02 اگست, 2014 | 5 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

آئی ایس آئی میں کوئی سیاسی سیل نہیں،وزارت دفاع

سپریم کورٹ ۔ فائل تصویر

اسلام آباد: وزارت دفاع نے سپریم کورٹ کو اصغرخان کیس میں اپنے جمع کرائے جواب میں کہا ہے کہ انٹیلی جنس انٹر سروسز (آئی ایس آئی) میں کوئی سیاسی سیل کام نہیں کر رہا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے آئی ایس آئی کی جانب سے سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس دئے کہ چھبیس جون انیس سو ستانوے کو عدالت میں پیش کئے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ  آئی ایس آئی میں پولیٹیکل سیل کام کررہا ہے۔

اس موقع پر وزارت دفاع کی طرف سے پیش ہونے والے کمانڈر شہباز نے عدالت کو بتایا کہ یہ جواب جمع کرانے سے پہلے سیاسی سیل نہ ہونے سے متعلق آئی ایس آئی سے تصدیق کی ہے۔

عدالت نے وزارت دفاع کے افسر کو ہدایت کی کہ وزارت دفاع کے جواب پر دستخط کرواکر دوبارہ پیش کریں۔

عدالت نے سیکرٹری داخلہ کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کیا اور سیکرٹری دفاع اور داخلہ کو طلب کر لیا۔

دریں اثناء جسٹس خلجی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہم کسی کریڈٹ کے خواہش مند نہیں، صرف آئین کی بالادستی چاہتے ہیں۔

اس حصے سے مزید

سیاسی بحران ختم کرنے کیلئے نواز شریف کی مشاورت

وزیر اعظم کو ہر صورت 'ون مین شو' کا تاثر زائل کرنے، پارٹی میں اندرونی اختلافات ختم کرانے کے مشورے۔

اسلام آباد میں اضافی دستے تعینات نہیں کر رہے، فوج

دستوں کی تعیناتی پندرہ جون کو ہو چکی اور اس حوالے سے نوٹیفیکیشن دیر سے آیا، فوجی ترجمان کا اصرار۔

عمران خان سے مذاکرات کی ذمہ داری چوہدری نثار کے حوالے

دونوں رہنماوں کے درمیان ملاقات پیر چار اگست کو متوقع ہے، ملاقات میں لانگ مارچ کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ہمارا پارٹ ٹائم لیڈر

اتنی ناکارہ لیڈرشپ کی مثال مشکل سے ملیگی جس میں کسی دوراندیشی کی کوئی جھلک نہ ہو-

بجٹ اور صحت کا شعبہ

ایسا لگتا ہے کہ صحت کے بجٹ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کیلئے عطیات دینے والے ملکوں کے پیسے پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے

بلاگ

پکوان کہانی: موسم گرما کی سوغات 'آم

پرانے وقتوں کے لوگوں کی دلچسپ تصور اور حکمت کی بدولت، پھلوں کا بادشاہ عام انسان کی غذا بن گیا۔

پاکستان میں اسٹارٹ اپس اب تک ناکام کیوں؟

آجکل یہ فیشن سا بن گیا ہے کہ ہر کوئی یہی کہتا نظر آ رہا ہے کہ اس کے پاس 'اسٹارٹ اپ' ہے-

ساغر صدیقی : ایک دل شکستہ شاعر

وہ خوبصورت نظمیں لکھتے، پھر بلند آواز میں خالی نگاہوں سے پڑھتے، پھر ان کاغذات کو پھاڑ دیتے جن پر وہ نظمیں لکھی ہوتیں

پکوان کہانی: کابلی پلاؤ - شمال کی شان

گوشت میں پکے چاول اس خطے کے جنگجوؤں کی ذہنی مطابقت اور جسمانی ساخت کے لیے موزوں تھے۔