22 ستمبر, 2014 | 26 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

اليکشن ميں امن و امان کا معاملہ انتہائی سنجيدہ ہے، فخرالدین

چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم۔ فائل تصویر

کراچی: جسٹس رٹائرڈ فخرالدين جی ابراہيم اليکشن کميشن سندھ کے دفتر پہنچے اور انتخابی معاملات کا جائزہ ليا۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات میں امن و امان کا معاملہ انتہائی اہم ہے جس کے لئے تمام تجاویز زیرِ غور ہے۔

ميڈيا سے گفت گو ميں فخرو الدین جی ابراہیم کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات کے لئے پولنگ اسٹيشنز کی تعداد ميں اضافہ کيا جارہا ہے۔ عوام انتخاب ميں اپنا حق رائے دہی استعمال کريں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امن و امان کے معاملے کا بھی جائزہ لے رہے ہيں۔

اليکشن کميشن حکام کا کہنا ہے سترہ نومبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے لئے ان کی تيارياں مکمل ہيں، جيسے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا عمل مکمل ہوگا اميد واروں کی فہرستيں جاری کردی جائيں گی۔ r

اس حصے سے مزید

عمران، قادری پر مقدمات کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

دونوں رہنماؤں کیخلاف دہشت گردی کے مقدمات کی تحقیقات کیلیے ایس پی صدر کی صدارت میں ایک 6 رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر ڈی جی آئی ایس آئی مقرر

رضوان اختر اب تک ڈائریکٹر جنرل رینجرز کے عہدے پر کام کررہے تھے، وہ جلد ہی اپنی نئی ذمہ داری سنبھال لیں گے۔

تحریک طالبان کا سابق ترجمان پاکستان کے حوالے

اکرام اللہ مہمند کو افغان نیشنل آرمی کی جانب سے گرفتار کیا گیا تھا، جسے اب پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-