02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

لاڑکانہ میں ۹ نومولود بچوں کی ہلاکت

لاڑکانہ کے ایک ہسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد وزیرِ اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے نوٹس لے لیا ہے ۔ اے پی پی فوٹو

لاڑکانہ: چانڈکا میڈیکل کالج ہسپتال کے شعبہ زچہ بچہ میں گزشتہ بارہ گھنٹوں کے درمیان نو نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعات سامنے آنے پر گورنر، وزیرِ اعلیٰ اورصوبائی وزیرِ صحت نے تحقیات کا حکم دیا ہے۔

ہسپتال ذرائع نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے اس کا سبب بظاہر غفلت، غیر ذمہ داری اور سہولتوں کے فقدان کو ٹھہرایا ہے۔

لاڑکانہ میں سنیچر کوایک  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ پروفیسر افسر بھٹو، بچوں کے شعبے کے سربراہ پروفیسر سیف اللہ جامڑو اور لاڑکانہ کے ڈپٹی کمشنر اسداللہ بھٹو نے کہا کہ نومولود بچوں کی ہلاکتوں سے متعلق ابتدائی رپورٹ صوبائی حکومت کو بھیج دی گئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ کمیٹی تین دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ رپورٹ کی روشنی میں وجوہات کا تعین ہونے کے بعد ایسے اقدامات کرنے کی کوشش کی جائے گی جس سے مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جاسکے۔

ڈپنٹی کمشنر نے واضح کیا کہ واقعے کے متعلق تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ ایک ہفدتے کے اندر سندھ حکومت کو بھیج دی جائے گی۔

چانڈکا میڈیکل ہسپتال کے ریزیڈنٹ میڈیکل افسر ڈاکٹر عبدالستار شیخ کا کہنا ہے کہ نومولود بچوں کی ہلاکتوں کا سبب زچگی کی پیچیدگیاں ہوسکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا قبل از وقت پیدائش، اور کم وزن بھی اموات کی وجوہات میں شامل ہیں۔

ڈاکٹر ستار کے مطابق ہسپتال چالیس بستروں پر مشتمل ہے لیکن ایک سو ساٹھ مریض داخل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 'کیس کے نوعیت کے باعث ہم دور دراز سے ہسپتال پہنچنے والے کسی بھی مریض کو داخل کرنے سے  انکار نہیں کرسکتے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ 'اسٹاف میں کمی اور مریضوں کی تعداد زیادہ ہونے کے سبب اموات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ گنجائش نہ ہونے کے باعث ایک بیڈ پر پانچ پانچ مریض لیٹےہوئے ہیں۔ اس طرح کراس انفیکشن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

علاوہ ازیں، چانڈکا ہسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکتوں پر گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد نے محکمہ صحت کو واقعے کی تحقیات کے بعد رپورٹ بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے بھی سیکریٹری صحت سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کا کہنا ہے کہ اگر ڈاکٹر یا عملے کی غفلت پائی گئی تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر صغیر احمد نے بھی تحقیات کے لیے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر فیروزمیمن کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کردی ہے۔

اس حصے سے مزید

وزیراعظم، وزیرداخلہ کی نااہلی کے لیے درخواست دائر

سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نواز شریف کو آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت نااہل قرار دیا جائے

کراچی: دو پولیس اہلکار ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک

آج صبح نامعلوم دہشت گردوں نے گشت پر مامور موٹر سائکل سوار پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا۔

اسلام آباد احتجاج میں ایم کیو ایم کی شرکت کا امکان

متحدہ قومی موومنٹ کے فاروق ستار کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے مظاہرین پر تشدد کا جاری رکھا تو ہمیں بھی سڑکوں پر آنا پڑے گا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

احتیاطی نظربندی کا غلط قانون

فوجی اور سویلین حکومتوں نے باقاعدگی سے احتیاطی نظربندی کو اپنے مخالفین کو خاموش کرنے اوردھمکانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

توجہ طلب شعبہ

بجلی کی لائنیں لگانے اور مرمت کرنے کو دنیا کے دس خطرناک ترین پیشوں میں شمار کیا جاتا ہے-

بلاگ

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔

تاریخ کی تکرار

پولیس پر تشدد اور دہشت گردی کا الزام لگانے والے کیا اپنے گھروں پر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو چڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آبی مسائل کا ذمہ دار ہندوستان یا خود پاکستان؟

پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ پچھلے 5 عشروں سے پانی کے وسائل کی خراب مینیجمنٹ ہے۔

نوازشریف: قوت فیصلہ سے محروم

نواز شریف اپنے بادشاہی رویے کی وجہ سے پھنس چکے ہیں، جو فیصلے انہیں چھ ماہ پہلے کرنے چاہیے تھے وہ آج کر رہے ہیں۔