23 جولائ, 2014 | 24 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

دس فیصد خواتین ووٹوں کی تجویز ناقابل عمل ہے ، ق لیگ

نگراں حکومت اٹھارہ مارچ کو قائم ہو گی، قمر زماں کائرہ۔ — اے پی پی فوٹو

اسلام آباد: حکمراں اتحاد میں شامل مسلم لیگ ق نے انتخابات میں خواتین کے کم از کم دس فیصد ووٹوں کی تجویز کو ناقابل عمل قرار دیا ہے۔

جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم کی زیر صدارت کمیشن اور تمام بڑی سیاسی جماعتوں کا اہم اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔

اجلاس میں عام انتخابات کے لیے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ق لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ نگراں وزیر اعظم کے لیے مشاورت کا عمل شروع نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس انتظامی اختیارات بھی ہونے چاہیں۔

پارٹی کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ کے حق کی حمایت کی لیکن ساتھ ہی وطن آکر حلقے میں ووٹ ڈالنے کی شرط بھی لگائی۔

مشاہد حسین نے بتایا کہ ان کی جماعت نے سیاسی جماعتوں کو ریاستی فنڈنگ کی بھی تجویز دی ہے۔

دوسری جانب، وفاقی وزیراطلاعات ونشریات قمرزمان کائرہ نے کہا کہ اٹھارہ مارچ کو نگراں حکومت کا قیام عمل میں آئے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ نگران حکومت پر اتفاق رائے نہ ہونے پر بھی انتخابات میں دیر نہیں ہو گی۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت شفاف انتخابات کرانا چاہتی ہے، جس کے لیے الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے تجویزیں طلب کی ہیں۔

انہوں نے الیکشن کمیشن کی طرف سے مشاورت کوخوش آئند قراردیا اور کہا کہ کمیشن کی نیت پر شک نہیں جاسکتا۔

کائرہ نے دعوی کیا کہ انتخابات میں حصہ لینے والےننانوے فیصد امیدواروں کو دہری شہریت کے قانون کا علم ہی نہیں تھا لہذا انہوں  نے ناسمجھی میں کاغذات نامزدگی پردستخط کردیے

اس حصے سے مزید

چوہدری نثار سے امریکی سفیر رچرڈ اولسن کی ملاقات

خطے میں استحکام کے لیے پاک امریکہ تعاون اور رابطہ کاری کو فروغ دینا ہوگا، وزیر داخلہ چوہدری نثار۔

زرداری-بائیڈن ملاقات پرافواہیں

ایک سماجی تقریب میں سابق صدر کے امریکی نائب صدر سےطے شدہ افطار- ڈنر کی خبروں نے سیاسی ماحول گرما دیا۔

'وزرائے اعلیٰ نجکاری عمل پر ہوشیار رہیں'

رضا ربانی نے چاروں وزرائے اعلیٰ کو ایک خط کے ذریعے صوبائی مفادات کے تحفظات کیلئے اقدامات اٹھانے کو کہا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

کیا بڑا بہتر ہے؟

ہم اپنی جنوب ایشیائی شناخت سے پیچھا کیوں چھڑانا چاہتے ہیں جو تاریخی اعتبار سے عرب کے مقابلے میں کہیں زیادہ مالامال ہے؟

بلاگ

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-

مووی ریویو: پیزا - پلاٹ اچھا ہے

اگرچہ سکرین پلے کافی کمزور ہے مگر فلم کی کہانی میں آنے والے موڑ دیکھنے والوں کی دلچسپی برقرار رکھتے ہیں۔

جہادی برائے فروخت

اگر اب بھی سمجھ نہ آئی تو پاکستان کا حشر بھی عراق و شام سے مختلف نہیں ہوگا۔