02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

آئی ایس آئی میں کوئی سیاسی سیل نہیں،وزارت دفاع

سپریم کورٹ ۔ فائل تصویر

اسلام آباد: وزارت دفاع نے سپریم کورٹ کو اصغرخان کیس میں اپنے جمع کرائے جواب میں کہا ہے کہ انٹیلی جنس انٹر سروسز (آئی ایس آئی) میں کوئی سیاسی سیل کام نہیں کر رہا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے آئی ایس آئی کی جانب سے سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس دئے کہ چھبیس جون انیس سو ستانوے کو عدالت میں پیش کئے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ  آئی ایس آئی میں پولیٹیکل سیل کام کررہا ہے۔

اس موقع پر وزارت دفاع کی طرف سے پیش ہونے والے کمانڈر شہباز نے عدالت کو بتایا کہ یہ جواب جمع کرانے سے پہلے سیاسی سیل نہ ہونے سے متعلق آئی ایس آئی سے تصدیق کی ہے۔

عدالت نے وزارت دفاع کے افسر کو ہدایت کی کہ وزارت دفاع کے جواب پر دستخط کرواکر دوبارہ پیش کریں۔

عدالت نے سیکرٹری داخلہ کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کیا اور سیکرٹری دفاع اور داخلہ کو طلب کر لیا۔

دریں اثناء جسٹس خلجی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہم کسی کریڈٹ کے خواہش مند نہیں، صرف آئین کی بالادستی چاہتے ہیں۔

اس حصے سے مزید

کچرہ چننے والوں کی زندگی میں عارضی انقلاب

شاکر جان کی خواہش ہے کہ مظاہرین ڈی چوک پر ہمیشہ موجود رہیں، جن کی وجہ سے اس کے لیے روزی کمانا آسان ہوگیا ہے۔

سپریم کورٹ : پندرہ پارلیمانی جماعتوں کو نوٹس جاری

ممکنہ ماورائے آئین اقدام سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ وہ صرف ایک مرتبہ عمران خان سے ملے ہیں۔

اسلام آباد دھرنے پاکستان کے خلاف بغاوت ہیں، نثار

موجودہ سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے پارلیمٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا' (الجھتے رشتوں کی کہانی)

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔