25 اپريل, 2014 | 24 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

'سوئس خط کا حتمی مسودہ دس اکتوبر کو پیش کریں'

سپریم کورٹ ۔ — فائل تصویر

اسلام آباد: پاکستان کی سپریم کورٹ نے سوئس حکام کو لکھے جانے والے خط کے مسودہ پر ایک مرتبہ پھر اعتراض اٹھاتے ہوئے حکومت کو اسے دس اکتوبر تک حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے۔

جمعہ کو سپریم کورٹ میں این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت کے آغاز پر وزیرقانون فاروق ایچ نائیک نے خط کا ترمیم شدہ مسودہ پیش کیا۔

پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے چیمبر میں دیگر ججوں کے ساتھ مشاورت کے بعد مسودے کو مسترد کردیا۔

جسٹس کھوسہ کہا کہنا تھا کہ مسودہ عدالتی حکم کی روح کے مطابق نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مسودے کا پہلا اور دوسرا پیرا گراف عدالت کے حکم کے مطابق ہیں تاہم تیسرا پیراگراف پہلے دونوں حصوں کی نفی کرتا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے ہدایت جاری کی کہ مسودے کو عدالتی حکم کے مطابق ڈھالا جائے۔

جس پر وزیرقانون نے عدالت سے چیمبر میں سماعت کے لیے وقت مانگتے ہوئے کہا کہ وہ تیسرے پیرا سے متعلق اعتراضات دور کردیں گے۔

جسٹس کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ معاملہ حل کی طرف بڑھ رہا ہے، اگر تیسرے پیرا کو عدالتی حکم کے مطابق بنایا جائے تو وہ مزید وقت دے سکتے ہیں۔

بعد ازاں، عدالت نے نائک کی درخواست پر خط کو حتمی شکل دینے کے لیے دس اکتوبر تک مہلت دے دی۔

عدالتی کارروئی کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت میں وزیر قانون نے کہا کہ خط کے حتمی متن کے بارے میں فیصلہ ہونا باقی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خط عدالت کے حکم کی روشنی میں بنایا گیا ہے جسے وزیر اعظم نے منظور کیا ہے۔

نائیک کا کہنا تھا کہ صدر کے استثنٰی پر آئین بالکل واضح ھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں مشاورت کے بغیر فیصلہ نہیں ہوتا، جو بھی فیصلہ ہوگا، ملکی مفاد میں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں، جو لوگ نظام کو پٹری سے اتارنا چاہتےہیں، انہیں کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔

اس حصے سے مزید

مشرف غداری کیس: 'ایف آئی اے کی رپورٹ فراہم نہ کرنا بدنیتی ہے'

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں بنیادی حقوق کو ہر قانون سے بالاتر قرار دیا ہے، بیرسٹر فروغ نسیم۔

'پاکستانی اداروں پر ہندوستانی الزامات بے بنیاد ہیں'

پاکستان نے صحافی حامد میر پر حملے سے متعلق ہندوستانی میڈیا کے پاکستانی سیکورٹی اداروں پرلگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا

سات سالوں میں 2090 فرقہ وارانہ ہلاکتیں

سینیٹ میں حزب اختلاف کے اراکین نے حکومتی اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

مقدّس ریپ

دو دن وہ اسی گاؤں میں ماں کے بازؤں میں تڑپتی رہی۔ گھر میں پیسے ہی کہاں تھے کہ علاج کے لئے بدین تک ہی پہنچ پاتے۔

میڈیا اور نقل بازی کا کینسر

ایسا نہیں کہ میں کوئی پہلا انسان ہوں جس کے خیالات پر نقب لگائی گئی ہو، مگر آخری ضرور بننا چاہتا ہوں

!مار ڈالو، کاٹ ڈالو

مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس پر شدید غصہ آ رہا ہے اور میں اسے سچ بولنے پر چیخ چیخ کر ڈانٹنا چاہتا ہوں-

خطبہء وزیرستان

کس سازش کے تحت 'آپکو' بدنام کرنے کے لئے دھماکے کیے جاتے ہیں؟ کس صوبے کے مظلوم عوام آپکے بھائی ہیں؟