03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

سندھ: پی پی پی رہنماؤں کے گھروں پر کریکر حملے

سندھ کے وزیرقانون ایازسومرو۔— فائل فوٹو

کراچی: صوبہ سندھ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے پانچ رہنماؤں کے گھروں پر حملوں کے بعد ان کی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

منگل کی صبح پی پی پی کے صوبائی وزراء اور ارکان صوبائی اسمبلی کے گھروں پر کریکر بموں سے حملے کیے گئے۔

ڈان نیوز کے مطابق، شکارپور کے علاقے گڑھی یاسین میں وزیربلدیات سندھ آغا سراج درانی کے گھر پر بم حملے میں گھر کے عقبی دروازے اور دیواروں کو نقصان پہنچا۔

واقعہ کے بعد پولیس کی اضافی نفری تعینات کرکے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

لاڑکانہ میں وزیرقانون ایازسومرو کے گھر میں کریکر پھینکا گیا لیکن وہ پھٹ نہ سکا۔

دوسری جانب، حیدرآباد میں ٹنڈوالہیار سے منتخب ہونے والے رکن سندھ اسمبلی امداد پتافی کے گھر پر دستی بم پھینکا گیا، جس سےگھر کو جزوی نقصان پہنچاتاہم کوئی جانی ننقصان نہیں ہوا۔

گھر میں موجود افراد کا کہنا تھا کہ نامعلوم افراد دستی بم پھنک کر فرار ہوگئے۔

ادھر، میرپورخاص کے علاقے ڈگری میں پیپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی میرحیات تالپور کے گھر سے مشکوک بیگ ملا۔ بیگ کے ساتھ موجود پمفلیٹس پر سندھودیش لبریشن آرمی لکھا تھا۔

حیات تالپور کے گھر کے باہر پولیس کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔

نوابشاہ میں رکن سندھ اسمبلی فصیح شاہ کے گھر سے پانچ کلو وزنی بم ملا، جسے ناکارہ بنادیا گیا۔

واضح رہے کہ ہفتے کی رات کو خیرپورمیں پیپلز پارٹی کے جلسے عام میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے نجی ٹی وی کے رپورٹر سمیت چھ افراد ہلاک جبکہ چار زخمی ہوئے تھے۔

جانوری گوٹھ میں رکن قومی اسمبلی اور وزیر اعلی کی بیٹی سیدہ نفیسہ شاہ کے جلسہ میں اس وقت نامعلوم افراد نے اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جب وہ خطاب کرنے جارہی تھیں۔

اس حصے سے مزید

حیدر آباد: عمارت گرنے سے 13 افراد ہلاک، متعدد زخمی

چوڑی پاڑہ میں گرنے والی تین منزلہ عمارت کے ملبے تلے دب کر مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

قحط کا شکار تھر، لوگ غربت کے باعث خودکشی کر رہے ہیں

محض سات مہینوں کے اندر تھرپارکر ضلع میں اکتیس افراد غربت کے باعث موت کو گلے لگا چکے ہیں۔

وزیراعظم، وزیرداخلہ کی نااہلی کے لیے درخواست دائر

سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نواز شریف کو آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت نااہل قرار دیا جائے


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔