02 اگست, 2014 | 5 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

'سوئس خط کا حتمی مسودہ دس اکتوبر کو پیش کریں'

سپریم کورٹ ۔ — فائل تصویر

اسلام آباد: پاکستان کی سپریم کورٹ نے سوئس حکام کو لکھے جانے والے خط کے مسودہ پر ایک مرتبہ پھر اعتراض اٹھاتے ہوئے حکومت کو اسے دس اکتوبر تک حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے۔

جمعہ کو سپریم کورٹ میں این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت کے آغاز پر وزیرقانون فاروق ایچ نائیک نے خط کا ترمیم شدہ مسودہ پیش کیا۔

پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے چیمبر میں دیگر ججوں کے ساتھ مشاورت کے بعد مسودے کو مسترد کردیا۔

جسٹس کھوسہ کہا کہنا تھا کہ مسودہ عدالتی حکم کی روح کے مطابق نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مسودے کا پہلا اور دوسرا پیرا گراف عدالت کے حکم کے مطابق ہیں تاہم تیسرا پیراگراف پہلے دونوں حصوں کی نفی کرتا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے ہدایت جاری کی کہ مسودے کو عدالتی حکم کے مطابق ڈھالا جائے۔

جس پر وزیرقانون نے عدالت سے چیمبر میں سماعت کے لیے وقت مانگتے ہوئے کہا کہ وہ تیسرے پیرا سے متعلق اعتراضات دور کردیں گے۔

جسٹس کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ معاملہ حل کی طرف بڑھ رہا ہے، اگر تیسرے پیرا کو عدالتی حکم کے مطابق بنایا جائے تو وہ مزید وقت دے سکتے ہیں۔

بعد ازاں، عدالت نے نائک کی درخواست پر خط کو حتمی شکل دینے کے لیے دس اکتوبر تک مہلت دے دی۔

عدالتی کارروئی کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت میں وزیر قانون نے کہا کہ خط کے حتمی متن کے بارے میں فیصلہ ہونا باقی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خط عدالت کے حکم کی روشنی میں بنایا گیا ہے جسے وزیر اعظم نے منظور کیا ہے۔

نائیک کا کہنا تھا کہ صدر کے استثنٰی پر آئین بالکل واضح ھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں مشاورت کے بغیر فیصلہ نہیں ہوتا، جو بھی فیصلہ ہوگا، ملکی مفاد میں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں، جو لوگ نظام کو پٹری سے اتارنا چاہتےہیں، انہیں کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔

اس حصے سے مزید

سیاسی بحران ختم کرنے کیلئے نواز شریف کی مشاورت

وزیر اعظم کو ہر صورت 'ون مین شو' کا تاثر زائل کرنے، پارٹی میں اندرونی اختلافات ختم کرانے کے مشورے۔

'نجکاری کمیشن میں بولی لگانے کا عمل شفاف نہیں'

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے نجکاری کمیشن پر زور دیا ہے کہ مالیاتی مشیروں کی تقرری کے عمل کو شفاف طریقے سے دوبارہ شروع کرے۔

اسلام آباد میں اضافی دستے تعینات نہیں کر رہے، فوج

دستوں کی تعیناتی پندرہ جون کو ہو چکی اور اس حوالے سے نوٹیفیکیشن دیر سے آیا، فوجی ترجمان کا اصرار۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ہمارا پارٹ ٹائم لیڈر

اتنی ناکارہ لیڈرشپ کی مثال مشکل سے ملیگی جس میں کسی دوراندیشی کی کوئی جھلک نہ ہو-

بجٹ اور صحت کا شعبہ

ایسا لگتا ہے کہ صحت کے بجٹ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کیلئے عطیات دینے والے ملکوں کے پیسے پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے

بلاگ

پکوان کہانی: موسم گرما کی سوغات 'آم

پرانے وقتوں کے لوگوں کی دلچسپ تصور اور حکمت کی بدولت، پھلوں کا بادشاہ عام انسان کی غذا بن گیا۔

پاکستان میں اسٹارٹ اپس اب تک ناکام کیوں؟

آجکل یہ فیشن سا بن گیا ہے کہ ہر کوئی یہی کہتا نظر آ رہا ہے کہ اس کے پاس 'اسٹارٹ اپ' ہے-

ساغر صدیقی : ایک دل شکستہ شاعر

وہ خوبصورت نظمیں لکھتے، پھر بلند آواز میں خالی نگاہوں سے پڑھتے، پھر ان کاغذات کو پھاڑ دیتے جن پر وہ نظمیں لکھی ہوتیں

پکوان کہانی: کابلی پلاؤ - شمال کی شان

گوشت میں پکے چاول اس خطے کے جنگجوؤں کی ذہنی مطابقت اور جسمانی ساخت کے لیے موزوں تھے۔