24 ستمبر, 2014 | 28 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

رمشا کیس:امام مسجد کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

بچہ پاکستان کو جھنڈا پکڑے ہوئے- فائل فوٹو

اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد نے رمشا کیس میں گرفتار امام مسجد خالد جدون کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جو گیارہ اکتوبر کو سنایا جائے گا۔

عدالت نے درخواست گزار سے کہا کہ وہ حکم امتناعی پر مزید وضاحت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کریں۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد راجہ جواد عباس نے رمشا مسیح کیس میں امام مسجد خالد جدون کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

دوران سماعت، خالد جدون کے وکیل واجد گیلانی، مدعی ملک عماد کے وکیل راؤ عبدالرحیم اور ڈسٹرکٹ اٹارنی محفوظ پراچہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے رمشا مسیح کی طلبی اور ٹرائل پر حکم امتناعی جاری کیا ہوا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ خالد جدون کی درخواست ضمانت پر کوئی حکم امتناعی جاری نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے جس میں کسی عدالت نے درخواست ضمانت پر حکم امتناعی جاری کیا ہو۔

عدالت نے دونوں جانب کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو گیارہ اکتوبر کو سنایا جائے گا۔

یکم ستمبر کو پولیس نے امام مسجد خالد جدون کو گرفتار کرلیا تھا جب حافظ زبیر نے ان پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے جان بوجھ کر رمشا کے تھیلے میں مقدس اوراق شامل کیے تھے۔

یکم اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں رمشا پر توہینِ مذہب کے مقدمے میں گرفتار امام مسجد خالد جدون کے خلاف دو گواہ اپنے بیانِ حلفی سے منحرف ہوگئے تھے۔

دوران سماعت استغاثہ کے دو گواہوں اویس اور خرم شہزاد نے نئے بیان حلفی جمع کرائے تھے۔ دونوں گواہوں نے عدالت میں بیان دیا کہ اس سے قبل جمع کرائے گئے بیانات، پولیس نے زبردستی ان سے تحریر کرائے تھے۔

عدالت نے خالد جدون کی درخواست ضمانت پرمزید سماعت تین اکتوبر تک ملتوی کردی تھی۔

ان گواہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ راکھ والے شاپنگ بیگ میں اوراقِ مقدسہ امامِ مسجد خالد جدون نے شامل کیے تھے۔

واضع رہے کہ اسلام آباد کے نواحی گاؤں میرا جعفرکی رہائشی مسیحی بچی کو سولہ جولائی کو ایک مقامی شخص کی شکایت پر پولیس نے توہین مذہب کے قانون کے تحت گرفتار کیا تھا۔

سات ستمبر کو عدالت نے رمشا کو پانچ پانچ لاکھ کے دو مچلکوں پر اڈیالہ جیل سے ضمانت پررہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

آٹھ ستمبر کو جیل سے رہا کرنے کے بعد رمشا کو سخت حفاظتی نگرانی میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔

اس حصے سے مزید

سرکاری ملازمین کے ہاﺅسنگ الاﺅنس میں دوگنا اضافے کی تجویز

اس تجویز کی سمری منظوری کے لیے وزیراعظم کو بھجوا دی گئی ہے۔

عوامی تحریک کے دھرنے میں شریک گھر واپسی کے لیے بے تاب

سینکڑوں خاندان اور لڑکیاں واپس جاچکے ہیں، جبکہ مزید درجنوں خواتین اپنے علاقوں کو جلد از جلد واپس جانا چاہتی ہیں۔

چھ بڑے شہروں میں پولیو مہم کی ناکامی کا انکشاف

لاہور، راولپنڈی، کراچی، حیدرآباد، کوئٹہ اور جیکب آباد میں پولیو وائرس کے خاتمے کی مہم ناکام رہی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

سوشلزم کیوں؟

اگر ہم مسلسل بحث کرسکتے ہیں کہ جمہوریت کیوں نہیں، شریعت کیوں نہیں، تو اس سوال پر بھی بحث ضروری ہے کہ سوشلزم کیوں نہیں؟

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

بلاگ

مووی ریویو: 'خوبصورت' - فواد اور سونم کی خوبصورت کہانی

اپنے پُر مزاح کرداروں کے باوجود فلم شوخ اور رومانٹک ڈرامہ ہے، جسے آپ باآسانی ڈزنی کی طلسماتی کہانی کہہ سکتے ہیں-

کراچی میں بجلی کا مسئلہ اور نیپرا کا منفی کردار

اپنی نااہلی کی وجہ سے نیپرا نے بیرونی سرمایہ کاروں کو مشکل میں ڈال رکھا ہے، جن میں سے کچھ تو کام شروع کرنے کو تیار ہیں۔

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔