18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

دوہری شہریت کیس میں رحمان ملک کے بیان پر جواب داخل

رحمان ملک۔ فائل تصویر

اسلام آباد: وفاق نے دوہری شہریت کیس میں وزیر داخلہ رحمان ملک کے مبینہ اخباری بیان پر سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا۔

دوہری شہریت کیس میں وزیر داخلہ رحمان ملک کے مبینہ اخباری بیان پر وفاق کا جواب ایڈوکیٹ نے آن ریکارڈ نے جمع کرایا۔

جواب میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیر داخلہ کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔

اس میں کہا گیا ہے کہ وزیر داخلہ نے اس قسم کا کوئی بیان نہیں دیا اور وزارت داخلہ بھی اس معاملے کی تردید کر چکی ہے۔

بیس ستمبر کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایسے تمام ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دے دیا تھا جو دوہری شہریت رکھتے ہیں جس میں رحمان ملک بھی شامل تھے۔

خیال رہے کہ انتیس ستمبر کو سپریم کورٹ نے دوہری شہریت سے متعلق رحمان ملک کو مبینہ اخباری بیان پر وضاحتی نوٹس جاری کیا تھا اور انہیں عدالت کے سامنے تین اکتوبر کو پیش ہونے کو کہا تھا۔

یہ نوٹس رحمان ملک کو ان کے اکیس اور بائیس ستمبر کو دینے والے بیان کی وجہ سے دیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اسمبلیوں میں ابھی تک ایسے ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان موجود ہیں جو دوہری شہریت رکھتے ہیں اور آگر سپریم کورٹ چاہے تو وہ اس سلسلے میں عدالت کی مدد کرنے کو بھی تیار ہیں۔

اس پر عدالت کا مؤقف تھا کہ رحمان ملک انہیں ان ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کا نام بتائیں جو دوہری شہریت رکھتے ہیں۔

اس حصے سے مزید

خیبرپختونخوا میں پولیو مہم فوج کے سپرد

وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر خیبر پختونخوا میں پولیو کے خاتمے کی مہم پاک فوج کے سپرد کردی گئی۔

خیبر ایجنسی: شدت پسندوں کا ایف سی قلعے پر حملہ

دونوں جانب سے ہلکےاور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی, تاہم کسی جانی نقصان کی کوئی طلاع نہیں ملی۔

چیئرمین پیمرا، واپڈا عہدوں سے فارغ

وزیراعظم نے چیئرمین واپڈا سے استعفیٰ لیکر ظفر محمود کو نیا چیئرمین مقرر کردیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے