30 ستمبر, 2014 | 4 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

'سوئس خط کا حتمی مسودہ دس اکتوبر کو پیش کریں'

سپریم کورٹ ۔ — فائل تصویر

اسلام آباد: پاکستان کی سپریم کورٹ نے سوئس حکام کو لکھے جانے والے خط کے مسودہ پر ایک مرتبہ پھر اعتراض اٹھاتے ہوئے حکومت کو اسے دس اکتوبر تک حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے۔

جمعہ کو سپریم کورٹ میں این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت کے آغاز پر وزیرقانون فاروق ایچ نائیک نے خط کا ترمیم شدہ مسودہ پیش کیا۔

پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے چیمبر میں دیگر ججوں کے ساتھ مشاورت کے بعد مسودے کو مسترد کردیا۔

جسٹس کھوسہ کہا کہنا تھا کہ مسودہ عدالتی حکم کی روح کے مطابق نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مسودے کا پہلا اور دوسرا پیرا گراف عدالت کے حکم کے مطابق ہیں تاہم تیسرا پیراگراف پہلے دونوں حصوں کی نفی کرتا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے ہدایت جاری کی کہ مسودے کو عدالتی حکم کے مطابق ڈھالا جائے۔

جس پر وزیرقانون نے عدالت سے چیمبر میں سماعت کے لیے وقت مانگتے ہوئے کہا کہ وہ تیسرے پیرا سے متعلق اعتراضات دور کردیں گے۔

جسٹس کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ معاملہ حل کی طرف بڑھ رہا ہے، اگر تیسرے پیرا کو عدالتی حکم کے مطابق بنایا جائے تو وہ مزید وقت دے سکتے ہیں۔

بعد ازاں، عدالت نے نائک کی درخواست پر خط کو حتمی شکل دینے کے لیے دس اکتوبر تک مہلت دے دی۔

عدالتی کارروئی کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت میں وزیر قانون نے کہا کہ خط کے حتمی متن کے بارے میں فیصلہ ہونا باقی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خط عدالت کے حکم کی روشنی میں بنایا گیا ہے جسے وزیر اعظم نے منظور کیا ہے۔

نائیک کا کہنا تھا کہ صدر کے استثنٰی پر آئین بالکل واضح ھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں مشاورت کے بغیر فیصلہ نہیں ہوتا، جو بھی فیصلہ ہوگا، ملکی مفاد میں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں، جو لوگ نظام کو پٹری سے اتارنا چاہتےہیں، انہیں کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔

اس حصے سے مزید

عیدالاضحیٰ پر تین روزہ تعطیلات کا اعلان

وزراتِ داخلہ کے مطابق چھ سے آٹھ اکتوبر تک تعطیلات کے دوران تمام سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اور دفاتر بند رہیں گے۔

'ڈنڈنے کے زور پر مڈٹرم انتخابات کی حمایت نہیں کی جاسکتی'

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا پی ٹی آئی کی جانب سے چار حلقے کھولنے کے مطابات پر بروقت عمدرآمد ہونا چاہیے تھا۔

آخر کیا پایا؟ 'انقلاب' کی خواہش لیے دھرنے والوں کی واپسی

پی اے ٹی کے کارکنان دھرنے سے گھر واپسی پر جہاں خوش ہیں، وہیں یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ آخر انہوں نے کیا حاصل کیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

فائرنگ کی زد میں

پولیس کی قیادت کو ادراک ہوا ہے کہ اسے صاحب اختیار لوگوں کے غیر قانونی مطالبات کو نا کہنے کی ہمت دکھانے کی ضرورت ہے.

پالیسی سازی کا فن

پنجاب میں باربارآنے والے سیلاب نے فیصلہ سازی اور پالیسی سازی کے درمیان خلا کو بےنقاب کردیا ہے۔

بلاگ

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟

مووی ریویو: دی پرنس — انسپائر کرنے میں ناکام

مجموعی طور پر روبوٹ جیسی پرفارمنسز اور کمزور پلاٹ کی وجہ سے یہ فلم ناظرین کی دلچسپی قائم رکھنے میں ناکام رہی-

مخلص سیاستدانوں کے سچے بیانات

جب سے دھرنے جاری ہیں، تب سے ہم نے سیاستدانوں سے طرح طرح کی باتیں سنی ہیں جن میں سے کچھ پیش خدمت ہیں۔