24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

خالد جدون نے درخواست ضمانت دائر کردی

خالد جدون کو پولیس لے جاتے ہوئے۔ رائٹرز فوٹو

اسلام آباد: رمشا مسیح کیس میں گرفتار امام مسجد ملزم خالد جدون نے جمعے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں ضمانت سے متعلق درخواست دائر کردی ہے۔

رمشا مسیح کیس میں گرفتار خالد جدون نے واجد گیلانی ایڈوکیٹ کی وساطت سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس میں دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ عدالت عالیہ واضح حکم دے کہ حکم امتناعی کا اطلاق درخواست ضمانت پر بھی ہے۔

 درخواست پر رجسٹرار آفس کی جانب سے اعتراض کیا گیا کہ رمشا کیس کی ایف آئی آر خارج کرنے کی درخواست پر خالد جدون فریق نہیں ہیں جس پر وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ حکم امتناعی کی وجہ سے ان کے مؤکل کی ضمانت نہیں ہوئی اور وہ درخواست کی سماعت کے دوران عدالت میں یہ اعتراض دور کردیں گے۔

 یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹرائل کورٹ نے خالد جدون کی درخواست ضمانت پر وکلاء سے ہائیکورٹ کے حکم امتناعی کی وضاحت طلب کی تھی۔

 واضح رہے کہ پولیس نے یکم ستمبر کو خالد جدون کو رمشا مسیح کے خلاف ثبوتوں کو تبدیل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

 اسلام آباد کے نواحی گاؤں کی رہائشی رمشا کو سولہ جولائی کو پولیس نے توہین مذہب کے قانون کے تحت گرفتار کیا تھا۔

 آٹھ ستمبر رہائی کے بعد رمشا کو سخت حفاظتی نگرانی میں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔

اس حصے سے مزید

سرحدی دراندازی کے ہندوستانی الزامات مسترد

سیکریٹری سطح کے مذاکرات میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تمام معاملات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا، اعزاز چوہدری

افتخار چوہدری کا عمران خان کو ہتک عزت کا نوٹس

سابق چیف جسٹس نے نوٹس میں عمران خان کی جانب سے معافی نہ مانگنے کی صورت میں 20 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے۔

پی آئی اے میں صرف انیس طیارے پرواز کے قابل

اس بات کا انکشاف پی آئی اے کے چیئرمین محمد علی گردیزی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو ایک بریفننگ میں کیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-