18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

احتساب بل، فئیر ٹرائل بل قومی اسمبلی میں پیش

Islamabad- National Assembly - Interior - 670
صدارت قومی اسمبلی ۔—اے پی پی فوٹو

اسلام آباد: تین سال کے لڑائی جھگڑے کے بعد پیر کے روز قومی اسمبلی میں حکومت نے نیا احتساب بل پیش کردیا۔ اس کا پہلا مقصد ایک آزاد احتساب کمیشن بنانا ہے تاکہ عوامی عہدیداروں کی کرپشن کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکے اور دوسرا مقصد قومی سلامتی کے لیئے جدید الات کا استعمال کرکے دہشت گردی اور جرائم کی تحقیقات کا استعمال کا حق حاصل کرنا ہے۔

قومی اسمبلی میں دو بل پیش کیئے گئے جن پر مسلم لیگ نون اور عوامی نیشنل پارٹی کے ایک ممبر نے سخت تنقید کی۔

قومی اسمبلی میں پیش ہونے والے احتساب کمیشن بل دو ہزار بارہ کے تحت احتساب کمیشن  کا سربراہ سپریم کورٹ کا ریٹائرڈ جج یا گریڈ بائیس کا افسر ہوگا۔

احتساب کمیشن بل دو ہزار بارہ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے پیش کیا۔

مجوزہ قانون کے مطابق قومی احتساب کمیشن کا سربراہ ڈائریکٹر جنرل کہلائے گا اور احتساب بل کو منظوری کے بعد دوہزار دو سے نافذ العمل سمجھا جائے گا۔

ایوان میں مسلم لیگ ن کی جانب سے بل کی مخالفت کی گئی۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ ان کی  سفارشات بل میں شامل نہیں کی گئیں۔ جبکہ اے این پی کا کہنا تھا کہ حکمراں جماعت نے اس معاملے پر انھیں اعتماد میں نہیں لیا۔

وفاقی وزیرخورشید شاہ نے اپوزیشن کی رائے کو اہمیت دینے کی یقین دہانی کرتے ہوئے کرتے ہوئے معاملے کو قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کا اعلان کیا۔

دوسری طرف سینٹ کے اجلاس میں دوہری شہریت پر بیان دیتے ہوئے سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ دوہری شہریت پردوبارہ حلف نامے بھروانا سینیٹ سیکرٹریٹ کا کام نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہو۔

جبکہ چیئرمین سینٹ  نیئر بخاری نے کہا ہے کہ اس کی الیکشن کمیشن  کارروائی کرے اور سینٹ اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو  ملوث نہ کرے۔

ایوان بالا کے اجلاس میں گستخانہ فلم کے خلاف قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی جو سینیٹر اسحاق ڈار نے پیش کی ۔ تاہم فئیر ٹرائل پر فوری طور پر کوئی اختلاف نہیں ہوا۔

فئیرٹرائل بل کے تحت ای میل ،ڈاک اوردیگر مواصلاتی مواد بھی بطور شواہد استعمال ہوں گے۔

ای میلز، ایس ایم ایس، فون کالز اور صوتی اور تصویری ریکارڈنگ بھی قابل قبول ثبوت قرار دیئے جائیں گے جبکہ مشتبہ افراد کو سیشن اور ڈسٹرکٹ کورٹ جج کی طرف سے وارنٹ جاری کے بعد چھ مہینے تک تحویل میں رکھا جائے گا۔

اس حصے سے مزید

سپریم کورٹ نے نیب چیئرمین تقرری کو قانونی قرار دیدیا

دوسری جانب بیرسٹر اعتزاز احسن نے اپنے دلائل میں کہا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی نیب چیئرمین کی تقرری پر متفق ہیں۔

تحفظ پاکستان آرڈیننس سینیٹ میں پیش، اپوزیشن کا احتجاج

اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود وفاقی حکومت نے تحفظ پاکستان بل 2014 کو سینیٹ میں پیش کر دیا ہے۔

پروسیکیوٹر کی تقرری سے متعلق مشرف کی درخواست مسترد

خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔