17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

خالد جدون نے درخواست ضمانت دائر کردی

خالد جدون کو پولیس لے جاتے ہوئے۔ رائٹرز فوٹو

اسلام آباد: رمشا مسیح کیس میں گرفتار امام مسجد ملزم خالد جدون نے جمعے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں ضمانت سے متعلق درخواست دائر کردی ہے۔

رمشا مسیح کیس میں گرفتار خالد جدون نے واجد گیلانی ایڈوکیٹ کی وساطت سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس میں دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ عدالت عالیہ واضح حکم دے کہ حکم امتناعی کا اطلاق درخواست ضمانت پر بھی ہے۔

 درخواست پر رجسٹرار آفس کی جانب سے اعتراض کیا گیا کہ رمشا کیس کی ایف آئی آر خارج کرنے کی درخواست پر خالد جدون فریق نہیں ہیں جس پر وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ حکم امتناعی کی وجہ سے ان کے مؤکل کی ضمانت نہیں ہوئی اور وہ درخواست کی سماعت کے دوران عدالت میں یہ اعتراض دور کردیں گے۔

 یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹرائل کورٹ نے خالد جدون کی درخواست ضمانت پر وکلاء سے ہائیکورٹ کے حکم امتناعی کی وضاحت طلب کی تھی۔

 واضح رہے کہ پولیس نے یکم ستمبر کو خالد جدون کو رمشا مسیح کے خلاف ثبوتوں کو تبدیل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

 اسلام آباد کے نواحی گاؤں کی رہائشی رمشا کو سولہ جولائی کو پولیس نے توہین مذہب کے قانون کے تحت گرفتار کیا تھا۔

 آٹھ ستمبر رہائی کے بعد رمشا کو سخت حفاظتی نگرانی میں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔

اس حصے سے مزید

تھری، فور جی نیلامی کے لیے چاروں کمپنیاں اہل قرار

دوسری جانب، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ذیلی کمیٹی نے پی ٹی اے اور حکومت کو نیلامی سے روک دیا۔

طالبان سے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

وزیر اعظم ہاؤس میں تین گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں طالبان سے مذاکرات جاری رکھنے کی توثیق

'طالبان کو جنگ بندی پر قائل کریں گے'

طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے کہا ہے کہ کسی بھی صورت امن کے قیام کے لیے کوشش جارہی رکھیں گے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟