28 جولائ, 2014 | 29 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

تیرہ لڑکیوں کو ونی کرنے کا ازخود نوٹس

سپریم کورٹ ۔ فائل تصویر

اسلام آباد:  سپریم کورٹ نے ڈیرہ بگٹی میں تیرہ بچیوں کو ونی کئے جانے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے طارق مسوری بگٹی اور ونی قرار دی گئی بچیوں کو کل عدالت میں طلب کرلیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مسئلہ علاقے کا نہیں بلکہ ان بچیوں کو انصاف دلانے کا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ بچیوں کو ڈیرہ بگٹی نہیں ضلع بارکھان میں ونی کیا گیا۔

رپورٹوں کے مطابق پانچ روز قبل بکر میں مبینہ طور پر رکن اسمبلی طارق مسوری بگٹی کی سربراہی میں ایک جرگے کا انعقاد ہوا تھا اور خونی تنازعے کے تصفیے کیلیے تیرہ لڑکیوں کو ونی کردیا تھا۔

تیرہ لڑکیاں ونی میں دینے کے ساتھ ساتھ جرگے نے تیس لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔

تاہم طارق مسوری نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نہ ہی انہیں ایسے کسی جرگے کے بارے میں علم ہے اور نہ ہی انہوں نے اس کی صدارت کی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ گزشتہ تین ہفتوں سے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کی وجہ سے ڈیرہ بگٹی میں موجود نہیں تھے۔

ونی ایک رسم ہے جس میں ناراض پارٹی کو تنازعہ حل کرنے لیئے لڑکیاں شادیوں کے لیئے دے دی جاتیں ہیں۔ یہ رسم برسوں سے صوبہ خیبر پختونخواہ صوبہ بلوچستان اور سندھ کے کچھ حصوں میں مختلف ناموں سے موجود ہیں۔

اینٹی خواتین پریکٹس کی روک تھام کے لیئے سن دو ہزار گیارہ میں ایک ایکٹ بنایا گیا تھا جس نے اس رسم کو جرم قرار دیا تھا۔

اس ایکٹ کے مطابق 'کوئی بھی آدمی بدلہ صلح، ونی، سوارا یا کسی دوسری رسم یا پریکٹس کے تحت چاہے وہ کسی نام سے بھی ہو، کسی سول تنازعہ کو حل کرنے کے لیئے کسی بھی لڑکی کو شادی کے لیئے دے گا یا اسے شادی پر مجبور کرے گا، اسے قید کی سزا دی جائے گی جو سات سال تک ہوسکتی ہے لیکن تین سال سے کم نہیں ہوسکتی اور اس کے ساتھ ساتھ اس پر پانچ لاکھ جرمانہ بھی ہوگا۔

اس حصے سے مزید

خضدار: گریشہ میں دھماکا، سات افراد زخمی

دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو گریشہ سے ضلع خضدار کے سول ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔

کوئٹہ میں فائرنگ، دو پولیس اہلکار ہلاک

سریاب روڈ پر دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی۔

جھل مگسی میں' غیرت' کے نام پر لڑکی قتل

ضلع جھل مگسی کے آخند دانی گاؤں میں ایک باپ نے مبینہ طور پر'غیرت' کے نام پر اپنی بیٹی کو قتل کر دیا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

azim
09 اکتوبر, 2012 11:38
پاکستان کے انصاف پسند اصول پسند چیف جسٹس کو نظر آتا ہے جب ایک سیاستدان وحیدہ شاہ ایک پولنگ ایجنٹ کو تھپڑ مارتی ہے اور وہ اچانک سو موٹو ایکشن لے لیتے ہیں لیکن جب پاکستان میں شیعہ مسلمان ذبح کیے جاتے ہیں تو یہ جناب سو موٹو نہیں لیتے نہ کسی فوجی یا حکومتی اہلکار کو عدالت میں طلب کرتے ہیں کیا یہ بلکہ پانچ سال کے عرصے میں شیعہ مسلمانوں کے 2800 قاتلوں کو یہ کہ کر چھوڑ دیتے ہیں ہے پولیس نے سہی کیس نہیں بنایا کیا یہ شخص اس منصب کے قابل ھے جو سیاسی سو موٹو ایکشن لیتا ھے اس سے اس کی ریا کاری ظاھر ھوتی ھے
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔