18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

جوڑ توڑ کی سیاست

nationalassembly-app670
قومی اسمبلی کے اجلاس کا ایک منظر۔—ای پی پی فوٹو

اسلام آباد: پاکستان میں عام انتخابات قریب آنے پر سیاسی جماعتوں نے قومی اور علاقائی سطح پر انتخابی اتحاد بنانے کے لیے تگ و دو شروع کر دی ہے ۔

ملک میں نوے کی دہائی کی طرح کسی ایک سیاسی جماعت کا واضح اکثریت سے حکومت بنانے کا سلسلہ اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔

دوہزار دو میں جنرل پرویز مشرف بھی اسی طرح کی کوشش میں ناکام ہوئے تھے۔

مسلم لیگ ق کو قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت دلوانے کی کوشش میں ناکامی کے بعد انہیں مرکز میں حکومت بنانے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی سے علیحدہ ہونے والے ایک دھڑے پی پی پی - پیٹریاٹ کے تعاون کی ضرورت پڑی تھی۔

قصہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔ دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات کے بعد  پی پی پی نے مرکز میں سادہ اکثریت برقرار رکھنے کے لیے پہلے مسلم لیگ ن اور بعد ازاں ق لیگ کا سہارا لیا تھا۔

حتٰی کہ صوبائی سطح پر بھی سیاسی جماعتوں کو اپنا وزیر اعلٰی منتخب کرنے کے لیے حمایت درکار ہوتی ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں بھی سیاسی اتحاد مرکز اور صوبوں میں حکومت سازی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

تاہم یہ سیاسی اتحاد مختلف نوعیت کے ہوں گے۔ مثلاً اگر دو جماعتیں مرکز میں اتحادی ہوں گی تو عین ممکن ہے کہ صوبائی سطح پر دونوں ایک دوسرے کی مخالفت کریں۔

یہی صورتحال مختلف صوبوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

بلاشبہ پنجاب سیاسی جماعتوں کا ایک بڑا اکھاڑا ثابت ہو گا جہاں مختلف سیاسی جماعتیں نبرد آمز ہوں گی اور اس صورتحال میں ق لیگ وہ واحد جماعت ہو گی جو ہر صورت فائدے میں رہے گی۔

حکمراں جماعت پی پی پی گجرات کے چوہدریوں اور ان کے مختلف انتخابی حلقوں میں مضبوط گرفت پر بھاری انحصار کرے گی۔

اسی لیے دونوں جماعتوں نے بدھ کو انتخابات میں مشترکہ امیدوار کھڑے کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا تھا۔

اگر ن لیگ کو مستقبل میں پنجاب میں اپنی حکومت برقرار رکھنی ہے تو اسے ق لیگ سے ہاتھ ملانے پڑیں گے۔ اور اگر ملک کی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو یہ ناممکن بھی نہیں لگتا۔

ن لیگ پہلے ہی 'اُڑ جانے والے پنچھیوں' کو واپس خوش آمدید کہہ رہی ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ ق لیگ کی مستقبل کے حوالے سے کیا حکمت عملی ہے۔

سندھ میں متحدہ قومی موومنٹ کے بلدیاتی نظام کو واپس لانے کے دیرینہ مطالبہ پر صدر آصف علی زرداری نے اقدامات اٹھا کر ان کی پی پی پی کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

زرداری نے اپنے ارادے ظاہر کر دیے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پی پی پی اور ایم کیو ایم ساتھ رہیں اور آئندہ انتخابات میں بطور اتحادی حصہ لیں۔

پی پی پی کے ایک انتہائی اہم اور اعلی عہدے دار نے ڈان کو بتایا کہ انہیں معلوم ہے کہ ایم کیو ایم کے بلدیاتی نظام کے مطالبے پر عمل درآمد کے بعد دیہی سندھ میں پی پی پی کا ووٹ بنک متاثر ہو گا لیکن اگر دونوں جماعتیں  انتخابات سے قبل اور بعد میں ایک ساتھ کھڑی رہیں تو صدر زرداری کو صوبے میں بڑی مشکلات درپیش نہیں آئیں گی۔

پی پی پی –ایم کیو ایم تعلقات کو مضبوط کرنے کے فیصلے کے پیچھے ایک اور عنصر بھی کار فرما ہے اور وہ ہے نواز شریف کی سندھ کی علاقائی اور قوم پرست جماعتوں کو اپنی جانب راغب کرنے کی مہم، جو پچھلے چند ماہ سے جاری ہے۔

گزشتہ ہفتے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل اور جمہوری وطن پارٹی کے طلال بگٹی سے ملاقاتوں کے بعد نواز شریف نے دونوں جماعتوں سے اتحاد کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

خیبر پختونخواہ میں سیاسی منظر نامہ مکمل طور پر دھندلا ہے۔

پی پی پی اور عوامی نیشنل پارٹی نے موجودہ حکومت میں اتحادی ہونے کے باجود اپنے آئندہ لائحہ عمل کا تا حال اعلان نہیں کیا۔

منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب میں پی پی پی کے خیبر پختونخواہ کے صدر انور سیف اللہ نے اے این پی کے ساتھ انتخابی اتحاد کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان سیٹ ایڈ جسٹمنٹ ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب، ن لیگ صوبے میں اپنے پرانے رابطوں کو دوبارہ بحال کرنے میں کوشاں ہے اور امیر مقام کے جماعت میں آنے کے بعد پارٹی امید ظاہر کر رہی ہے کہ آئندہ انتخابات میں وہ اچھی کارکردگی دکھا سکیں گی۔

ن لیگ کے ایک سینئیر رہنما نے مرکز میں بڑے اتحاد کومسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اندازوں کے مطابق، ن لیگ پنجاب میں اپنی کارکردگی اور چھوٹی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کی بنیاد پرقومی اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

بلوچستان میں قبائلی سیاست صوبے کی سیاست میں اپنا اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔

گزشتہ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والے بلوچ قوم پرست اگر آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلہ کریں گے تو وہ یقیناً ان سیاسی جماعتوں سے اتحاد کریں گے جو موجودہ حکومت کا حصہ نہیں ہیں۔

یہی موقع دیکھتے ہوئے ن لیگ اور پاکستان تحریک انصاف ممکنہ انتخابی اتحاد کے لیے بلوچ قیادت سے رابطے کر رہے ہیں۔

اسی طرح جماعتِ اسلامی اور پی ٹی آئی بھی ایک دوسرے سے بات چیت کر رہے ہیں۔

دو ہزار دو کے عام اتخابات میں غیر متوقع طور پر عمدہ نتائج حاصل کرنے والے چھ مذہبی و سیاسی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

پی ٹی آئی وہ واحد جماعت سجمھی جا رہی ہے جو پنجاب میں پی پی پی اور ن لیگ کو مشکل میں ڈال سکتی ہے۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ شریف برادران کے مقابلے میں صدر زرداری اتحادی سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں۔

پی پی پی کے ایک سینئیر رہنما اس خیال کی تائید میں کہتے ہیں زرداری نے موجودہ حکمراں اتحاد کو بہتر انداز میں چلایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غیرلچک دار رویہ رکھنے والے شریف بھائیوں کے برعکس زرداری اپنے اتحادیوں کے لیے زیادہ لچک دار ثابت ہوئے ہیں اور ہمیشہ ان کے مطالبوں کو سنتے ہیں۔

اگر ملک میں کوئی غیر معمولی سیاسی تحریک شروع نہیں ہوتی تو موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں پی پی پی، ق لیگ، اے این پی اور ایم کیو ایم آئندہ انتخابات میںبہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے مناسب تعداد میں قومی اسمبلی کی نشستیں جیت سکتے ہیں۔

اس حصے سے مزید

چیئرمین پیمرا، واپڈا عہدوں سے فارغ

وزیراعظم نے چیئرمین واپڈا سے استعفیٰ لیکر ظفر محمود کو نیا چیئرمین مقرر کردیا ہے۔

فیصل رضا عابدی کا استعفیٰ منظور

سینیٹ کے اجلاس میں فیصل نے استعفیٰ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو پیش کیا جسے منظور کرلیا گیا ہے۔

تھری، فور جی نیلامی کے لیے چاروں کمپنیاں اہل قرار

دوسری جانب، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ذیلی کمیٹی نے پی ٹی اے اور حکومت کو نیلامی سے روک دیا۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے