20 ستمبر, 2014 | 24 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

'مجھے نہ کھلانے کے فیصلہ حفیظ کا تھا'

مزید کرکٹ کھیلنا چاہتا ہوں، عبد الرزاق۔—اے ایف پی فوٹو

لاہور:آل راؤنڈر عبدالرزاق نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتنے کا اچھا موقع تھا جو ضائع کردیا گیا۔

سری لنکا کے خلاف سیمی فائنل میں شکست کے بعد قومی کرکٹ ٹیم ہفتے کو براستہ دبئی وطن واپس پہنچ گئی۔

لاہور ایئر پورٹ پر عبد الرزاق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیمی فائنل کھیلنا چاہتے تھے لیکن جب انہیں ٹیم کا حصہ نہیں بنایا گیا تو انہیں نہ صرف مایوسی ہوئی بلکہ شدید دکھ بھی ہوا۔

ایک سوال کے جواب میں عبدالرزاق نے کہا کہ انہیں سیمی فائنل میں نہ کھیلانے کا فیصلہ کپتان محمد حفیظ کا تھا اور'ٹیم مینجمنٹ کا اس میں کوئی دخل نہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تو حفیظ ہی بتا سکتے ہیں کہ ان کے ذہن میں کیا تھا۔

سینیئر آل راؤنڈر نے کہا کہ انہیں پہلے چار میچوں میں بھی نہیں کھیلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مکمل فٹ اور مزید کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں۔

عبدالرزاق کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی سی بی ذکاء اشرف نے انہیں اعتماد دیا اور دوبارہ ٹیم میں لائے۔ انہوں نے اس موقع پر امید ظاہر کی ہے کہ اشرف مستقبل میں بھی انہیں موقع دیں گے۔

دوسری جانب، کپتان محمد حفیظ نے ائیر پورٹ پر میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ قوم کو ٹیم سے جس نتیجہ کی توقع تھی بدقسمتی سے وہ حاصل نہیں ہوسکا۔

انہوں نے کہا کہ ٹیم کی مجموعی طور پر پرفارمنس اچھی تھی، تمام کھلاڑیوں نے بہت محنت کی لیکن بدقسمتی سے سیمی فائنل میں بلے باز مطلوبہ ٹارگٹ حاصل نہیں کرسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیمی فائنل کے لیے بہتر پچ بنائی جا سکتی تھی مگر پچ دونوں کے لیے ایک جیسی تھی۔

عبدالرزاق کو نہ کھلانے کے سوال پر حفیظ نے کہا کہ انہیں ٹیم میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ ٹیم مینجمنٹ کا تھا کیونکہ سیمی فائنل میں ایک باؤلر کی ضرورت تھی۔

محمد حفیظ نے شاہد آفریدی کو تمام میچوں میں کھلانے کے فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ آفرید ی ایک اچھے کھلاڑی ہیں مگر بدقسمتی سے وہ پرفارم نہ کر پائے۔

انہوں نے کہا کہ ناصر جمشید دو دفعہ بدقسمت رہے، آئی سی سی کو امپائرنگ کو بھی دیکھنا ہو گا، وہی اس کی بہتری کے لیے کچھ کر سکتے ہیں۔

وطن واپسی پر ٹیم کے کوچ ڈیوواٹمور میڈیا کا سامناکرنے سے گریزاں رہے۔

اس حصے سے مزید

جنوبی کوریا:ایشیائی کھیلوں کاآغاز،183رکنی پاکستانی دستہ شریک

افتتاحی تقریب کی تھیم’ون ایشیا‘رکھی گئی تھی جس کے مطابق ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سےڈرامےکی صورت میں ایشیاکی تاریخ بیان کی

سلیکٹرز ون ڈے ٹیم سے یونس خان کے اخراج کے خواہش مند

سلیکٹرز نے ون ڈے ٹیم سے یونس خان کے اخراج پر غوراور مصباح الحق سے ون ڈاﺅن پوزیشن پر کھیلنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ورلڈکپ میں فتح کھلاڑیوں کے اتحاد سے ہی ممکن، آفریدی

آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہئے کیونکہ ہم لوگوں کو ایک بار پھر خوش کرنا چاہتے ہیں


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

waseem abbas
08 اکتوبر, 2012 17:58
m.hafeez ko team sy nikal dena cahay is ke jgha asad shafiq best ha r abdul rzzaq ko haq milna cahay akhir rzzak ne hafeez ka kya begara ha abdul rzzak zinda bad
سروے
مقبول ترین
قلم کار

رودرہیم کا سبق

بچوں پر ہونیوالے جنسی تشدد پر ہماری شرمندگی کی سمت غلط ہے۔ شرم کی بات تو یہ ہے کہ ہم اس کو روکنے کی کوشش نہ کریں-

رکاوٹیں توڑ دو

اشرافیہ تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق کرنے پر تلی ہوئی ہے جو خاص طور سے 1970ء کی دہائی کے بعد سے بد سے بدتر ہورہاہے۔

بلاگ

مووی ریویو: دختر -- دلوں کو چُھو لینے والی کہانی

اپنی تمام تر خوبیوں اور کچھ خامیوں کے ساتھ اس فلم کو پاکستانی نکتہ نگاہ سے پیش کیا گیا ہے۔

پھر وہی ڈیموں پر بحث

ڈیموں سے زراعت کے لیے پانی ملتا ہے، پانی پر کنٹرول سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور توانائی بحران ختم کیا جاسکتا ہے۔

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔