24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

من موہن کا دورہ پاکستان کھٹائی میں؟

نیو یارک: پاکستان کے صدر آصف علی زرداری پچیس ستمبر کو اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔— اے پی

نئی دہلی: کیا پاکستان کے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کے ذکر سے ہندوستانی وزیر اعظم کے جلد دورے کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں؟

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران دونوں ملکوں میں دہائیوں سے اہم مسئلہ کا حوالہ دیا تھا۔

ہمسایہ ملک کے اخبار 'دی ہندوستان ٹائمز' نے اتوار کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ کشمیر کا حوالہ ان اہم عناصر میں سے ایک ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے نئی دہلی کو ڈاکٹر من موہن سنگھ کے دورہ پاکستان کی کوئی جلدی نہیں ہے۔

تاہم، اخبار کے مطابق اس معاملے پر اب تک کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔

اخبار نے پہلی مرتبہ 'ذرائع' کے بجائے 'سرکاری حکام' کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 'معاملے سے آگاہ سرکاری عہدے دار من موہن سنگھ کے جلد پاکستان دورے کے حوالے سے پراعتماد نہیں ہیں' ۔

اخبار کے مطابق دورے میں تاخیر کی کئی وجوہات ہیں جن میں پاکستان فوج کے ساتھ براہ راست اہم تنازعات پر پیش رفت کا نہ ہونا اور مقامی طور پر مذاکارتی عمل کو بڑھانے کی حمایت نہ ملنا قابل ذکر ہیں۔

ایک سرکاری عہدے دار کا کہنا ہے کہ حتی کہ امن بات چیت کے سب سے زیادہ حامی سمجھے جانے والے  پنجاب میں بھی اس حوالے سے زیادہ گرم جوشی نہیں پائی جاتی۔

دی ہندوستان ٹائمز کے مطابق، پاکستانی فوج کی جانب سے ویزہ ، تجارتی تعلقات میں بہتری اورعوامی سطح کے تعلقات جیسے معاملات پر پی پی پی کی حکومت کو کھلی چھوٹ سے ان معاملوں پر پیش رفت نظر آ رہی ہے۔

اخبار نے انتہائی با اعتماد ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا کہ پاکستان میں'جی ایچ کیوکی زیر نگرانی' اہم معاملات جیسے کہ سرحد پار حملوں، سیاچن، سر کریک اور افغانستان پر آگے نہیں بڑھا جا سکا۔

اخبار نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان فوج ایک مرتبہ پھر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت کشمیریوں کے لیے حق خود ارادیت کے اپنے پرانے موقف پر واپس آ چکی ہے جبکہ ہندوستان کے خیال میں شملہ معاہدہ ان قرار دادوں پر غالب آ چکا ہے۔

اس موقف کی ایک جھلک صدر زرداری کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلا س میں تقریر کے دوران  بھی نظر آئی جب انہوں نے کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی ناکامیوں کا ذکر کیا تھا۔

پاکستانی صدر کی تقریر پر ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے اپنے سخت ردعمل میں کہا تھا کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے۔

اس حصے سے مزید

ہندوستان: سکول بس اور ٹرین میں تصادم، 12 بچے ہلاک

سکول بس توپران کے قریبی قصبے میں ککاتیہ ٹیکنو اسکوکے بچوں کو لے جارہی تھی کہ یہ حادثہ پیش آیا۔

شیوسینا کے ارکان اسمبلی نے ہندوستانی مسلمان کا روزہ تڑوادیا

واقعہ مہاراشترا حکومت کے سرکاری گیسٹ ہاؤس میں پیش آیا جہاں کچن کے نگران ارشد زبیر کو روٹی چبانے پر مجبور کیا گیا

پاکستان ،انڈیا کے خارجہ سیکریٹریز کی ملاقات اگست میں متوقع

ملاقات کے لیے دونوں ملکوں کے سفارت کار مجوزہ تاریخوں پر غور کر رہے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

jsharma1234
09 اکتوبر, 2012 03:06
karodon muslim india me, karodon muslim pakistan me dono ek doosre ke saath dosti aur bhaichare ke saath rishta rakhna chahte hain eak doosre se mil kar tijarat our rishtedari kayam rakhna chahte hai, chand kashmiri logon ki vajah se karodon yahan aur karodon vahan bahut se faydon se masroof hain ,kashmir ko darkinar kar ,dono mulkon ke log karib aa saken aisa kuchch kiye jaane ki jaroorat hai,
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-