25 اپريل, 2014 | 24 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

تیرہ لڑکیوں کو ونی کرنے کا ازخود نوٹس

سپریم کورٹ ۔ فائل تصویر

اسلام آباد:  سپریم کورٹ نے ڈیرہ بگٹی میں تیرہ بچیوں کو ونی کئے جانے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے طارق مسوری بگٹی اور ونی قرار دی گئی بچیوں کو کل عدالت میں طلب کرلیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مسئلہ علاقے کا نہیں بلکہ ان بچیوں کو انصاف دلانے کا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ بچیوں کو ڈیرہ بگٹی نہیں ضلع بارکھان میں ونی کیا گیا۔

رپورٹوں کے مطابق پانچ روز قبل بکر میں مبینہ طور پر رکن اسمبلی طارق مسوری بگٹی کی سربراہی میں ایک جرگے کا انعقاد ہوا تھا اور خونی تنازعے کے تصفیے کیلیے تیرہ لڑکیوں کو ونی کردیا تھا۔

تیرہ لڑکیاں ونی میں دینے کے ساتھ ساتھ جرگے نے تیس لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔

تاہم طارق مسوری نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نہ ہی انہیں ایسے کسی جرگے کے بارے میں علم ہے اور نہ ہی انہوں نے اس کی صدارت کی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ گزشتہ تین ہفتوں سے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کی وجہ سے ڈیرہ بگٹی میں موجود نہیں تھے۔

ونی ایک رسم ہے جس میں ناراض پارٹی کو تنازعہ حل کرنے لیئے لڑکیاں شادیوں کے لیئے دے دی جاتیں ہیں۔ یہ رسم برسوں سے صوبہ خیبر پختونخواہ صوبہ بلوچستان اور سندھ کے کچھ حصوں میں مختلف ناموں سے موجود ہیں۔

اینٹی خواتین پریکٹس کی روک تھام کے لیئے سن دو ہزار گیارہ میں ایک ایکٹ بنایا گیا تھا جس نے اس رسم کو جرم قرار دیا تھا۔

اس ایکٹ کے مطابق 'کوئی بھی آدمی بدلہ صلح، ونی، سوارا یا کسی دوسری رسم یا پریکٹس کے تحت چاہے وہ کسی نام سے بھی ہو، کسی سول تنازعہ کو حل کرنے کے لیئے کسی بھی لڑکی کو شادی کے لیئے دے گا یا اسے شادی پر مجبور کرے گا، اسے قید کی سزا دی جائے گی جو سات سال تک ہوسکتی ہے لیکن تین سال سے کم نہیں ہوسکتی اور اس کے ساتھ ساتھ اس پر پانچ لاکھ جرمانہ بھی ہوگا۔

اس حصے سے مزید

چمن میں دھماکہ، سات افراد زخمی

دھماکہ مال روڈ کے پاس ایک نجی بینک کے قریب پیش آیا، تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

چمن: ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر دھماکا، تین زخمی

واقعے کے نتیجے میں دو خواتین سمیت تین افراد زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد دی جارہی ہے، پولیس۔

کوئٹہ: فائرنگ سے تین افراد ہلاک

فائرنگ ایک گاڑی پر کی گئی، جس میں سوار دو افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ ایک راہگیر بھی فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

azim
09 اکتوبر, 2012 11:38
پاکستان کے انصاف پسند اصول پسند چیف جسٹس کو نظر آتا ہے جب ایک سیاستدان وحیدہ شاہ ایک پولنگ ایجنٹ کو تھپڑ مارتی ہے اور وہ اچانک سو موٹو ایکشن لے لیتے ہیں لیکن جب پاکستان میں شیعہ مسلمان ذبح کیے جاتے ہیں تو یہ جناب سو موٹو نہیں لیتے نہ کسی فوجی یا حکومتی اہلکار کو عدالت میں طلب کرتے ہیں کیا یہ بلکہ پانچ سال کے عرصے میں شیعہ مسلمانوں کے 2800 قاتلوں کو یہ کہ کر چھوڑ دیتے ہیں ہے پولیس نے سہی کیس نہیں بنایا کیا یہ شخص اس منصب کے قابل ھے جو سیاسی سو موٹو ایکشن لیتا ھے اس سے اس کی ریا کاری ظاھر ھوتی ھے
مقبول ترین
بلاگ

مقدّس ریپ

دو دن وہ اسی گاؤں میں ماں کے بازؤں میں تڑپتی رہی۔ گھر میں پیسے ہی کہاں تھے کہ علاج کے لئے بدین تک ہی پہنچ پاتے۔

میڈیا اور نقل بازی کا کینسر

ایسا نہیں کہ میں کوئی پہلا انسان ہوں جس کے خیالات پر نقب لگائی گئی ہو، مگر آخری ضرور بننا چاہتا ہوں

!مار ڈالو، کاٹ ڈالو

مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس پر شدید غصہ آ رہا ہے اور میں اسے سچ بولنے پر چیخ چیخ کر ڈانٹنا چاہتا ہوں-

خطبہء وزیرستان

کس سازش کے تحت 'آپکو' بدنام کرنے کے لئے دھماکے کیے جاتے ہیں؟ کس صوبے کے مظلوم عوام آپکے بھائی ہیں؟