24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

'سوئس خط کا حتمی مسودہ دس اکتوبر کو پیش کریں'

سپریم کورٹ ۔ — فائل تصویر

اسلام آباد: پاکستان کی سپریم کورٹ نے سوئس حکام کو لکھے جانے والے خط کے مسودہ پر ایک مرتبہ پھر اعتراض اٹھاتے ہوئے حکومت کو اسے دس اکتوبر تک حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے۔

جمعہ کو سپریم کورٹ میں این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت کے آغاز پر وزیرقانون فاروق ایچ نائیک نے خط کا ترمیم شدہ مسودہ پیش کیا۔

پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے چیمبر میں دیگر ججوں کے ساتھ مشاورت کے بعد مسودے کو مسترد کردیا۔

جسٹس کھوسہ کہا کہنا تھا کہ مسودہ عدالتی حکم کی روح کے مطابق نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مسودے کا پہلا اور دوسرا پیرا گراف عدالت کے حکم کے مطابق ہیں تاہم تیسرا پیراگراف پہلے دونوں حصوں کی نفی کرتا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے ہدایت جاری کی کہ مسودے کو عدالتی حکم کے مطابق ڈھالا جائے۔

جس پر وزیرقانون نے عدالت سے چیمبر میں سماعت کے لیے وقت مانگتے ہوئے کہا کہ وہ تیسرے پیرا سے متعلق اعتراضات دور کردیں گے۔

جسٹس کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ معاملہ حل کی طرف بڑھ رہا ہے، اگر تیسرے پیرا کو عدالتی حکم کے مطابق بنایا جائے تو وہ مزید وقت دے سکتے ہیں۔

بعد ازاں، عدالت نے نائک کی درخواست پر خط کو حتمی شکل دینے کے لیے دس اکتوبر تک مہلت دے دی۔

عدالتی کارروئی کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت میں وزیر قانون نے کہا کہ خط کے حتمی متن کے بارے میں فیصلہ ہونا باقی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خط عدالت کے حکم کی روشنی میں بنایا گیا ہے جسے وزیر اعظم نے منظور کیا ہے۔

نائیک کا کہنا تھا کہ صدر کے استثنٰی پر آئین بالکل واضح ھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں مشاورت کے بغیر فیصلہ نہیں ہوتا، جو بھی فیصلہ ہوگا، ملکی مفاد میں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں، جو لوگ نظام کو پٹری سے اتارنا چاہتےہیں، انہیں کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔

اس حصے سے مزید

پاکستان کی صحافی فیض اللہ کی رہائی کیلئے صدر کرزئی سے اپیل

ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز رپورٹر فیض اللہ خان کو افغان سیکورٹی فورسز نے اپریل میں صوبہ ننگرہار سے گرفتار کیا تھا۔

اسرائیلی جارحیت: نواز شریف کا ملک میں یومِ سوگ کا اعلان

جعمہ کوسرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا، وزیراعظم نے غزہ کے متاثرین کیلئے 10لاکھ ڈالرامداد کا بھی اعلان کیا ہے۔

وفاقی حکومت نے آزادی تقریبات کا اعلان کر دیا

تقریبات کا اعلان کرتے ہوئے سعد رفیق نے تحریک انصاف کے مارچ کے حوالے سے سوال کا جواب دینے سے معذرت کر لی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-