23 اگست, 2014 | 26 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری۔ فوٹو آن لائن

کوئٹہ: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ اگر بلوچستان میں تمام پیسہ لگ جاتا تو آج وہاں امن و امان کا مسئلہ پیدا نہ ہوتا۔۔ ڈیرہ بگٹی کے اسّی فی صد لوگ گھروں کو لوٹ جائیں تو بڑی بات ہوگی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ بلوچستان میں امن و امان سے متعلق درخواست کی سماعت کررہا ہے۔

 بلوچستان کے چیف سکریٹری اور آئی جی پولیس آج عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت کے استفسار پر چیف سکریٹری نے بتایا کہ تیس افسران بلوچستان میں آئے ہیں اور ان کی تعیناتی کی سمری چیف سکریٹری کو ارسال کردی گئی ہے۔۔

 عدالت نے چیف سکریٹری سے سمری طلب کی اور افسران کو متاثرہ علاقوں میں تعینات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

 سماعت کے دوران ڈیرہ بگٹی سے بے گھر ہونے والوں کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ علاقے میں صوبائی حکومت کی عملداری نہیں ہے اور وہاں پر ایف سی کا کنٹرول ہے۔

 چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر اسّی فیصد لوگ بھی علاقے میں واپس چلے جائیں تو بڑی بات ہوگی۔۔

 ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بہت پیسہ آیا ہے اگر یہ صحیح انداز میں لگ جاتا تو آج امن و امان کا مسئلہ ہی پیدا نہ ہوتا۔

 مقدمہ کی سماعت ابھی جاری ہے۔

اس حصے سے مزید

تربت:سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 16عسکریت پسند ہلاک

فرنٹئیر کور کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن میں اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد کیا ہے۔

سرحد پار سے عسکریت پسندوں کا حملہ، سیکورٹی اہلکار ہلاک

ترجمان فرنٹیئر کور کے مطابق ستر سے زائد دہشت گرد پاکستانی سرحد بلوچستان کے ضلع سیف اللہ میں داخل ہوئے۔

کوئٹہ: ایف سی کی کارروائی، بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد

ملزمان کے قبضے سے اینٹی ٹینک مائنز، ایم ایم میزائل، مارٹر رائنڈز، ہینڈ گرنیڈز اور ڈیٹو نیٹرز برآمد ہوئے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

کچھ جوابات

وزیر اعظم کا اعلان کردہ کمیشن مسئلے سلجھانے کے بجائے زیادہ الجھا دے گا۔

بڑھتی مایوسی

مایوسی تب اور بڑھتی ہے جب عوام دیکھتے ہیں کہ حکمران عوامی پیسے سے اپنے کام چلانے میں شرم بھی محسوس نہیں کرتے۔

بلاگ

پکوان کہانی : شاہی قورمہ

جو اکبر اعظم کے شاہی باورچی خانے کی نگرانی میں راجپوت خانساماؤں کے تجربات کا نتیجہ ہے۔

پاکستان ایک "ساس" کی نظر سے

68 سالہ جین والر کو پاکستان بہت پسند آیا، اتنا زیادہ کہ بقول ان کے مجھے پاکستان سے محبت ہوگئی ہے۔

مووی ریویو: گارڈینز آف گیلیکسی ایک ویژول ٹریٹ ہے

جو یادوں کے ایسے دور میں لے جاتی ہے جب ایکشن کے بجائے مزاح کسی کامک کا سرمایہ اور اسے بیان کرنے کا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔

اب مارشل لاء کیوں ناممکن؟

ایوب، ضیاء اور مشرّف، تینوں ہی مغربی قوّتوں کے جغرافیائی سیاسی کھیلوں میں اسٹریٹجک کردار کے بدلے جیتے تھے۔