25 جولائ, 2014 | 26 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

رمشا کیس:امام مسجد کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

بچہ پاکستان کو جھنڈا پکڑے ہوئے- فائل فوٹو

اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد نے رمشا کیس میں گرفتار امام مسجد خالد جدون کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جو گیارہ اکتوبر کو سنایا جائے گا۔

عدالت نے درخواست گزار سے کہا کہ وہ حکم امتناعی پر مزید وضاحت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کریں۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد راجہ جواد عباس نے رمشا مسیح کیس میں امام مسجد خالد جدون کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

دوران سماعت، خالد جدون کے وکیل واجد گیلانی، مدعی ملک عماد کے وکیل راؤ عبدالرحیم اور ڈسٹرکٹ اٹارنی محفوظ پراچہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے رمشا مسیح کی طلبی اور ٹرائل پر حکم امتناعی جاری کیا ہوا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ خالد جدون کی درخواست ضمانت پر کوئی حکم امتناعی جاری نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے جس میں کسی عدالت نے درخواست ضمانت پر حکم امتناعی جاری کیا ہو۔

عدالت نے دونوں جانب کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو گیارہ اکتوبر کو سنایا جائے گا۔

یکم ستمبر کو پولیس نے امام مسجد خالد جدون کو گرفتار کرلیا تھا جب حافظ زبیر نے ان پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے جان بوجھ کر رمشا کے تھیلے میں مقدس اوراق شامل کیے تھے۔

یکم اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں رمشا پر توہینِ مذہب کے مقدمے میں گرفتار امام مسجد خالد جدون کے خلاف دو گواہ اپنے بیانِ حلفی سے منحرف ہوگئے تھے۔

دوران سماعت استغاثہ کے دو گواہوں اویس اور خرم شہزاد نے نئے بیان حلفی جمع کرائے تھے۔ دونوں گواہوں نے عدالت میں بیان دیا کہ اس سے قبل جمع کرائے گئے بیانات، پولیس نے زبردستی ان سے تحریر کرائے تھے۔

عدالت نے خالد جدون کی درخواست ضمانت پرمزید سماعت تین اکتوبر تک ملتوی کردی تھی۔

ان گواہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ راکھ والے شاپنگ بیگ میں اوراقِ مقدسہ امامِ مسجد خالد جدون نے شامل کیے تھے۔

واضع رہے کہ اسلام آباد کے نواحی گاؤں میرا جعفرکی رہائشی مسیحی بچی کو سولہ جولائی کو ایک مقامی شخص کی شکایت پر پولیس نے توہین مذہب کے قانون کے تحت گرفتار کیا تھا۔

سات ستمبر کو عدالت نے رمشا کو پانچ پانچ لاکھ کے دو مچلکوں پر اڈیالہ جیل سے ضمانت پررہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

آٹھ ستمبر کو جیل سے رہا کرنے کے بعد رمشا کو سخت حفاظتی نگرانی میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔

اس حصے سے مزید

اسلام آباد کو تین ماہ کیلئے فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد کو آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت یکم اگست سے تین ماہ کے لیے فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا، چوہدری نثار۔

پنڈی والوں کی ناراضگی کا ڈر

نواز شریف کسی بھی ایسے مسئلے کو طول دینے کے حق میں نہیں ہیں، جو پنڈی والوں کی ناراضگی کا سبب بن سکتا ہو۔

اسلام آباد: آئی ڈی پی کیمپ میں بچھوؤں کی بھرمار

ایک سرکاری افسر کے مطابق دارالحکومت میں آئی ڈی پیز کے لیے قائم واحد کیمپ میں جان لیوا بچھوؤں کی بھرمار ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بلاگ

گھریلو تشدد: پاکستانی 'کلچر' - حقیقت کیا ہے؟

پاکستانی سماج میں عورت مرد کی جائداد اور اس سے کمتر ہے چناچہ اس کے ساتھ کسی قسم کا سلوک روا رکھنا مرد کا پیدائشی حق ہے-

ریاستی تنہائی اور اجتماعی مہاجرت

جب تک سوچنے اور سوچ کے اظہار کے لیے ممکنہ حد تک ازادی موجود نہ ہو تب تک سماج میں تکثیریت پروان نہیں چڑھ سکتی

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔