17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

'سوئس خط کا حتمی مسودہ دس اکتوبر کو پیش کریں'

سپریم کورٹ ۔ — فائل تصویر

اسلام آباد: پاکستان کی سپریم کورٹ نے سوئس حکام کو لکھے جانے والے خط کے مسودہ پر ایک مرتبہ پھر اعتراض اٹھاتے ہوئے حکومت کو اسے دس اکتوبر تک حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے۔

جمعہ کو سپریم کورٹ میں این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت کے آغاز پر وزیرقانون فاروق ایچ نائیک نے خط کا ترمیم شدہ مسودہ پیش کیا۔

پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے چیمبر میں دیگر ججوں کے ساتھ مشاورت کے بعد مسودے کو مسترد کردیا۔

جسٹس کھوسہ کہا کہنا تھا کہ مسودہ عدالتی حکم کی روح کے مطابق نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مسودے کا پہلا اور دوسرا پیرا گراف عدالت کے حکم کے مطابق ہیں تاہم تیسرا پیراگراف پہلے دونوں حصوں کی نفی کرتا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے ہدایت جاری کی کہ مسودے کو عدالتی حکم کے مطابق ڈھالا جائے۔

جس پر وزیرقانون نے عدالت سے چیمبر میں سماعت کے لیے وقت مانگتے ہوئے کہا کہ وہ تیسرے پیرا سے متعلق اعتراضات دور کردیں گے۔

جسٹس کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ معاملہ حل کی طرف بڑھ رہا ہے، اگر تیسرے پیرا کو عدالتی حکم کے مطابق بنایا جائے تو وہ مزید وقت دے سکتے ہیں۔

بعد ازاں، عدالت نے نائک کی درخواست پر خط کو حتمی شکل دینے کے لیے دس اکتوبر تک مہلت دے دی۔

عدالتی کارروئی کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت میں وزیر قانون نے کہا کہ خط کے حتمی متن کے بارے میں فیصلہ ہونا باقی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خط عدالت کے حکم کی روشنی میں بنایا گیا ہے جسے وزیر اعظم نے منظور کیا ہے۔

نائیک کا کہنا تھا کہ صدر کے استثنٰی پر آئین بالکل واضح ھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں مشاورت کے بغیر فیصلہ نہیں ہوتا، جو بھی فیصلہ ہوگا، ملکی مفاد میں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں، جو لوگ نظام کو پٹری سے اتارنا چاہتےہیں، انہیں کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔

اس حصے سے مزید

تھری، فور جی نیلامی کے لیے چاروں کمپنیاں اہل قرار

دوسری جانب، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ذیلی کمیٹی نے پی ٹی اے اور حکومت کو نیلامی سے روک دیا۔

طالبان سے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

وزیر اعظم ہاؤس میں تین گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں طالبان سے مذاکرات جاری رکھنے کی توثیق

'طالبان کو جنگ بندی پر قائل کریں گے'

طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے کہا ہے کہ کسی بھی صورت امن کے قیام کے لیے کوشش جارہی رکھیں گے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟