19 ستمبر, 2014 | 23 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت جاری

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری۔ فائل فوٹو

کوئٹہ: سپریم کورٹ کی کوئٹہ رجسٹری میں بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کے دوران پولیس افسر نے بے بسی کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے۔ آج سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ڈاکٹروں کے احتجاج کا نوٹس لیا اور پولیس کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے سوال کیا کہ کوئٹہ میں سیشن جج مارے گئے، پولیس اور ایف سی کے جوان قتل کیے جارہے ہیں لیکن ملزم کیوں نہیں پکڑے جاتے؟

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اغوا کاروں کی گرفتاری میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

لیکن کوئٹہ پولیس کے سربراہ اس سے متفق نہیں تھے، ان کا موقف تھا کہ پیش رفت ہوئی ہے لیکن بتا نہیں سکتے۔

سی سی پی او کوئٹہ کا کہنا تھا کہ  صوبے میں پانچ ہزار جب کہ شہر میں پندرہ سو ڈاکٹرز ہیں جن میں تہتر پروفیسر ہیں اور سب کو سیکیورٹی دینے کے لئے ان کے پاس نفری نہیں ہے۔

اسی دوران چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ کوئٹہ میں ایسی جگہیں بھی ہیں جہاں پولیس بھی نہیں جاسکتی۔

کیس کی سماعت ابھی جاری ہے۔

اس حصے سے مزید

بلوچستان: کیچ میں دھماکے سے سیکیورٹی اہلکار قتل

بلوچستان کے ضلع کیچ میں بم دھماکے سے ایک سیکورٹی اہلکار ہلاک ہو گیا، گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

بلوچستان کے تین وزراء کے خلاف نیب کی تفتیش کا آغاز

نیب کے ڈائریکٹر سید خالد اقبال کا کہنا تھا کہ ہم تین وزراء کے خلاف کرپشن میں ملؤث ہونے کی شکایات کی تصدیق کررہے ہیں۔

بلوچستان: سیکیورٹی کانفرنس میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال

کانفرنس کے دوران ایف سی کا کہنا تھا کہ وہ امن کی بحالی کے لیے پولیس اور دیگر اداروں کے سات تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مزید جمہوریت

نظام لپیٹ دینے اور امپائر کی باتیں کرنے کے بجائے ہمارا مطالبہ صرف مزید جمہوریت ہونا چاہیے، کم جمہوریت نہیں۔

تبدیلی آگئی ہے

ملک میں شہری حقوق کی عدم موجودگی میں عوام اب وسیع تر بھلائی کا سوچنے کے بجائے اپنے اپنے مفاد کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

بلاگ

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔

کراچی میں فرقہ وارانہ دہشتگردی

کراچی ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ دہشت گردی کی زد میں ہے اور روزانہ کوئی نہ کوئی بے گناہ سنی یا شیعہ اپنی جان گنوا رہا ہے۔

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔