02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری۔ فوٹو آن لائن

کوئٹہ: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ اگر بلوچستان میں تمام پیسہ لگ جاتا تو آج وہاں امن و امان کا مسئلہ پیدا نہ ہوتا۔۔ ڈیرہ بگٹی کے اسّی فی صد لوگ گھروں کو لوٹ جائیں تو بڑی بات ہوگی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ بلوچستان میں امن و امان سے متعلق درخواست کی سماعت کررہا ہے۔

 بلوچستان کے چیف سکریٹری اور آئی جی پولیس آج عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت کے استفسار پر چیف سکریٹری نے بتایا کہ تیس افسران بلوچستان میں آئے ہیں اور ان کی تعیناتی کی سمری چیف سکریٹری کو ارسال کردی گئی ہے۔۔

 عدالت نے چیف سکریٹری سے سمری طلب کی اور افسران کو متاثرہ علاقوں میں تعینات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

 سماعت کے دوران ڈیرہ بگٹی سے بے گھر ہونے والوں کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ علاقے میں صوبائی حکومت کی عملداری نہیں ہے اور وہاں پر ایف سی کا کنٹرول ہے۔

 چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر اسّی فیصد لوگ بھی علاقے میں واپس چلے جائیں تو بڑی بات ہوگی۔۔

 ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بہت پیسہ آیا ہے اگر یہ صحیح انداز میں لگ جاتا تو آج امن و امان کا مسئلہ ہی پیدا نہ ہوتا۔

 مقدمہ کی سماعت ابھی جاری ہے۔

اس حصے سے مزید

بلوچستان میں بارہ مشتبہ عسکریت پسند کی ہلاکت کا دعویٰ

گومازئی میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا جس کے نتیجے میں بارہ مشتبہ شرپسند ہلاک ہوگئے۔

بلوچستان: مختلف علاقوں میں فائرنگ، چار افراد ہلاک

کوہلو، ڈیرہ مراد جمالی اور قلعہ عبداللہ میں نامعلوم مسلح افراد کی ٹارگٹ کلنگ سے دو افراد زخمی بھی ہوئے۔

بلوچستان: ذکری فرقے کے چھ افراد سمیت نو ہلاک

حکام کے مطابق مسلح افراد نے ذکری فرقے سے تعلق والے افراد پر اس وقت فائرنگ کردی جب وہ ایک عبادت گاہ میں موجود تھے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔