24 اگست, 2014 | 27 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

مسلم لیگ ن نے کل جماعتی کمیشن کا مطالبہ کردیا

مسلم لیگ ن کے رہنماء چوہدری نثار علی۔ فوٹو آن لائن

اسلام آباد: مسلم لیگ ن نے جمعے کو بلوچستان کے مسئلے پر کل جماعتی کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنماء چوہدری نثار علی کا کہنا تھا کہ بلوچستان پر تشکیل دیے جانے والے کل جماعتی کمیشن میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر تمام سیاسی جماعتوں کو شامل کیا جائے اور ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔

 انہوں نے یوسف رضا گیلانی کے بیان کی تائید کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ کا فیصلہ سازی کے عمل میں کوئی کردار نہیں ہے۔

 چوہدری نثار نے کہا کہ زرداری حکومت نے تمام اداروں کو پامال کردیا ہے۔

 واضح رہے کہ دو اکتوبر کو مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف نے کہا تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ سنگین نوعیت کا ہے اور صوبے میں صاف شفاف انتخابات یقینی بنانے کیلئے رکاوٹیں دور کی جائیں۔

 سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر سے ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا تھا کہ لاپتہ افراد پاکستانی ہیں اور ان کیلئے آواز بلند کرنا چاہیئے۔

 یہ بات قابل ذکر ہے کہ دو ہزار چار کے بعد سے اب تک بلوچستان میں کئ سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ سینکڑوں گمشدہ ہیں جس کا الزام حساس اداروں پر عائد کیا جاتا ہے۔

اس حصے سے مزید

دسواں دن:’مائنس ون فارمولا‘تحریک انصاف اورحکومتی ٹیم میں ڈیڈلاک

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے باعث موجودہ سیاسی صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی۔

اسلام آباد کے ریڈ زون میں موبائل فون سروسز بند

ترجمان پی ٹی اے کے مطابق وزارت داخلہ کی ہدایت پر ریڈ زون میں تاحکم ثانی موبائل فون سروسز بند کی گئی ہیں۔

عمران خان کا نواز شریف سے ایک ماہ کیلئے استعفی کا مطالبہ

پی ٹی آئی کے دھرنے سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف ایک ماہ کے لیے بھی کرسی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ڈرامے کی آخری قسط

اب اس آخری میلوڈرامہ کا جو بھی انجام ہو- اس نے پاکستانیوں کی آخری ہلکی سی امید کوبھی ریزہ ریزہ کردیا ہے-

پی ٹی آئی کی خالی دھمکیاں

جو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، وہ حقیقت سے دور ہیں۔ ایسا کوئی راستہ موجود نہیں، جس سے پارٹی اپنی ان دھمکیوں پر عمل کر سکے۔

بلاگ

سیاست میں شک کی گنجائش

شکوک کے ساتھ ساتھ ان افواہوں کو بھی تقویت مل رہی ہے کہ عمران خان اور طاہرالقادری اصل میں اسٹیبلشمنٹ کے مہرے ہیں۔

پکوان کہانی : شاہی قورمہ

جو اکبر اعظم کے شاہی باورچی خانے کی نگرانی میں راجپوت خانساماؤں کے تجربات کا نتیجہ ہے۔

دفاعی حکمت عملی کے نقصانات

مصباح کے دفاعی انداز کے اثرات ہمارے جارحانہ انداز رکھنے والے بیٹسمینوں پر بھی پڑے ہیں

پاکستان ایک "ساس" کی نظر سے

68 سالہ جین والر کو پاکستان بہت پسند آیا، اتنا زیادہ کہ بقول ان کے مجھے پاکستان سے محبت ہوگئی ہے۔