24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

آئی ایس آئی میں کوئی سیاسی سیل نہیں،وزارت دفاع

سپریم کورٹ ۔ فائل تصویر

اسلام آباد: وزارت دفاع نے سپریم کورٹ کو اصغرخان کیس میں اپنے جمع کرائے جواب میں کہا ہے کہ انٹیلی جنس انٹر سروسز (آئی ایس آئی) میں کوئی سیاسی سیل کام نہیں کر رہا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے آئی ایس آئی کی جانب سے سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس دئے کہ چھبیس جون انیس سو ستانوے کو عدالت میں پیش کئے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ  آئی ایس آئی میں پولیٹیکل سیل کام کررہا ہے۔

اس موقع پر وزارت دفاع کی طرف سے پیش ہونے والے کمانڈر شہباز نے عدالت کو بتایا کہ یہ جواب جمع کرانے سے پہلے سیاسی سیل نہ ہونے سے متعلق آئی ایس آئی سے تصدیق کی ہے۔

عدالت نے وزارت دفاع کے افسر کو ہدایت کی کہ وزارت دفاع کے جواب پر دستخط کرواکر دوبارہ پیش کریں۔

عدالت نے سیکرٹری داخلہ کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کیا اور سیکرٹری دفاع اور داخلہ کو طلب کر لیا۔

دریں اثناء جسٹس خلجی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہم کسی کریڈٹ کے خواہش مند نہیں، صرف آئین کی بالادستی چاہتے ہیں۔

اس حصے سے مزید

سرحدی دراندازی کے ہندوستانی الزامات مسترد

سیکریٹری سطح کے مذاکرات میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تمام معاملات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا، اعزاز چوہدری

افتخار چوہدری کا عمران خان کو ہتک عزت کا نوٹس

سابق چیف جسٹس نے نوٹس میں عمران خان کی جانب سے معافی نہ مانگنے کی صورت میں 20 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے۔

پی آئی اے میں صرف انیس طیارے پرواز کے قابل

اس بات کا انکشاف پی آئی اے کے چیئرمین محمد علی گردیزی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو ایک بریفننگ میں کیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-