17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

آئی ایس آئی میں کوئی سیاسی سیل نہیں،وزارت دفاع

سپریم کورٹ ۔ فائل تصویر

اسلام آباد: وزارت دفاع نے سپریم کورٹ کو اصغرخان کیس میں اپنے جمع کرائے جواب میں کہا ہے کہ انٹیلی جنس انٹر سروسز (آئی ایس آئی) میں کوئی سیاسی سیل کام نہیں کر رہا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے آئی ایس آئی کی جانب سے سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس دئے کہ چھبیس جون انیس سو ستانوے کو عدالت میں پیش کئے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ  آئی ایس آئی میں پولیٹیکل سیل کام کررہا ہے۔

اس موقع پر وزارت دفاع کی طرف سے پیش ہونے والے کمانڈر شہباز نے عدالت کو بتایا کہ یہ جواب جمع کرانے سے پہلے سیاسی سیل نہ ہونے سے متعلق آئی ایس آئی سے تصدیق کی ہے۔

عدالت نے وزارت دفاع کے افسر کو ہدایت کی کہ وزارت دفاع کے جواب پر دستخط کرواکر دوبارہ پیش کریں۔

عدالت نے سیکرٹری داخلہ کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کیا اور سیکرٹری دفاع اور داخلہ کو طلب کر لیا۔

دریں اثناء جسٹس خلجی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہم کسی کریڈٹ کے خواہش مند نہیں، صرف آئین کی بالادستی چاہتے ہیں۔

اس حصے سے مزید

تھری، فور جی نیلامی کے لیے چاروں کمپنیاں اہل قرار

دوسری جانب، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ذیلی کمیٹی نے پی ٹی اے اور حکومت کو نیلامی سے روک دیا۔

طالبان سے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

وزیر اعظم ہاؤس میں تین گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں طالبان سے مذاکرات جاری رکھنے کی توثیق

'طالبان کو جنگ بندی پر قائل کریں گے'

طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے کہا ہے کہ کسی بھی صورت امن کے قیام کے لیے کوشش جارہی رکھیں گے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟