02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

عمران - طالبان مذاکرات کی حمایت کریں گے:کائرہ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ ۔ — اے پی پی فوٹو

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان تحریک طالبان سے مذاکرات کریں ،حکومت انہیں تعاون فراہم کرے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ حکومت نے عمران خان کو وزیرستان جانے سے نہیں روکا بلکہ انہیں وہاں امن و امان کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا نے ڈرون حملوں کو غیر قانونی قراردیا ہے  اورحکومت بھی روز اول سے ڈرون حملوں کی مخالف رہی ہے۔

کائرہ کا کہنا تھا کہ صدر زرداری نے عالمی فورم پر پاکستان کی قربانیوں اور ڈرون حملوں کا ذکر کیا ہے۔

قمرزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو دہشتگردی کی کوئی بھی صورت قابل قبول نہیں اور پیپلز پارٹی تمام سیاسی قوتوں سے ملکر دہشتگردی اور بلوچستان کے مسئلے کو حل کرنے کی خواہش مند ہے۔

اس حصے سے مزید

'سفارت کار نقل و حرکت میں احتیاط برتیں'

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق احتیاط کی ہدایات دی گئیں تاہم سفارتخانوں کی بندش کی کوئی ہدایت جاری یا موصول نہیں ہوئی ہے۔

وزیراعظم نیٹو سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے

سیاسی بحران کے باعث وزیراعظم کا دورہ منسوخ کرکے جونیئر سفارتی عہدیدار کو پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھیجا جائے گا۔

کچرہ چننے والوں کی زندگی میں عارضی انقلاب

شاکر جان کی خواہش ہے کہ مظاہرین ڈی چوک پر ہمیشہ موجود رہیں، جن کی وجہ سے اس کے لیے روزی کمانا آسان ہوگیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔