18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری۔ فوٹو آن لائن

کوئٹہ: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ اگر بلوچستان میں تمام پیسہ لگ جاتا تو آج وہاں امن و امان کا مسئلہ پیدا نہ ہوتا۔۔ ڈیرہ بگٹی کے اسّی فی صد لوگ گھروں کو لوٹ جائیں تو بڑی بات ہوگی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ بلوچستان میں امن و امان سے متعلق درخواست کی سماعت کررہا ہے۔

 بلوچستان کے چیف سکریٹری اور آئی جی پولیس آج عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت کے استفسار پر چیف سکریٹری نے بتایا کہ تیس افسران بلوچستان میں آئے ہیں اور ان کی تعیناتی کی سمری چیف سکریٹری کو ارسال کردی گئی ہے۔۔

 عدالت نے چیف سکریٹری سے سمری طلب کی اور افسران کو متاثرہ علاقوں میں تعینات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

 سماعت کے دوران ڈیرہ بگٹی سے بے گھر ہونے والوں کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ علاقے میں صوبائی حکومت کی عملداری نہیں ہے اور وہاں پر ایف سی کا کنٹرول ہے۔

 چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر اسّی فیصد لوگ بھی علاقے میں واپس چلے جائیں تو بڑی بات ہوگی۔۔

 ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بہت پیسہ آیا ہے اگر یہ صحیح انداز میں لگ جاتا تو آج امن و امان کا مسئلہ ہی پیدا نہ ہوتا۔

 مقدمہ کی سماعت ابھی جاری ہے۔

اس حصے سے مزید

کوئٹہ میں فائرنگ، دو افراد ہلاک

موٹر سایئکل سوار حملہ آوروں نے دکان کو نشانہ بنایا جسکے نتیجے میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے دو افراد ہلاک ہوگئے، پولیس۔

'ہندوستان بلوچ علیحدگی پسند تحریک کی فنڈنگ کرتا ہے'

سینیئر صوبائی وزیر ثناء اللہ زہری کے مطابق گوادر پورٹ کے قیام سے دیگر ممالک بھی صوبے میں مداخلت کرسکتے ہیں۔

کوئٹہ: ہزارہ برادری کے دو افراد کی ٹارگٹ کلنگ

مسلح افراد نے کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر ہفتے کی رات فائرنگ کر کے شیعہ ہزارہ برادری کے دو افراد کو ہلاک کردیا۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے