبرستان میں ‌بدل ڈالا ہے اس کی حمایت میں‌اس قدر لمبا چوڑا مضمون باندھا گیا۔ زرداری اور اتحادی راج جس میں‌آسمان سے لاشیں ‌برس رہی ہیں‌اور زمین لہو اگل رہی ہے۔ نااہل اور چھوٹے لوگ اس ملک کی تقدیر سے کھیل رہے ہیں۔ ان کی حمایت کوئی حواس باختہ شخص ہی کر سکتا ہے۔ یہ مضمون پڑھ کر افسوس ہوا۔ کیا جمہورت کے نام پر کرپشن اور عوام سے غنڈہ گردی اسی کا نام جمہوریت ہے ؟ کچھ ہوش سے کا م لیں۔ یہ بتائیں دنیا میں ‌کس ریاست کے شہر ی قتل ہو رہے ہیں‌اور حاکم عیش کر رہے ہیں۔
نادیہ خان
28 ستمبر, 2012 14:47
بالکل پاکستان کے شہری قتل ہو رہے ہیں. اس سے پہلے عراق، پھر مصر کے ہورہے تھے پھر لیبیا کی بارے آیی اور اب شام کا نمبر ہے. تاہم اس دوران افغانستان اور پاکستان میں یہ بازار ہمیشہ ہی گرم رہا ہے. زرداری سے پہلی بھی اور اس سے پہلے بھی. پاکستان کو صرف زرداری نے ہی یہاں نہیں پہنچایا، اس میں ہم سب کا حصہ ہے اور ان کا خاص طور پر جنہوں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں.
ابرار احمد رانجھا
29 ستمبر, 2012 08:44
پاکستان ا سلام کے نام پر بنا تھا.برقع مسلمان عورت کی پہچان ہے.امریکی ا یجنٹو ں کو پتا ہونا چا ہیے کہ قائد اعظم نے امریکی صحا فی بیورلے نکولس کو انٹرویو میں فرمایا تھا ” ہمارا آ ئین قرآن ہے"۔
مقبول ترین
سروے
بلاگ

عمران خان کے نام کھلا خط

گزشتہ ایک ہفتے کے واقعات پی ٹی آئی ورکرز کی تمام امیدوں اور توقعات کو بچکانہ، سادہ لوح اور غلط ثابت کر رہے ہیں۔

جعلی انقلاب اور جعلی فوٹیجز

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی غیر آئینی حرکتوں کی وجہ سے اگر فوج آگئی تو چینلز ایسی نشریات کرنا بھول جائیں گے۔

!جس کی لاٹھی اُس کا گلّو

ہر دکاندار اور ریڑھی والے سے پِٹنا کوئی آسان عمل نہیں ہوگا شاید یہی وجہ ہے کہ سول نافرمانی کوئی آسان کام نہیں۔

ہمارے کپتانوں کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

اس بات کا پتہ لگانا مشکل ہے کہ مصباح الحق اور عمران خان میں سے زیادہ کون بچوں کی طرح اپنی غلطی ماننے سے انکاری ہے۔