23 ستمبر, 2014 | 27 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

کراچی دہشت گردی کا مرکز بن گیا ہے: چیف جسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری۔ فوٹو آن لائن

کراچی: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے دہشت گردوں کو انجام تک نہ پہنچانے کا الزام کمزور استغاثہ اور ناقص تحقیقات پر دیتے ہوئے کہا کہ قانون کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

جمعے کے دن سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے منظم بین الاقوامی سیمینار 'قانون کے ذریعے دہشت گردی کا مقابلہ' کے افتتاحی اجلاس میں چیف جسٹس نے خطاب کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی پوری دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے جس سے پاکستان بھی متاثر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف قانون بنانے سے کچھ نہیں ہوگا، اس کی روح کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے سے بات بنے گی۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آگر دہشت گردی کے خلاف بنائے گئے قانون پر صحیح طریقے سے عمل کیا جائے تو ملک میں دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی کاروائیاں فنڈنگ کے بغیر نہیں ہوسکتیں۔

انہوں نے پیسوں کے لین دین کے حوالے سے قانون پر کڑی مانیٹرنگ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ الیکٹرونگ لین دین کے حوالے سے بنے قانون کو بہترمفید بنانا چاہیے۔

افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ سائبر کرائم دہشت گردی کی خطرناک قسم ہے اور اب موبائل فون بھی دھماکوں میں استعمال کیے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کے ججوں نے ہر محاذ پر دہشت گردی کیخلاف آواز بلند کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی جو کاروبار اور تجارت کا مرکز تھا اب دہشت گردی کا مرکز بن گیا ہے اور یہی وجہ ہے عدالت میں اس کا ازخود نوٹس لیا گیا ہے تاکہ پولیس کو سیاست سے پاک کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ تقرریوں اور پوسٹنگ کے عمل میں سیاسی اثر و رسوخ کو ختم کیا جانا چاہیے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے بار بار اپنے فیصلے میں اس بات کو واضع کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں کا ایمانداری کے ساتھ کام نہایت ضروری ہے۔

اس موضوع پر مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ کالی بھیڑیں ہر ادارے میں ہوتیں ہیں اور ان سے نہ صرف اس ادارے کو تقصان پہنچتا ہے بلکہ کمیونٹی بھی نقصان اٹھاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور عقیدہ نہیں ہوتا اور وہ صرف اپنے مقاصد کا حصول چاہتے ہیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی پوری دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے اور نائن الیون کے بعد سے دنیا کو نئی قسم کی دہشت گردی کا سامنا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ریاست اور ادارے بھی لسانی،مذہبی اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کا شکار ہورہے ہیں۔ پاکستانی قوم انصاف کی سربلندی پر یقین رکھتی ہے اور دہشت گردی کیخلاف پوری قوم متحد ہے۔

اس حصے سے مزید

کراچی یونیورسٹی میں تدریسی عمل بحال کرنے کا فیصلہ

یونیورسٹی کی جنرل باڈی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کل سے جامعہ میں تدریسی عمل بحال کردیا جائے گا۔

دو سال کے لیے ٹیکنو کریٹس کی حکومت قائم کی جائے، الطاف حسین

لندن میں گورنر پنجاب کے ساتھ ملاقات کے دوران متحدہ کے قائد نے کہا کہ ثالثی کے لیے چوہدری سرور مناسب شخصیت ہیں۔

پیپلزپارٹی ایم پی اے کا گن پوائنٹ پر استعفی لینے کا الزام

پروین جونیجو نے گزشتہ برس کے عام انتخابات میں دادو سے پی ایس 76 سے کامیابی حاصل کی تھی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

سوشلزم کیوں؟

اگر ہم مسلسل بحث کرسکتے ہیں کہ جمہوریت کیوں نہیں، شریعت کیوں نہیں، تو اس سوال پر بھی بحث ضروری ہے کہ سوشلزم کیوں نہیں؟

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

بلاگ

مووی ریویو: 'خوبصورت' - فواد اور سونم کی خوبصورت کہانی

اپنے پُر مزاح کرداروں کے باوجود فلم شوخ اور رومانٹک ڈرامہ ہے، جسے آپ باآسانی ڈزنی کی طلسماتی کہانی کہہ سکتے ہیں-

کراچی میں بجلی کا مسئلہ اور نیپرا کا منفی کردار

اپنی نااہلی کی وجہ سے نیپرا نے بیرونی سرمایہ کاروں کو مشکل میں ڈال رکھا ہے، جن میں سے کچھ تو کام شروع کرنے کو تیار ہیں۔

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔