21 اگست, 2014 | 24 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

ڈرون حملے پاکستانی خود مختاری کے خلاف ہیں، عمران خان

عمران خان میانوالی میں ایک جلسے سے خطاب کررہے ہیں۔ اے ایف پی تصویر

ٹانک: پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ ڈرون حملے پاکستانی سالمیت اور خود مختاری کے خلاف ہیں۔

وہ ٹانک کے جہازی گراونڈ میں لوگوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے دوغلی پالیسی اپنائی ہوئی ہے وہ امریکیوں سے کچھ کہتی ہے اور پاکستانیوں کو کچھ بتاتی ہے۔

منصوبے کے تحت جنوبی وزیرستان کے علاقے کوٹکئی میں یہ عوامی اجتماع ہونا تھا تاہم عمران خان کے قافلے میں شریک ڈان ڈاٹ کام کے نمائیندے سجاد حیدر کے مطابق پی ٹی آئی نے عوامی ریلی ٹانک میں جہاز گراونڈ پر ختم کرکے وہیں جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کیا۔

عمران خان  نے کہا کہ حکومت ڈرون حملوں میں مرنے والوں کے نام بتائے۔ عمران خان نے اپنی تقریر میں یہ سوال اُٹھایا کہ کیا ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والے یہ لوگ انسان نہیں؟

انہوں نے سوال کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نشانہ بننے والے یہ گمنام انسان آخر کون ہیں۔ ؟

عمران خان نے کہا امریکہ خدا نہیں بلکہ اللہ خدا ہے اور ڈرون حملوں کے سامنے صدر آصف علی زرداری اور حکومت نے کوئی مزاحمت نہیں کی ۔

پی ٹی آئی کے سربراہ نے کہا کہ وہ اس ملک کے نوجوانوں کا جذبہ دیکھ رہے ہیں جس کے تحت وہ ٹانک تک پہنچے اور وزیرستان تک جانے کیلئے تیار تھے۔

جب یہ نوجوان وزیرستان جاسکتے ہیں تو وہ اسلام آباد کی جانب بھی مارچ کرسکتے ہیں، ' انہوں نے کہا۔

خان نے کہا کہ یہاں سندھی، پنجابی، مسلمان، ہندو اور غیرملکی بھی موجود ہیں اور ان کی جماعت ہی قومی جماعت ہے۔

قبائلی علاقوں میں ترقیاتی عمل سے متعلق عمران خان نے کہا کہ پی ٹی آئی اقتدار میں آکر فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز کا نظام ختم کردے گی اور قبائلی علاقوں کیلئے صحت، تعلیم اور تبدیلی کیلئے بجٹ مختص کرے گی۔

پاکستان تحریکِ انصاف کا قافلہ اتوار کی صبح ڈیرہ اسماعیل خان سے براستہ ٹانک، جنوبی وزیرستان کے علاقے کوٹ کئی کی جانب روانہ ہوا تھا۔

ٹانک میں ہی ہزاروں افراد نے ان کا استقبال کیا ۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے تحریکِ انصاف کے پرچم اٹھارکھے تھے اور وہ نعرے لگارہے تھے کہ اہم امن چاہتے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار سجاد حیدر کے مطابق قافلے میں موسیقار سلمان احمد بھی شامل تھے۔

 اس سے قبل ، امن مارچ اتوار کو ڈیرہ اسماعیل خان سے ٹانک میں داخل ہونے کے بعد جنوبی وزیرستان کے علاقے کوٹ کئی سے چند کلومیٹر کی دوری پر پہنچ گیا تھا۔

گزشتہ رات ڈیرہ اسماعیل خان میں رات گزارنے کے بعد قافلہ آج صبح ٹانک کی جانب روانہ ہوا تھا۔

علاقے میں داخلے کے بعد قافلے کو پہلے محرم سلطان کے مقام پر روکا گیا تاہم بعد میں اسے جانے دیا گیا۔ بعد ازاں، اسے ماجھی خیل چیک پوسٹ پر روک لیا گیا۔

خیبرپختونخواہ کی حکومت کی جانب سے ٹانک میں ایمرجنسی نافذ کرکے جنوبی وزیرستان جانے والا راستہ کنیٹنر کھڑے کرکے بند کرنے کے بعد عمران خان نے کہا تھا کہ ان کا قافلہ وزیرستان ضرور جائے گا تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ کارکنوں کی جان کے تحفظ کے تحت اب وزیرستان  کی بجائے ٹانک میں ہی جلسہ منعقد کیا جائے گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی منزل جنوبی وزیرستان میں کوٹ کئی کا مقام ہے جہاں وہ ہر صورت جائیں گے۔

حکومت نے ٹانک تک تو امن مارچ کے شرکاء کو سیکورٹی فراہم کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے لیکن اس سے آگے انہیں جانے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں تھی۔

آج صبح ڈیرہ اسماعیل خان سے روانگی کے موقع پر انہوں نے کہا کہ وہ کسی سے تصادم یا کوئی حادثہ نہیں چاہتے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکمران اپنی آواز دنیا تک پہنچانے میں ناکام ہوگئے ہیں، تحریک انصاف نے ڈرون متاثرین کی آواز ساری دنیا تک پہنچائی۔

عمران خان نے اس موقع پر یہ بھی اعلان کیا کہ قبائلی روایات کے مطابق خواتین ان کی ریلی میں شامل نہ ہوں۔

واضع رہے کہ تحریک طالبان پنجاب نے مارچ کو دھوکہ قرار دیتے ہوئے عوام کو اس سے دور رہنے کی اپیل بھی کی تھی۔

ہفتے کو اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت میں تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا تھا کہ وہ وزیرستان میں امن کے لیے جا رہے ہیں لہذا انہیں روکا نہ جائے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ رحمان ملک انہیں ڈرانے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمان جیسے لوگ زہر پھیلا رہے ہیں۔

طالبان کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ عسکریت پسندوں کا ان پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں۔

قبل ازیں ٹی ٹی پی کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ عمران خان کو ان کی جانب سے تحفظ فراہم کی جانے والی تمام باتیں جھوٹ ہیں۔

اس حصے سے مزید

فوج نے حکومت کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دے دیا، شجاعت

مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری شجاعت کا کہنا ہے کہ نواز شریف سے آرمی چیف سمیت پوری فوج ناراض ہے۔

وزیر داخلہ نے آئی جی اسلام آباد کو برطرف کردیا

آفتاب چیمہ کی جگہ ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر خالد خٹک کو قائم مقام آئی جی اسلام آباد مقرر کردیا گیا ہے۔

ممکنہ ماورائے آئین اقدام پر پی ٹی آئی سے جواب طلب

سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس انتظامی اختیار ہے وہ اس کو قانون کے مطابق استعمال کرے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (4)

asif amin
06 اکتوبر, 2012 14:30
ya ek acha kadam hai. imran khan hm tmhare sath hain
abbas
06 اکتوبر, 2012 17:56
sorry to say role of media is very bad in coverage of imran khan peace march, dawn news says 1000 people wow great u r, u cant see the gathering coz u see the money of other political parties. very bad role of media very bad..
ولی خان دومڑ
07 اکتوبر, 2012 04:39
وز یرستان کے لوگ حفاظت تحفظ فراہم کرینگے ..؛ ہاں وزیرستان کے لوگوں نے ہر بن بلائے مہمان کا ٹھیکہ لیا ہے کہ اسے تحفظ فراہم کرینگے . وہ بیچارے صرف اپنی حفاظت نہیں کرسکتے ،گزشتہ چالیس . چالیس سالوں سے انکی سر زمین پر غیر ملکی مہمانوں کو انکی مرضی کے خلاف ٹھرایا گیا ہے جو ہر مصیبت اور خون ریزی کا سبب ہیں چنگیز سے لیکر انگریز تک کتنی ہی مصیبتیں قبایل پر نہ آئیں؟ لیکن قبایل کبھی بھی اتنے ذلیل وخوار نہ ہوئے جتنے پاکستانی بنیاد پرستوں کے ہاتھو ں ہوئے امام جھاد ضیا الحق سے لیکر ملا عمران تک سب پشتنوں کو بالخصوص قبایلی پشتنوں کو غیرت اور اسلام دوستی کا درس دے رہے ہیں اور وہ خود کتنے غیرت مند اور اسلام پسند ہیں یہ سب کو معلوم ہے ، اگر معلوم نہیں ہے تو پشتنوں کو انکا کر دار معلوم نہیں ، ہر ہیرے غیرے کی با توں پر عمل کرنے کیلئے ملازم کی طرح کمر بستہ ہو جاتے ہوجاتے ہیں ، ارے کبھی تو اپنے لیئے بھی سوچو ں ....؛
Mohammad jehangir
07 اکتوبر, 2012 10:12
طالبان کی کچی باتوں پر یقین و انحصار کرنا، جس کی بعد میں تردید بھی کر دی گئی ہے اور بنا سکورٹی کے انتہائی حساس اور غیر یقینی صورتحال والے علاقہ میں خودجانا اور بڑی تعداد میں دوسرے لوگوں کو لے جانا ،خطرہ سے خالی نہ ہے اور ریلی کے کارپردازوں کو سیکورٹی خدشات کو زیادہ سیریس لینے کی ضرورت ہے؟ ................................................................... اقبال جہانگیر کا تازہ بلاگ : تحریک انصاف کی ریلی پر خودکش حملوں کا خطرہ http://www.awazepakistan.wordpress.com
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مضبوط ادارے

ریاستی اداروں پر تمام جماعتوں کی جانب سے حملہ تب کیا گیا جب وہ ابتدائی طور پر ہی سہی پر قابلیت کا مظاہرہ کرنے لگے تھے۔

آئینی نظام کو لاحق خطرات

پی ٹی آئی کی سیاست کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ کسی طرح موجودہ آئینی صورت حال میں ممکن سیاسی حل کیلئے تیار نہیں ہے-

بلاگ

!جس کی لاٹھی اُس کا گلّو

ہر دکاندار اور ریڑھی والے سے پِٹنا کوئی آسان عمل نہیں ہوگا شاید یہی وجہ ہے کہ سول نافرمانی کوئی آسان کام نہیں۔

ہمارے کپتانوں کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

اس بات کا پتہ لگانا مشکل ہے کہ مصباح الحق اور عمران خان میں سے زیادہ کون بچوں کی طرح اپنی غلطی ماننے سے انکاری ہے۔

پاک سری لنکا ٹیسٹ سیریز – ایک جائزہ

امید کی جانی چاہئے کہ پاکستانی ٹیم ٹیسٹ سیریز میں اپنی شکست کا بدلہ ون ڈے سیریز میں لینے کی پوری کوشش کرے گی۔

جارج اورویل کی جائے پیدائش کا دورہ

حکومت نے ان کی جائے پیدائش پرایک میوزیم کی تعمیر کا بھی اعلان کیا ہے، جس سے اس عظیم لکھاری کی یاد قائم رکھی جا سکے گی۔