24 اپريل, 2014 | 23 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت جاری

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری۔ فائل فوٹو

کوئٹہ: سپریم کورٹ کی کوئٹہ رجسٹری میں بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کے دوران پولیس افسر نے بے بسی کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے۔ آج سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ڈاکٹروں کے احتجاج کا نوٹس لیا اور پولیس کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے سوال کیا کہ کوئٹہ میں سیشن جج مارے گئے، پولیس اور ایف سی کے جوان قتل کیے جارہے ہیں لیکن ملزم کیوں نہیں پکڑے جاتے؟

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اغوا کاروں کی گرفتاری میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

لیکن کوئٹہ پولیس کے سربراہ اس سے متفق نہیں تھے، ان کا موقف تھا کہ پیش رفت ہوئی ہے لیکن بتا نہیں سکتے۔

سی سی پی او کوئٹہ کا کہنا تھا کہ  صوبے میں پانچ ہزار جب کہ شہر میں پندرہ سو ڈاکٹرز ہیں جن میں تہتر پروفیسر ہیں اور سب کو سیکیورٹی دینے کے لئے ان کے پاس نفری نہیں ہے۔

اسی دوران چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ کوئٹہ میں ایسی جگہیں بھی ہیں جہاں پولیس بھی نہیں جاسکتی۔

کیس کی سماعت ابھی جاری ہے۔

اس حصے سے مزید

چمن میں دھماکہ، سات افراد زخمی

دھماکہ مال روڈ کے پاس ایک نجی بینک کے قریب پیش آیا، تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

چمن: ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر دھماکا، تین زخمی

واقعے کے نتیجے میں دو خواتین سمیت تین افراد زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد دی جارہی ہے، پولیس۔

کوئٹہ: فائرنگ سے تین افراد ہلاک

فائرنگ ایک گاڑی پر کی گئی، جس میں سوار دو افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ ایک راہگیر بھی فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوا۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

مقدّس ریپ

دو دن وہ اسی گاؤں میں ماں کے بازؤں میں تڑپتی رہی۔ گھر میں پیسے ہی کہاں تھے کہ علاج کے لئے بدین تک ہی پہنچ پاتے۔

میڈیا اور نقل بازی کا کینسر

ایسا نہیں کہ میں کوئی پہلا انسان ہوں جس کے خیالات پر نقب لگائی گئی ہو، مگر آخری ضرور بننا چاہتا ہوں

!مار ڈالو، کاٹ ڈالو

مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس پر شدید غصہ آ رہا ہے اور میں اسے سچ بولنے پر چیخ چیخ کر ڈانٹنا چاہتا ہوں-

خطبہء وزیرستان

کس سازش کے تحت 'آپکو' بدنام کرنے کے لئے دھماکے کیے جاتے ہیں؟ کس صوبے کے مظلوم عوام آپکے بھائی ہیں؟