17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

لاڑکانہ میں ۹ نومولود بچوں کی ہلاکت

لاڑکانہ کے ایک ہسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد وزیرِ اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے نوٹس لے لیا ہے ۔ اے پی پی فوٹو

لاڑکانہ: چانڈکا میڈیکل کالج ہسپتال کے شعبہ زچہ بچہ میں گزشتہ بارہ گھنٹوں کے درمیان نو نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعات سامنے آنے پر گورنر، وزیرِ اعلیٰ اورصوبائی وزیرِ صحت نے تحقیات کا حکم دیا ہے۔

ہسپتال ذرائع نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے اس کا سبب بظاہر غفلت، غیر ذمہ داری اور سہولتوں کے فقدان کو ٹھہرایا ہے۔

لاڑکانہ میں سنیچر کوایک  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ پروفیسر افسر بھٹو، بچوں کے شعبے کے سربراہ پروفیسر سیف اللہ جامڑو اور لاڑکانہ کے ڈپٹی کمشنر اسداللہ بھٹو نے کہا کہ نومولود بچوں کی ہلاکتوں سے متعلق ابتدائی رپورٹ صوبائی حکومت کو بھیج دی گئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ کمیٹی تین دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ رپورٹ کی روشنی میں وجوہات کا تعین ہونے کے بعد ایسے اقدامات کرنے کی کوشش کی جائے گی جس سے مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جاسکے۔

ڈپنٹی کمشنر نے واضح کیا کہ واقعے کے متعلق تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ ایک ہفدتے کے اندر سندھ حکومت کو بھیج دی جائے گی۔

چانڈکا میڈیکل ہسپتال کے ریزیڈنٹ میڈیکل افسر ڈاکٹر عبدالستار شیخ کا کہنا ہے کہ نومولود بچوں کی ہلاکتوں کا سبب زچگی کی پیچیدگیاں ہوسکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا قبل از وقت پیدائش، اور کم وزن بھی اموات کی وجوہات میں شامل ہیں۔

ڈاکٹر ستار کے مطابق ہسپتال چالیس بستروں پر مشتمل ہے لیکن ایک سو ساٹھ مریض داخل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 'کیس کے نوعیت کے باعث ہم دور دراز سے ہسپتال پہنچنے والے کسی بھی مریض کو داخل کرنے سے  انکار نہیں کرسکتے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ 'اسٹاف میں کمی اور مریضوں کی تعداد زیادہ ہونے کے سبب اموات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ گنجائش نہ ہونے کے باعث ایک بیڈ پر پانچ پانچ مریض لیٹےہوئے ہیں۔ اس طرح کراس انفیکشن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

علاوہ ازیں، چانڈکا ہسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکتوں پر گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد نے محکمہ صحت کو واقعے کی تحقیات کے بعد رپورٹ بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے بھی سیکریٹری صحت سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کا کہنا ہے کہ اگر ڈاکٹر یا عملے کی غفلت پائی گئی تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر صغیر احمد نے بھی تحقیات کے لیے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر فیروزمیمن کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کردی ہے۔

اس حصے سے مزید

علماء و مشائخ کنونشن میں مذہب کے نام پر ناانصافی کی مذمت

کنونشن میں حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ ان افراد کے خلاف کارروائی کرے، جو شدت پسندی اور دیگر واقعات میں ملوث ہیں۔

خیرپور میں گیس پائپ لائن دھماکے سے تباہ

پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد سندھ کے مختلف شہروں میں گیس کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔

کراچی کی دوسری خاتون پولیس ایس ایچ او

پولیس حکام نے ادارے میں صنفی توازن قائم کرنے کے لیے ایک اور خاتون کو سٹیشن ہاؤس افسر تعینات کیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟