22 اگست, 2014 | 25 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

ایوان صدرکو فریق بنانے کی درخواست منظور، نوٹس جاری

سپریم کورٹ ۔ فائل تصویر

اسلام آباد: سپريم کورٹ نے سياستدانوں ميں رقوم کی تقسيم سے متعلق اصغر خان کيس ميں ايوان صدر کو فريق بنانے کی اجازت ديتے ہوئے پرنسپل سيکرٹری کے ذريعے صدر مملکت کو نوٹس بھجوا ديا ہے۔

صدر کو فریق بنانے کی درخواست اصغر خان کے وکیل نے کی تھی۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ صدر کی ذات کو نہيں منصب کو فريق بنايا جائے۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایوان صدر میں سیاسی سرگرمیاں نہیں ہونی چاہیے کیوں کہ صدر ملک کا آئینی سربراہ اور سپریم کمانڈر ہوتا ہے۔

اٹارنی جنرل آج بھی پيش نہيں ہوئے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کيا۔

جسٹس خلجی نے کہا کہ صدر سیاست میں ملوت ہوگیں تو مسلح افواج کے اداروں پر بھی اثر پڑے گا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے آئی ایس آئی کی جانب سے سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سیکرٹری دفاع نے دستخط شدہ خط عدالت میں پیش کیا۔

خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ اس وقت انٹیلی جنس انٹر سروسز (آئی ایس آئی) میں کوئی سیاسی سیل نہیں۔

دریں اثناے کمانڈرشہباز نے عدالت کو بتایا کہ آئندہ ڈپٹی اٹارنی جنرل وزارت کی طرف سے پیش ہوں گے۔

مقدمے کی مزید سماعت پندرہ اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

کل ہونے والی سماعت میں وزارت دفاع نے سپریم کورٹ کو اصغرخان کیس میں اپنے جمع کرائے جواب میں کہا ہے کہ آئی ایس آئی میں کوئی سیاسی سیل کام نہیں کر رہا۔

اس کے علاوہ عدالت نے وزارت دفاع کے افسر کو ہدایت کی تھی کہ وزارت دفاع کے جواب پر دستخط کرواکر دوبارہ پیش کریں۔

اس حصے سے مزید

اسلام آباد دھرنے: سیاسی بے یقینی برقرار

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے باعث موجودہ سیاسی صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی۔

ایک کے سوا تمام جماعتیں ہماری حامی ہیں، نواز شریف

وزیراعظم نے کہا کہ پارلیمنٹ میں موجود بارہ میں سے گیارہ جماعتیں ان کی پارٹی اور جمہوری عمل کی حامی ہیں۔

مظاہرین کے خلاف ایکشن ارادہ نہیں، پرویز رشید

مارچ مظاہرین کے خلاف حکومت نے کسی قسم کی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا اور اس سلسلے کو جاری رکھا جائے گا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مضبوط ادارے

ریاستی اداروں پر تمام جماعتوں کی جانب سے حملہ تب کیا گیا جب وہ ابتدائی طور پر ہی سہی پر قابلیت کا مظاہرہ کرنے لگے تھے۔

آئینی نظام کو لاحق خطرات

پی ٹی آئی کی سیاست کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ کسی طرح موجودہ آئینی صورت حال میں ممکن سیاسی حل کیلئے تیار نہیں ہے-

بلاگ

عمران خان کے نام کھلا خط

گزشتہ ایک ہفتے کے واقعات پی ٹی آئی ورکرز کی تمام امیدوں اور توقعات کو بچکانہ، سادہ لوح اور غلط ثابت کر رہے ہیں۔

جعلی انقلاب اور جعلی فوٹیجز

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی غیر آئینی حرکتوں کی وجہ سے اگر فوج آگئی تو چینلز ایسی نشریات کرنا بھول جائیں گے۔

!جس کی لاٹھی اُس کا گلّو

ہر دکاندار اور ریڑھی والے سے پِٹنا کوئی آسان عمل نہیں ہوگا شاید یہی وجہ ہے کہ سول نافرمانی کوئی آسان کام نہیں۔

ہمارے کپتانوں کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

اس بات کا پتہ لگانا مشکل ہے کہ مصباح الحق اور عمران خان میں سے زیادہ کون بچوں کی طرح اپنی غلطی ماننے سے انکاری ہے۔