16 ستمبر, 2014 | 20 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

'سوئس خط کا حتمی مسودہ دس اکتوبر کو پیش کریں'

سپریم کورٹ ۔ — فائل تصویر

اسلام آباد: پاکستان کی سپریم کورٹ نے سوئس حکام کو لکھے جانے والے خط کے مسودہ پر ایک مرتبہ پھر اعتراض اٹھاتے ہوئے حکومت کو اسے دس اکتوبر تک حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے۔

جمعہ کو سپریم کورٹ میں این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت کے آغاز پر وزیرقانون فاروق ایچ نائیک نے خط کا ترمیم شدہ مسودہ پیش کیا۔

پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے چیمبر میں دیگر ججوں کے ساتھ مشاورت کے بعد مسودے کو مسترد کردیا۔

جسٹس کھوسہ کہا کہنا تھا کہ مسودہ عدالتی حکم کی روح کے مطابق نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مسودے کا پہلا اور دوسرا پیرا گراف عدالت کے حکم کے مطابق ہیں تاہم تیسرا پیراگراف پہلے دونوں حصوں کی نفی کرتا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے ہدایت جاری کی کہ مسودے کو عدالتی حکم کے مطابق ڈھالا جائے۔

جس پر وزیرقانون نے عدالت سے چیمبر میں سماعت کے لیے وقت مانگتے ہوئے کہا کہ وہ تیسرے پیرا سے متعلق اعتراضات دور کردیں گے۔

جسٹس کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ معاملہ حل کی طرف بڑھ رہا ہے، اگر تیسرے پیرا کو عدالتی حکم کے مطابق بنایا جائے تو وہ مزید وقت دے سکتے ہیں۔

بعد ازاں، عدالت نے نائک کی درخواست پر خط کو حتمی شکل دینے کے لیے دس اکتوبر تک مہلت دے دی۔

عدالتی کارروئی کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت میں وزیر قانون نے کہا کہ خط کے حتمی متن کے بارے میں فیصلہ ہونا باقی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خط عدالت کے حکم کی روشنی میں بنایا گیا ہے جسے وزیر اعظم نے منظور کیا ہے۔

نائیک کا کہنا تھا کہ صدر کے استثنٰی پر آئین بالکل واضح ھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں مشاورت کے بغیر فیصلہ نہیں ہوتا، جو بھی فیصلہ ہوگا، ملکی مفاد میں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں، جو لوگ نظام کو پٹری سے اتارنا چاہتےہیں، انہیں کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔

اس حصے سے مزید

پی ٹی وی حملہ کیس نے اسلام آباد پولیس کو کردیا شرمندہ

پولیس نے پی ٹی وی حملہ کیس میں سرکاری چینیل کے ہی دو ملازمین کو ملزمان میں شامل کردیا تھا۔

پی ٹی آئی مظاہرین اور پولیس کے درمیان معمولی تصادم

پی ٹی آئی کے پانچ اراکین نادرا چوک کے راستے دھرنے کے مقام کی جانب جارہے تھے کہ پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔

انقلابیوں اور آزادی کے متوالے اپنی جنگ کو لے گئے عدالتوں میں

پی ٹی آئی اور پی اے ٹی نےگرفتار افراد کی رہائی کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا اور حکومتی اداروں پر جوابی قانونی حملہ کیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

باغیوں کی ضرورت ہے

موجودہ حکومت انتہائی قابل سول سرونٹس کو بھی صرف اس لیے ناپسند کرتی ہے، کیونکہ وہ درباریوں کی طرح نیازمندی نہیں دکھاتے۔

چھوٹے باغیچوں کی اہمیت

غریب خواتین کو لیز پر چھوٹے پلاٹ دیے جاسکتے ہیں، جہاں وہ اپنے گھر والوں کے لیے کھانے کی چیزیں اگا سکیں۔

بلاگ

جب خاموشی بہتر سمجھی جائے

اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ برطانوی پاکستانیوں کے پاس جنسی استحصال پر بات کرنے کے لیے آزادی نہیں ہے۔

نائنٹیز کا پاکستان - 6

اندازے کے مطابق اس دور میں پاکستانی فوج ہر ماہ اوسط ساڑھے سات کروڑ ڈالر ’مجاہدین‘ پر خرچ کر رہی تھی۔

ماضی کی جھلکیاں، میرانِ تالپورکے مقبرے

یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ مزارات کافی خراب حالت میں ہیں۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ کس وقت دیواریں منہدم ہوجائیں۔

ٹیم کو محمد حفیظ کی ضرورت ہے

ٹی-20 اور ون ڈے، دوںوں ہی میں وہ سب سے اچھے آل راؤنڈر ہیں، اور یہاں وہ پاکستان کے لیے اپنی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔