24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

لاڑکانہ میں ۹ نومولود بچوں کی ہلاکت

لاڑکانہ کے ایک ہسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد وزیرِ اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے نوٹس لے لیا ہے ۔ اے پی پی فوٹو

لاڑکانہ: چانڈکا میڈیکل کالج ہسپتال کے شعبہ زچہ بچہ میں گزشتہ بارہ گھنٹوں کے درمیان نو نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعات سامنے آنے پر گورنر، وزیرِ اعلیٰ اورصوبائی وزیرِ صحت نے تحقیات کا حکم دیا ہے۔

ہسپتال ذرائع نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے اس کا سبب بظاہر غفلت، غیر ذمہ داری اور سہولتوں کے فقدان کو ٹھہرایا ہے۔

لاڑکانہ میں سنیچر کوایک  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ پروفیسر افسر بھٹو، بچوں کے شعبے کے سربراہ پروفیسر سیف اللہ جامڑو اور لاڑکانہ کے ڈپٹی کمشنر اسداللہ بھٹو نے کہا کہ نومولود بچوں کی ہلاکتوں سے متعلق ابتدائی رپورٹ صوبائی حکومت کو بھیج دی گئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ کمیٹی تین دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ رپورٹ کی روشنی میں وجوہات کا تعین ہونے کے بعد ایسے اقدامات کرنے کی کوشش کی جائے گی جس سے مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جاسکے۔

ڈپنٹی کمشنر نے واضح کیا کہ واقعے کے متعلق تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ ایک ہفدتے کے اندر سندھ حکومت کو بھیج دی جائے گی۔

چانڈکا میڈیکل ہسپتال کے ریزیڈنٹ میڈیکل افسر ڈاکٹر عبدالستار شیخ کا کہنا ہے کہ نومولود بچوں کی ہلاکتوں کا سبب زچگی کی پیچیدگیاں ہوسکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا قبل از وقت پیدائش، اور کم وزن بھی اموات کی وجوہات میں شامل ہیں۔

ڈاکٹر ستار کے مطابق ہسپتال چالیس بستروں پر مشتمل ہے لیکن ایک سو ساٹھ مریض داخل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 'کیس کے نوعیت کے باعث ہم دور دراز سے ہسپتال پہنچنے والے کسی بھی مریض کو داخل کرنے سے  انکار نہیں کرسکتے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ 'اسٹاف میں کمی اور مریضوں کی تعداد زیادہ ہونے کے سبب اموات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ گنجائش نہ ہونے کے باعث ایک بیڈ پر پانچ پانچ مریض لیٹےہوئے ہیں۔ اس طرح کراس انفیکشن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

علاوہ ازیں، چانڈکا ہسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکتوں پر گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد نے محکمہ صحت کو واقعے کی تحقیات کے بعد رپورٹ بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے بھی سیکریٹری صحت سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کا کہنا ہے کہ اگر ڈاکٹر یا عملے کی غفلت پائی گئی تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر صغیر احمد نے بھی تحقیات کے لیے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر فیروزمیمن کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کردی ہے۔

اس حصے سے مزید

'این آر او کے تحت پندرہ سال تک مارشل لاء نافذ نہیں ہو سکتا'

شہلا رضا نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ، برطانیہ ، یواے ای اور جنرل پرویز اشفاق کیانی نےبھی اس کی گارنٹی دی تھی۔

کراچی: فائرنگ کے مختلف واقعات میں پانچ افراد ہلاک

دوسری جانب گودھرا میں ایک پولیس مقابلے میں مشتبہ ملزمان کی فائرنگ سے اے ایس آئی ہلاک ہوگیا۔

کراچی: مائی کولاچی روڈ پر ٹرالر اور ڈمپر میں تصادم، تین زخمی

بدھ کے روز علی الصبح ہونے والی ہلکی بارش سے سڑک پر پھسلن بڑھ جانے سے ڈمپر اور ٹرالر بے قابو ہوکر ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-