19 اپريل, 2014 | 18 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

بلور کو انعام میں طالبان کی معافی

وفاقی وزیر برائے ریلوے غلام احمد بلور ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔ رائٹرز تصویر

پشاور: پاکستانی طالبان نے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے ریلوے غلام احمد بلور کو معافی دیتے ہوئے ان کا نام اپنی ہٹ لسٹ سے خارج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

غلام احمد بلور نے چند روز قبل گستاخ امریکی فلم ساز کو قتل کرنے والے کے لیے ایک لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے یہ کام کرنے کے لیے طالبان اور القاعدہ کو بھی پیشکش کی تھی۔

واضح رہے کہ مذکورہ دل آزار فلم کے باعث پاکستان سمیت دنیا کے متعدد اسلامی ملکوں میں شدید احتجاج شروع ہوگیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بدھ کو فون پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی طالبان کے ترجمان احسان اللہ نے وفاقی وزیر کو دی گئی معافی کی تصدیق کی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیر کے خیالات اسلام کی حقیقی روح کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسی لیے ان کا نام پاکستانی طالبان کی ہٹ لسٹ سے خارج کردیا گیا ہے۔

ترجمان نے وضاحت کی کہ وفاقی وزیر کی سیکولر جماعت کے وہ لوگ جو طالبان کی مخالفت کرتے ہیں، اس معافی کا فائدہ نہیں اٹھاسکیں گے۔

حکومتِ پاکستان پہلے ہی وفاقی وزیر کے بیان سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہہ چکی ہے کہ انعام کا اعلان اُن کا ذاتی فعل تھا اور یہ سرکاری پالیسی نہیں۔

خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ طالبان ترجمان کے اس بیان کے فوری بعد غلام احمد بلور سے رابطے کی کوشش کی گئی جو کامیاب نہیں ہوسکی۔

اس حصے سے مزید

پشاور: سیکورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ، اہلکار ہلاک

پشاور کے نواح میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر حملے میں کم از کم ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

خیبرپختونخوا میں پولیو مہم فوج کے سپرد

وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر خیبر پختونخوا میں پولیو کے خاتمے کی مہم پاک فوج کے سپرد کردی گئی۔

چینی سرمایہ کاروں کی خیبرپختونخواہ میں کام بند کرنے کی دھمکی

چینی سرمایہ کاروں کے نمائیندے نے الزام لگایا ہےکہ ضیاء اللہ آفریدی نامی مشیر ان کے کام میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔