24 اپريل, 2014 | 23 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

رمشا کیس:امام مسجد کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

بچہ پاکستان کو جھنڈا پکڑے ہوئے- فائل فوٹو

اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد نے رمشا کیس میں گرفتار امام مسجد خالد جدون کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جو گیارہ اکتوبر کو سنایا جائے گا۔

عدالت نے درخواست گزار سے کہا کہ وہ حکم امتناعی پر مزید وضاحت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کریں۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد راجہ جواد عباس نے رمشا مسیح کیس میں امام مسجد خالد جدون کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

دوران سماعت، خالد جدون کے وکیل واجد گیلانی، مدعی ملک عماد کے وکیل راؤ عبدالرحیم اور ڈسٹرکٹ اٹارنی محفوظ پراچہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے رمشا مسیح کی طلبی اور ٹرائل پر حکم امتناعی جاری کیا ہوا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ خالد جدون کی درخواست ضمانت پر کوئی حکم امتناعی جاری نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے جس میں کسی عدالت نے درخواست ضمانت پر حکم امتناعی جاری کیا ہو۔

عدالت نے دونوں جانب کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو گیارہ اکتوبر کو سنایا جائے گا۔

یکم ستمبر کو پولیس نے امام مسجد خالد جدون کو گرفتار کرلیا تھا جب حافظ زبیر نے ان پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے جان بوجھ کر رمشا کے تھیلے میں مقدس اوراق شامل کیے تھے۔

یکم اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں رمشا پر توہینِ مذہب کے مقدمے میں گرفتار امام مسجد خالد جدون کے خلاف دو گواہ اپنے بیانِ حلفی سے منحرف ہوگئے تھے۔

دوران سماعت استغاثہ کے دو گواہوں اویس اور خرم شہزاد نے نئے بیان حلفی جمع کرائے تھے۔ دونوں گواہوں نے عدالت میں بیان دیا کہ اس سے قبل جمع کرائے گئے بیانات، پولیس نے زبردستی ان سے تحریر کرائے تھے۔

عدالت نے خالد جدون کی درخواست ضمانت پرمزید سماعت تین اکتوبر تک ملتوی کردی تھی۔

ان گواہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ راکھ والے شاپنگ بیگ میں اوراقِ مقدسہ امامِ مسجد خالد جدون نے شامل کیے تھے۔

واضع رہے کہ اسلام آباد کے نواحی گاؤں میرا جعفرکی رہائشی مسیحی بچی کو سولہ جولائی کو ایک مقامی شخص کی شکایت پر پولیس نے توہین مذہب کے قانون کے تحت گرفتار کیا تھا۔

سات ستمبر کو عدالت نے رمشا کو پانچ پانچ لاکھ کے دو مچلکوں پر اڈیالہ جیل سے ضمانت پررہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

آٹھ ستمبر کو جیل سے رہا کرنے کے بعد رمشا کو سخت حفاظتی نگرانی میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔

اس حصے سے مزید

مشرف غداری کیس: 'ایف آئی اے کی رپورٹ فراہم نہ کرنا بدنیتی ہے'

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں بنیادی حقوق کو ہر قانون سے بالاتر قرار دیا ہے، بیرسٹر فروغ نسیم۔

'پاکستانی اداروں پر ہندوستانی الزامات بے بنیاد ہیں'

پاکستان نے صحافی حامد میر پر حملے سے متعلق ہندوستانی میڈیا کے پاکستانی سیکورٹی اداروں پرلگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا

سات سالوں میں 2090 فرقہ وارانہ ہلاکتیں

سینیٹ میں حزب اختلاف کے اراکین نے حکومتی اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

مقدّس ریپ

دو دن وہ اسی گاؤں میں ماں کے بازؤں میں تڑپتی رہی۔ گھر میں پیسے ہی کہاں تھے کہ علاج کے لئے بدین تک ہی پہنچ پاتے۔

میڈیا اور نقل بازی کا کینسر

ایسا نہیں کہ میں کوئی پہلا انسان ہوں جس کے خیالات پر نقب لگائی گئی ہو، مگر آخری ضرور بننا چاہتا ہوں

!مار ڈالو، کاٹ ڈالو

مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس پر شدید غصہ آ رہا ہے اور میں اسے سچ بولنے پر چیخ چیخ کر ڈانٹنا چاہتا ہوں-

خطبہء وزیرستان

کس سازش کے تحت 'آپکو' بدنام کرنے کے لئے دھماکے کیے جاتے ہیں؟ کس صوبے کے مظلوم عوام آپکے بھائی ہیں؟