17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

تیرہ لڑکیوں کو ونی کرنے کا ازخود نوٹس

سپریم کورٹ ۔ فائل تصویر

اسلام آباد:  سپریم کورٹ نے ڈیرہ بگٹی میں تیرہ بچیوں کو ونی کئے جانے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے طارق مسوری بگٹی اور ونی قرار دی گئی بچیوں کو کل عدالت میں طلب کرلیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مسئلہ علاقے کا نہیں بلکہ ان بچیوں کو انصاف دلانے کا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ بچیوں کو ڈیرہ بگٹی نہیں ضلع بارکھان میں ونی کیا گیا۔

رپورٹوں کے مطابق پانچ روز قبل بکر میں مبینہ طور پر رکن اسمبلی طارق مسوری بگٹی کی سربراہی میں ایک جرگے کا انعقاد ہوا تھا اور خونی تنازعے کے تصفیے کیلیے تیرہ لڑکیوں کو ونی کردیا تھا۔

تیرہ لڑکیاں ونی میں دینے کے ساتھ ساتھ جرگے نے تیس لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔

تاہم طارق مسوری نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نہ ہی انہیں ایسے کسی جرگے کے بارے میں علم ہے اور نہ ہی انہوں نے اس کی صدارت کی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ گزشتہ تین ہفتوں سے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کی وجہ سے ڈیرہ بگٹی میں موجود نہیں تھے۔

ونی ایک رسم ہے جس میں ناراض پارٹی کو تنازعہ حل کرنے لیئے لڑکیاں شادیوں کے لیئے دے دی جاتیں ہیں۔ یہ رسم برسوں سے صوبہ خیبر پختونخواہ صوبہ بلوچستان اور سندھ کے کچھ حصوں میں مختلف ناموں سے موجود ہیں۔

اینٹی خواتین پریکٹس کی روک تھام کے لیئے سن دو ہزار گیارہ میں ایک ایکٹ بنایا گیا تھا جس نے اس رسم کو جرم قرار دیا تھا۔

اس ایکٹ کے مطابق 'کوئی بھی آدمی بدلہ صلح، ونی، سوارا یا کسی دوسری رسم یا پریکٹس کے تحت چاہے وہ کسی نام سے بھی ہو، کسی سول تنازعہ کو حل کرنے کے لیئے کسی بھی لڑکی کو شادی کے لیئے دے گا یا اسے شادی پر مجبور کرے گا، اسے قید کی سزا دی جائے گی جو سات سال تک ہوسکتی ہے لیکن تین سال سے کم نہیں ہوسکتی اور اس کے ساتھ ساتھ اس پر پانچ لاکھ جرمانہ بھی ہوگا۔

اس حصے سے مزید

کوئٹہ میں فائرنگ، دو افراد ہلاک

موٹر سایئکل سوار حملہ آوروں نے دکان کو نشانہ بنایا جسکے نتیجے میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے دو افراد ہلاک ہوگئے، پولیس۔

'ہندوستان بلوچ علیحدگی پسند تحریک کی فنڈنگ کرتا ہے'

سینیئر صوبائی وزیر ثناء اللہ زہری کے مطابق گوادر پورٹ کے قیام سے دیگر ممالک بھی صوبے میں مداخلت کرسکتے ہیں۔

کوئٹہ: ہزارہ برادری کے دو افراد کی ٹارگٹ کلنگ

مسلح افراد نے کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر ہفتے کی رات فائرنگ کر کے شیعہ ہزارہ برادری کے دو افراد کو ہلاک کردیا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

azim
09 اکتوبر, 2012 11:38
پاکستان کے انصاف پسند اصول پسند چیف جسٹس کو نظر آتا ہے جب ایک سیاستدان وحیدہ شاہ ایک پولنگ ایجنٹ کو تھپڑ مارتی ہے اور وہ اچانک سو موٹو ایکشن لے لیتے ہیں لیکن جب پاکستان میں شیعہ مسلمان ذبح کیے جاتے ہیں تو یہ جناب سو موٹو نہیں لیتے نہ کسی فوجی یا حکومتی اہلکار کو عدالت میں طلب کرتے ہیں کیا یہ بلکہ پانچ سال کے عرصے میں شیعہ مسلمانوں کے 2800 قاتلوں کو یہ کہ کر چھوڑ دیتے ہیں ہے پولیس نے سہی کیس نہیں بنایا کیا یہ شخص اس منصب کے قابل ھے جو سیاسی سو موٹو ایکشن لیتا ھے اس سے اس کی ریا کاری ظاھر ھوتی ھے
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟