20 ستمبر, 2014 | 24 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

ایوان صدرکو فریق بنانے کی درخواست منظور، نوٹس جاری

سپریم کورٹ ۔ فائل تصویر

اسلام آباد: سپريم کورٹ نے سياستدانوں ميں رقوم کی تقسيم سے متعلق اصغر خان کيس ميں ايوان صدر کو فريق بنانے کی اجازت ديتے ہوئے پرنسپل سيکرٹری کے ذريعے صدر مملکت کو نوٹس بھجوا ديا ہے۔

صدر کو فریق بنانے کی درخواست اصغر خان کے وکیل نے کی تھی۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ صدر کی ذات کو نہيں منصب کو فريق بنايا جائے۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایوان صدر میں سیاسی سرگرمیاں نہیں ہونی چاہیے کیوں کہ صدر ملک کا آئینی سربراہ اور سپریم کمانڈر ہوتا ہے۔

اٹارنی جنرل آج بھی پيش نہيں ہوئے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کيا۔

جسٹس خلجی نے کہا کہ صدر سیاست میں ملوت ہوگیں تو مسلح افواج کے اداروں پر بھی اثر پڑے گا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے آئی ایس آئی کی جانب سے سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سیکرٹری دفاع نے دستخط شدہ خط عدالت میں پیش کیا۔

خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ اس وقت انٹیلی جنس انٹر سروسز (آئی ایس آئی) میں کوئی سیاسی سیل نہیں۔

دریں اثناے کمانڈرشہباز نے عدالت کو بتایا کہ آئندہ ڈپٹی اٹارنی جنرل وزارت کی طرف سے پیش ہوں گے۔

مقدمے کی مزید سماعت پندرہ اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

کل ہونے والی سماعت میں وزارت دفاع نے سپریم کورٹ کو اصغرخان کیس میں اپنے جمع کرائے جواب میں کہا ہے کہ آئی ایس آئی میں کوئی سیاسی سیل کام نہیں کر رہا۔

اس کے علاوہ عدالت نے وزارت دفاع کے افسر کو ہدایت کی تھی کہ وزارت دفاع کے جواب پر دستخط کرواکر دوبارہ پیش کریں۔

اس حصے سے مزید

نیا آئی ایس آئی چیف، وزیراعظم کے لیے مشکل انتخاب

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل ظہیر الاسلام یکم اکتوبر کو ریٹائر ہورہے ہیں۔

'دھرنوں کے خلاف مذمتی قرارداد زرداری کی منظوری کے بعد پیش ہوئی'

پیپلزپارٹی کی جانب سے یہ اصرار کیا گیا کہ وہ اس کی پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری سے منظوری لیں گے۔

سول نافرمانی تحریک:عمران خان نےبجلی کابل جلادیا

تحریک انصاف کے چیئرمین نے حکومت مخالف تحریک میں اتوار کو کراچی کے جلسے میں عوام سے بھی بجلی کے بل جلوانے کا اعلان کیا ہے


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

رودرہیم کا سبق

بچوں پر ہونیوالے جنسی تشدد پر ہماری شرمندگی کی سمت غلط ہے۔ شرم کی بات تو یہ ہے کہ ہم اس کو روکنے کی کوشش نہ کریں-

رکاوٹیں توڑ دو

اشرافیہ تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق کرنے پر تلی ہوئی ہے جو خاص طور سے 1970ء کی دہائی کے بعد سے بد سے بدتر ہورہاہے۔

بلاگ

مووی ریویو: دختر -- دلوں کو چُھو لینے والی کہانی

اپنی تمام تر خوبیوں اور کچھ خامیوں کے ساتھ اس فلم کو پاکستانی نکتہ نگاہ سے پیش کیا گیا ہے۔

پھر وہی ڈیموں پر بحث

ڈیموں سے زراعت کے لیے پانی ملتا ہے، پانی پر کنٹرول سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور توانائی بحران ختم کیا جاسکتا ہے۔

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔