01 ستمبر, 2014 | 5 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

'آئی ایس آئی کھر، بلاول مخالف مہم میں ملوث نہیں'

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین، بلاول بھٹو زرداری۔ —فائل تصویر

اسلام آباد: پاکستان فوج نے ایک برطانوی اخبار کی اس رپورٹ کی سختی سے تردید کی ہے جس میں  کہا گیا ہے کہ  وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور بلاول بھٹو زرداری کو بدنام کرنے کی مہم  میں آئی ایس آئی ملوث ہے۔

پاکستان فوج کے میڈیا ونگ آئی ایس پی آر نے ٹیلیگراف کی رپورٹ  کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایس آئی پر  لگائے گئے الزامات  بے ہودہ ہیں۔

ترجمان  نے تردید کی ہے کہ  آئی ایس آئی  وزیر خارجہ اور بلاول کو بد نام کرنے کی کسی مہم کا حصہ ہے۔

ترجمان کے مطابق  کھر اور  آئی ایس آئی کے درمیان  کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ برطانوی اخبار کو ذمہ دارانہ رپورٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے خبر کی اشاعت سے پہلے  تصدیق کر لینا چاہیے تھی۔

ترجمان نے یہ بھی کہا کہ پاکستان برطانوی اخبار کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حقوق محفوظ رکھتا ہے۔

ٹیلی گراف نے جمعرات کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چند سینئیر رہنماؤں کے خیال میں آئی ایس آئی کھر سے ناخوش ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ خفیہ ایجنسی وزیر خارجہ کی بلاول بھٹو زرداری سے ممکنہ شادی کی افواہیں پھیلا کر انہیں بدنام کرنا چاہتی ہے۔

برطانوی اخبار کے مطابق پی پی پی کے ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی جبری گمشدگیوں پر اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کو پاکستان بلانے پر کھر سے ناراض ہے۔

اس حصے سے مزید

عمران، قادری کیخلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج

دونوں رہنماؤں کے خلاف ایس ایچ او محبوب احمد کی مدعیت میں سیکریٹریٹ پولیس تھانےمیں ایف آئی آر نمبر 182 31/8 درج کی گئی۔

وزیر اعظم اور آرمی چیف کی ملاقات ختم

وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے درمیان آج ہونے والی ملاقات ختم ہو گئی ہے۔

شاہراہِ دستور پر صحافت ایک جرم ہے

میڈیا کے نمائندے جو کچھ منظر میں ہوتا ہے، وہی ناظرین کو دکھاتے ہیں، لیکن شاہراہِ دستور پر ان کا یہ فرض جرم بن گیا تھا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

محمد عارف
06 اکتوبر, 2012 01:32
یہ افواہ نہیں ہے ۔ شادی ہو جائے گی ۔ جنہوں نے کرنی ہے ۔ وہ سکون سے صرف ملاقاتیں کر رہے ہیں ۔ دوسری دنیا کو پتہ نہیں کیا جلدی ہے ۔
سروے
مقبول ترین
قلم کار

احتیاطی نظربندی کا غلط قانون

فوجی اور سویلین حکومتوں نے باقاعدگی سے احتیاطی نظربندی کو اپنے مخالفین کو خاموش کرنے اوردھمکانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

توجہ طلب شعبہ

بجلی کی لائنیں لگانے اور مرمت کرنے کو دنیا کے دس خطرناک ترین پیشوں میں شمار کیا جاتا ہے-

بلاگ

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔

تاریخ کی تکرار

پولیس پر تشدد اور دہشت گردی کا الزام لگانے والے کیا اپنے گھروں پر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو چڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آبی مسائل کا ذمہ دار ہندوستان یا خود پاکستان؟

پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ پچھلے 5 عشروں سے پانی کے وسائل کی خراب مینیجمنٹ ہے۔

نوازشریف: قوت فیصلہ سے محروم

نواز شریف اپنے بادشاہی رویے کی وجہ سے پھنس چکے ہیں، جو فیصلے انہیں چھ ماہ پہلے کرنے چاہیے تھے وہ آج کر رہے ہیں۔