02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت جاری

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری۔ فائل فوٹو

کوئٹہ: سپریم کورٹ کی کوئٹہ رجسٹری میں بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کے دوران پولیس افسر نے بے بسی کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے۔ آج سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ڈاکٹروں کے احتجاج کا نوٹس لیا اور پولیس کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے سوال کیا کہ کوئٹہ میں سیشن جج مارے گئے، پولیس اور ایف سی کے جوان قتل کیے جارہے ہیں لیکن ملزم کیوں نہیں پکڑے جاتے؟

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اغوا کاروں کی گرفتاری میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

لیکن کوئٹہ پولیس کے سربراہ اس سے متفق نہیں تھے، ان کا موقف تھا کہ پیش رفت ہوئی ہے لیکن بتا نہیں سکتے۔

سی سی پی او کوئٹہ کا کہنا تھا کہ  صوبے میں پانچ ہزار جب کہ شہر میں پندرہ سو ڈاکٹرز ہیں جن میں تہتر پروفیسر ہیں اور سب کو سیکیورٹی دینے کے لئے ان کے پاس نفری نہیں ہے۔

اسی دوران چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ کوئٹہ میں ایسی جگہیں بھی ہیں جہاں پولیس بھی نہیں جاسکتی۔

کیس کی سماعت ابھی جاری ہے۔

اس حصے سے مزید

کوئٹہ: ڈبل روڈ پر دھماکا، تین افراد ہلاک

نامعلوم افراد نے ایک حمام کو دستی بم سے نشانہ بنایا جس سے نو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی خان آف قلات کی واپسی کی خواہش مند

بلوچستان اسمبلی نے ایک متقفہ قرارداد کے ذریعے خان آف قلات پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی دھرا میں شامل ہوں۔

بلوچستان کے 27 اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم کا آغاز

تقریباً چار ہزار سے زائد ٹیمیں اس مہم میں حصہ لی رہی ہیں، جبکہ 14 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟