02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت جاری

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری۔ فائل فوٹو

کوئٹہ: سپریم کورٹ کی کوئٹہ رجسٹری میں بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کے دوران پولیس افسر نے بے بسی کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے۔ آج سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ڈاکٹروں کے احتجاج کا نوٹس لیا اور پولیس کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے سوال کیا کہ کوئٹہ میں سیشن جج مارے گئے، پولیس اور ایف سی کے جوان قتل کیے جارہے ہیں لیکن ملزم کیوں نہیں پکڑے جاتے؟

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اغوا کاروں کی گرفتاری میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

لیکن کوئٹہ پولیس کے سربراہ اس سے متفق نہیں تھے، ان کا موقف تھا کہ پیش رفت ہوئی ہے لیکن بتا نہیں سکتے۔

سی سی پی او کوئٹہ کا کہنا تھا کہ  صوبے میں پانچ ہزار جب کہ شہر میں پندرہ سو ڈاکٹرز ہیں جن میں تہتر پروفیسر ہیں اور سب کو سیکیورٹی دینے کے لئے ان کے پاس نفری نہیں ہے۔

اسی دوران چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ کوئٹہ میں ایسی جگہیں بھی ہیں جہاں پولیس بھی نہیں جاسکتی۔

کیس کی سماعت ابھی جاری ہے۔

اس حصے سے مزید

بلوچستان میں بارہ مشتبہ عسکریت پسند کی ہلاکت کا دعویٰ

گومازئی میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا جس کے نتیجے میں بارہ مشتبہ شرپسند ہلاک ہوگئے۔

بلوچستان: مختلف علاقوں میں فائرنگ، چار افراد ہلاک

کوہلو، ڈیرہ مراد جمالی اور قلعہ عبداللہ میں نامعلوم مسلح افراد کی ٹارگٹ کلنگ سے دو افراد زخمی بھی ہوئے۔

بلوچستان: ذکری فرقے کے چھ افراد سمیت نو ہلاک

حکام کے مطابق مسلح افراد نے ذکری فرقے سے تعلق والے افراد پر اس وقت فائرنگ کردی جب وہ ایک عبادت گاہ میں موجود تھے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔