02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

دوہری شہریت کیس میں رحمان ملک کے بیان پر جواب داخل

رحمان ملک۔ فائل تصویر

اسلام آباد: وفاق نے دوہری شہریت کیس میں وزیر داخلہ رحمان ملک کے مبینہ اخباری بیان پر سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا۔

دوہری شہریت کیس میں وزیر داخلہ رحمان ملک کے مبینہ اخباری بیان پر وفاق کا جواب ایڈوکیٹ نے آن ریکارڈ نے جمع کرایا۔

جواب میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیر داخلہ کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔

اس میں کہا گیا ہے کہ وزیر داخلہ نے اس قسم کا کوئی بیان نہیں دیا اور وزارت داخلہ بھی اس معاملے کی تردید کر چکی ہے۔

بیس ستمبر کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایسے تمام ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دے دیا تھا جو دوہری شہریت رکھتے ہیں جس میں رحمان ملک بھی شامل تھے۔

خیال رہے کہ انتیس ستمبر کو سپریم کورٹ نے دوہری شہریت سے متعلق رحمان ملک کو مبینہ اخباری بیان پر وضاحتی نوٹس جاری کیا تھا اور انہیں عدالت کے سامنے تین اکتوبر کو پیش ہونے کو کہا تھا۔

یہ نوٹس رحمان ملک کو ان کے اکیس اور بائیس ستمبر کو دینے والے بیان کی وجہ سے دیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اسمبلیوں میں ابھی تک ایسے ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان موجود ہیں جو دوہری شہریت رکھتے ہیں اور آگر سپریم کورٹ چاہے تو وہ اس سلسلے میں عدالت کی مدد کرنے کو بھی تیار ہیں۔

اس پر عدالت کا مؤقف تھا کہ رحمان ملک انہیں ان ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کا نام بتائیں جو دوہری شہریت رکھتے ہیں۔

اس حصے سے مزید

'سفارت کار نقل و حرکت میں احتیاط برتیں'

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق احتیاط کی ہدایات دی گئیں تاہم سفارتخانوں کی بندش کی کوئی ہدایت جاری یا موصول نہیں ہوئی ہے۔

وزیراعظم نیٹو سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے

سیاسی بحران کے باعث وزیراعظم کا دورہ منسوخ کرکے جونیئر سفارتی عہدیدار کو پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھیجا جائے گا۔

وزیراعظم کی نااہلی کیلئے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار

دوسری جانب رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی نااہلی کے لیے دائر درخواست لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کے لیےمنظور کرلی گئی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔