24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

دوہری شہریت کیس میں رحمان ملک کے بیان پر جواب داخل

رحمان ملک۔ فائل تصویر

اسلام آباد: وفاق نے دوہری شہریت کیس میں وزیر داخلہ رحمان ملک کے مبینہ اخباری بیان پر سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا۔

دوہری شہریت کیس میں وزیر داخلہ رحمان ملک کے مبینہ اخباری بیان پر وفاق کا جواب ایڈوکیٹ نے آن ریکارڈ نے جمع کرایا۔

جواب میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیر داخلہ کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔

اس میں کہا گیا ہے کہ وزیر داخلہ نے اس قسم کا کوئی بیان نہیں دیا اور وزارت داخلہ بھی اس معاملے کی تردید کر چکی ہے۔

بیس ستمبر کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایسے تمام ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دے دیا تھا جو دوہری شہریت رکھتے ہیں جس میں رحمان ملک بھی شامل تھے۔

خیال رہے کہ انتیس ستمبر کو سپریم کورٹ نے دوہری شہریت سے متعلق رحمان ملک کو مبینہ اخباری بیان پر وضاحتی نوٹس جاری کیا تھا اور انہیں عدالت کے سامنے تین اکتوبر کو پیش ہونے کو کہا تھا۔

یہ نوٹس رحمان ملک کو ان کے اکیس اور بائیس ستمبر کو دینے والے بیان کی وجہ سے دیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اسمبلیوں میں ابھی تک ایسے ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان موجود ہیں جو دوہری شہریت رکھتے ہیں اور آگر سپریم کورٹ چاہے تو وہ اس سلسلے میں عدالت کی مدد کرنے کو بھی تیار ہیں۔

اس پر عدالت کا مؤقف تھا کہ رحمان ملک انہیں ان ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کا نام بتائیں جو دوہری شہریت رکھتے ہیں۔

اس حصے سے مزید

افتخار چوہدری ن لیگ کے 'اوپننگ بیٹسمین' قرار

حکمران جماعت کی طرف سے تمام مبینہ حکمت عملی کے باوجود چودہ اگست کو اسلام آباد میں مارچ کریں گے، شیریں مزاری

بلوچستان: ڈھائی سال میں پہلا پولیو کیس

یونیسیف کے مطابق پولیو وائرس کا شکار 18 ماہ کی بچی کا خاندان رواں سال کراچی سے قلعہ عبداللہ منتقل ہوا تھا۔

اسرائیلی جارحیت: نواز شریف کا ملک میں یومِ سوگ کا اعلان

جعمہ کوسرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا، وزیراعظم نے غزہ کے متاثرین کیلئے 10لاکھ ڈالرامداد کا بھی اعلان کیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-