03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

گیلانی کو ایک اور دھچکہ

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف۔— اے ایف پی

اسلام آباد: حکومت نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے اپنے آبائی شہر ملتان میں شروع کیے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کو فنڈز کی فراہمی روک دی ہے۔

پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ ( پی ڈبلیو ڈی) کے ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ نئے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے علاقے گجر خان میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے فوراً بعد کیا گیا تھا۔

پی ڈبیلو ڈی کے حکام نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ملتان میں جاری منصوبوں کے فنڈز روکنے سے متعدد منصوبے ادھورے رہ گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان ادھورے منصوبوں پر لاکھوں روپے خرچ ہو چکے تھے جن کے ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت ملتان میں جاری منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کیے تھے، تاہم موجودہ مالی سال کے دوران ان منصوبوں کے لیے فنڈز جاری نہیں کیے گئے۔

جب اس حوالے سے وزیر اعظم کے پریس سیکریٹری شفقت جلیل سے پوچھا گیا تو انہوں نے اپنی لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا ہونا بظاہر ناممکن لگتا ہے۔

وزیر اعظم کےترقیاتی پیکج کے تحت حکومت نے گزشہ مالی سال کے دوران ملک بھر میں مختلف ترقیاتی منصبوں کے لیے  تقریباً گیارہ ارب روپے جاری کیے تھے۔

ان منصوبوں پر عمل درآمد کرنے والے ادارے پی ڈبلیو ڈی کے اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے سب سے زیادہ ترقیاتی فنڈز ملتان میں استعمال ہوئے۔

واضح رہے کہ عام طور پریہ فنڈز سینیٹرز اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو ان کے حلقوں میں ضرورت کی بنیاد پر مختص کیے جاتے ہیں جن پر عمل درآمد کی ذمہ داری پی ڈبلیو ڈی پر عائد ہوتی ہے۔

لیکن دستاویزات کے مطابق ملتان کی اڑتیس 'بااثر' شخصیات کو بھی چھ سو ساٹھ ملین روپے دیے گئے تاکہ وہ انہیں اپنی مرضی کے منصوبوں پر خرچ کر سکیں۔

دوسری جانب، موجودہ وزیر اعظم نے گجر خان میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے صرف پی ایس ڈی پی پر ہی انحصار نہیں کیا۔

پی ڈبلیو ڈی کی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے علاقے میں ترقیاتی کاموں کے لیے تقریباً آٹھ ارب روپے منظور کر لیے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں مالی بحران کی صورت میں اگر حکومت پی ایس ڈی پی کے فنڈز میں کمی کرتی ہے تو بھی گجر خان کی اسکیموں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

اس حصے سے مزید

وزیراعظم کی نااہلی کیلئے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار

دوسری جانب رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی نااہلی کے لیے دائر درخواست لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کے لیےمنظور کرلی گئی ہے۔

نام نہاد لیڈر ملک کو میدانِ جنگ بنانا چاہتے ہیں، شہباز شریف

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کچھ نام نہاد لیڈر آئین و قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ریاستی اداروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

'حکومت اور مظاہرین کی ہٹ دھرمی سے جمہوریت کو نقصان ہوگا'

جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ قوم کو سیاسی بحران پر تشویش ہے اور وہ مسئلے کا فوری حل چاہتی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔