19 ستمبر, 2014 | 23 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

گیلانی کو ایک اور دھچکہ

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف۔— اے ایف پی

اسلام آباد: حکومت نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے اپنے آبائی شہر ملتان میں شروع کیے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کو فنڈز کی فراہمی روک دی ہے۔

پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ ( پی ڈبلیو ڈی) کے ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ نئے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے علاقے گجر خان میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے فوراً بعد کیا گیا تھا۔

پی ڈبیلو ڈی کے حکام نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ملتان میں جاری منصوبوں کے فنڈز روکنے سے متعدد منصوبے ادھورے رہ گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان ادھورے منصوبوں پر لاکھوں روپے خرچ ہو چکے تھے جن کے ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت ملتان میں جاری منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کیے تھے، تاہم موجودہ مالی سال کے دوران ان منصوبوں کے لیے فنڈز جاری نہیں کیے گئے۔

جب اس حوالے سے وزیر اعظم کے پریس سیکریٹری شفقت جلیل سے پوچھا گیا تو انہوں نے اپنی لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا ہونا بظاہر ناممکن لگتا ہے۔

وزیر اعظم کےترقیاتی پیکج کے تحت حکومت نے گزشہ مالی سال کے دوران ملک بھر میں مختلف ترقیاتی منصبوں کے لیے  تقریباً گیارہ ارب روپے جاری کیے تھے۔

ان منصوبوں پر عمل درآمد کرنے والے ادارے پی ڈبلیو ڈی کے اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے سب سے زیادہ ترقیاتی فنڈز ملتان میں استعمال ہوئے۔

واضح رہے کہ عام طور پریہ فنڈز سینیٹرز اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو ان کے حلقوں میں ضرورت کی بنیاد پر مختص کیے جاتے ہیں جن پر عمل درآمد کی ذمہ داری پی ڈبلیو ڈی پر عائد ہوتی ہے۔

لیکن دستاویزات کے مطابق ملتان کی اڑتیس 'بااثر' شخصیات کو بھی چھ سو ساٹھ ملین روپے دیے گئے تاکہ وہ انہیں اپنی مرضی کے منصوبوں پر خرچ کر سکیں۔

دوسری جانب، موجودہ وزیر اعظم نے گجر خان میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے صرف پی ایس ڈی پی پر ہی انحصار نہیں کیا۔

پی ڈبلیو ڈی کی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے علاقے میں ترقیاتی کاموں کے لیے تقریباً آٹھ ارب روپے منظور کر لیے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں مالی بحران کی صورت میں اگر حکومت پی ایس ڈی پی کے فنڈز میں کمی کرتی ہے تو بھی گجر خان کی اسکیموں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

اس حصے سے مزید

بلاول بھٹو زرداری کا پنجاب میں عوام سے پہلا رابطہ

چینیوٹ پہنچنے والے نوجوان بھٹو نے پیدل دورہ کرکے متاثرہ افراد تک رسائی حاصل کی اور ان میں امدادی سامان تقسیم کیا۔

سیلابی ریلا سندھ میں داخل

پنجاب میں مختلف پشتوں میں 193 شگافوں کے باعث سندھ میں داخل ہونے والے سیلابی ریلے کی شدت بہت کم رہ گئی تھی۔

سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ

سیلاب زدہ علاقوں میں سانس کے امراض کے روزانہ پانچ ہزار جبکہ گیسٹرو کے ڈھائی ہزار کیسز سامنے آرہے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مزید جمہوریت

نظام لپیٹ دینے اور امپائر کی باتیں کرنے کے بجائے ہمارا مطالبہ صرف مزید جمہوریت ہونا چاہیے، کم جمہوریت نہیں۔

تبدیلی آگئی ہے

ملک میں شہری حقوق کی عدم موجودگی میں عوام اب وسیع تر بھلائی کا سوچنے کے بجائے اپنے اپنے مفاد کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

بلاگ

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔

کراچی میں فرقہ وارانہ دہشتگردی

کراچی ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ دہشت گردی کی زد میں ہے اور روزانہ کوئی نہ کوئی بے گناہ سنی یا شیعہ اپنی جان گنوا رہا ہے۔

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔