23 جولائ, 2014 | 24 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

تیرہ لڑکیوں کو ونی کرنے کا ازخود نوٹس

سپریم کورٹ ۔ فائل تصویر

اسلام آباد:  سپریم کورٹ نے ڈیرہ بگٹی میں تیرہ بچیوں کو ونی کئے جانے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے طارق مسوری بگٹی اور ونی قرار دی گئی بچیوں کو کل عدالت میں طلب کرلیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مسئلہ علاقے کا نہیں بلکہ ان بچیوں کو انصاف دلانے کا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ بچیوں کو ڈیرہ بگٹی نہیں ضلع بارکھان میں ونی کیا گیا۔

رپورٹوں کے مطابق پانچ روز قبل بکر میں مبینہ طور پر رکن اسمبلی طارق مسوری بگٹی کی سربراہی میں ایک جرگے کا انعقاد ہوا تھا اور خونی تنازعے کے تصفیے کیلیے تیرہ لڑکیوں کو ونی کردیا تھا۔

تیرہ لڑکیاں ونی میں دینے کے ساتھ ساتھ جرگے نے تیس لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔

تاہم طارق مسوری نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نہ ہی انہیں ایسے کسی جرگے کے بارے میں علم ہے اور نہ ہی انہوں نے اس کی صدارت کی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ گزشتہ تین ہفتوں سے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کی وجہ سے ڈیرہ بگٹی میں موجود نہیں تھے۔

ونی ایک رسم ہے جس میں ناراض پارٹی کو تنازعہ حل کرنے لیئے لڑکیاں شادیوں کے لیئے دے دی جاتیں ہیں۔ یہ رسم برسوں سے صوبہ خیبر پختونخواہ صوبہ بلوچستان اور سندھ کے کچھ حصوں میں مختلف ناموں سے موجود ہیں۔

اینٹی خواتین پریکٹس کی روک تھام کے لیئے سن دو ہزار گیارہ میں ایک ایکٹ بنایا گیا تھا جس نے اس رسم کو جرم قرار دیا تھا۔

اس ایکٹ کے مطابق 'کوئی بھی آدمی بدلہ صلح، ونی، سوارا یا کسی دوسری رسم یا پریکٹس کے تحت چاہے وہ کسی نام سے بھی ہو، کسی سول تنازعہ کو حل کرنے کے لیئے کسی بھی لڑکی کو شادی کے لیئے دے گا یا اسے شادی پر مجبور کرے گا، اسے قید کی سزا دی جائے گی جو سات سال تک ہوسکتی ہے لیکن تین سال سے کم نہیں ہوسکتی اور اس کے ساتھ ساتھ اس پر پانچ لاکھ جرمانہ بھی ہوگا۔

اس حصے سے مزید

مستونگ میں دو خواتین پر تیزاب سے حملہ

تیزاب سے جھلسنے والی خواتین کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے ، جہان اُن کی حالت تشویش ناک ہے، حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب

کوئٹہ میں 3 خواتین پر تیزاب پھینک دیا گیا

سریاب کے علاقے میں حملے کا شکار ہونیوالی خواتین کو تشویش ناک حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

مشترکہ اسلامی فوج کی تجویز

اگر مسلمان ملک اسرائیلی جارحیت کا جواب دینے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں نیٹو کی طرز پر ایک فوج بنانا ہو گی، ق لیگی رہنما۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

azim
09 اکتوبر, 2012 11:38
پاکستان کے انصاف پسند اصول پسند چیف جسٹس کو نظر آتا ہے جب ایک سیاستدان وحیدہ شاہ ایک پولنگ ایجنٹ کو تھپڑ مارتی ہے اور وہ اچانک سو موٹو ایکشن لے لیتے ہیں لیکن جب پاکستان میں شیعہ مسلمان ذبح کیے جاتے ہیں تو یہ جناب سو موٹو نہیں لیتے نہ کسی فوجی یا حکومتی اہلکار کو عدالت میں طلب کرتے ہیں کیا یہ بلکہ پانچ سال کے عرصے میں شیعہ مسلمانوں کے 2800 قاتلوں کو یہ کہ کر چھوڑ دیتے ہیں ہے پولیس نے سہی کیس نہیں بنایا کیا یہ شخص اس منصب کے قابل ھے جو سیاسی سو موٹو ایکشن لیتا ھے اس سے اس کی ریا کاری ظاھر ھوتی ھے
سروے
مقبول ترین
قلم کار

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

کیا بڑا بہتر ہے؟

ہم اپنی جنوب ایشیائی شناخت سے پیچھا کیوں چھڑانا چاہتے ہیں جو تاریخی اعتبار سے عرب کے مقابلے میں کہیں زیادہ مالامال ہے؟

بلاگ

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-

مووی ریویو: پیزا - پلاٹ اچھا ہے

اگرچہ سکرین پلے کافی کمزور ہے مگر فلم کی کہانی میں آنے والے موڑ دیکھنے والوں کی دلچسپی برقرار رکھتے ہیں۔

جہادی برائے فروخت

اگر اب بھی سمجھ نہ آئی تو پاکستان کا حشر بھی عراق و شام سے مختلف نہیں ہوگا۔