20 اپريل, 2014 | 19 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

کراچی دہشت گردی کا مرکز بن گیا ہے: چیف جسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری۔ فوٹو آن لائن

کراچی: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے دہشت گردوں کو انجام تک نہ پہنچانے کا الزام کمزور استغاثہ اور ناقص تحقیقات پر دیتے ہوئے کہا کہ قانون کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

جمعے کے دن سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے منظم بین الاقوامی سیمینار 'قانون کے ذریعے دہشت گردی کا مقابلہ' کے افتتاحی اجلاس میں چیف جسٹس نے خطاب کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی پوری دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے جس سے پاکستان بھی متاثر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف قانون بنانے سے کچھ نہیں ہوگا، اس کی روح کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے سے بات بنے گی۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آگر دہشت گردی کے خلاف بنائے گئے قانون پر صحیح طریقے سے عمل کیا جائے تو ملک میں دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی کاروائیاں فنڈنگ کے بغیر نہیں ہوسکتیں۔

انہوں نے پیسوں کے لین دین کے حوالے سے قانون پر کڑی مانیٹرنگ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ الیکٹرونگ لین دین کے حوالے سے بنے قانون کو بہترمفید بنانا چاہیے۔

افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ سائبر کرائم دہشت گردی کی خطرناک قسم ہے اور اب موبائل فون بھی دھماکوں میں استعمال کیے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کے ججوں نے ہر محاذ پر دہشت گردی کیخلاف آواز بلند کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی جو کاروبار اور تجارت کا مرکز تھا اب دہشت گردی کا مرکز بن گیا ہے اور یہی وجہ ہے عدالت میں اس کا ازخود نوٹس لیا گیا ہے تاکہ پولیس کو سیاست سے پاک کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ تقرریوں اور پوسٹنگ کے عمل میں سیاسی اثر و رسوخ کو ختم کیا جانا چاہیے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے بار بار اپنے فیصلے میں اس بات کو واضع کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں کا ایمانداری کے ساتھ کام نہایت ضروری ہے۔

اس موضوع پر مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ کالی بھیڑیں ہر ادارے میں ہوتیں ہیں اور ان سے نہ صرف اس ادارے کو تقصان پہنچتا ہے بلکہ کمیونٹی بھی نقصان اٹھاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور عقیدہ نہیں ہوتا اور وہ صرف اپنے مقاصد کا حصول چاہتے ہیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی پوری دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے اور نائن الیون کے بعد سے دنیا کو نئی قسم کی دہشت گردی کا سامنا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ریاست اور ادارے بھی لسانی،مذہبی اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کا شکار ہورہے ہیں۔ پاکستانی قوم انصاف کی سربلندی پر یقین رکھتی ہے اور دہشت گردی کیخلاف پوری قوم متحد ہے۔

اس حصے سے مزید

سکھر: بس- ٹرالر میں تصادم، 41 افراد ہلاک

حادثہ اس وقت پیش آیا جب کراچی سے ڈیرہ غازی خان جانے والی بس پنوں عاقل کے قریب سامنے سے آنے والے ٹریلرسے ٹکراگئی۔

اقوامِ متحدہ نے اپنے دوکارکن لاپتہ ہونے کی تصدیق کردی

اقوامِ متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسیف کے مقامی ارکان کراچی کے باہر ایک تفریحی مقام سے لاپتہ ہوئے ہیں۔

معروف صحافی حامد میر قاتلانہ حملے میں زخمی

سینئر صحافی اور مایہ ناز ٹیلی ویژن اینکر پرسن حامد میر قاتلانہ حملے میں زخمی ہو گئے، حالت خطرے سے باہر۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

دنیاۓ صحافت: داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

ایک فوجی کی طرح صحافی کو بھی ہرگز اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا، یہ سوچنا کہ یہ ہماری جنگ نہیں، سراسر حماقت ہے-

2 - پاکستان کی شہری تاریخ ... ہمیں سب ہے یاد ذرا ذرا

بھٹو حکومت کے ابتدائی سالوں میں قوم کا مزاج یکسر تبدیل ہو گیا تھا، کیونکہ ملک ایک نئے پاکستان کی طرف بڑھ رہا تھا-

سچ، گولی اور بے بس جرنلسٹ

حامد میر پر حملہ ایک بار پھر صحافی برادری کی بے بسی کی طرف اشارہ کرتا ہے

دو قومی نظریہ اور ہندوستانی اقلیتیں

دو قومی نظریہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں تو تفریق کرتا ہے لیکن دیگر اقلیتوں، خاص کر دلتوں کو یکسر فراموش کرتا ہے۔