19 ستمبر, 2014 | 23 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

سندھ: پی پی پی رہنماؤں کے گھروں پر کریکر حملے

سندھ کے وزیرقانون ایازسومرو۔— فائل فوٹو

کراچی: صوبہ سندھ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے پانچ رہنماؤں کے گھروں پر حملوں کے بعد ان کی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

منگل کی صبح پی پی پی کے صوبائی وزراء اور ارکان صوبائی اسمبلی کے گھروں پر کریکر بموں سے حملے کیے گئے۔

ڈان نیوز کے مطابق، شکارپور کے علاقے گڑھی یاسین میں وزیربلدیات سندھ آغا سراج درانی کے گھر پر بم حملے میں گھر کے عقبی دروازے اور دیواروں کو نقصان پہنچا۔

واقعہ کے بعد پولیس کی اضافی نفری تعینات کرکے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

لاڑکانہ میں وزیرقانون ایازسومرو کے گھر میں کریکر پھینکا گیا لیکن وہ پھٹ نہ سکا۔

دوسری جانب، حیدرآباد میں ٹنڈوالہیار سے منتخب ہونے والے رکن سندھ اسمبلی امداد پتافی کے گھر پر دستی بم پھینکا گیا، جس سےگھر کو جزوی نقصان پہنچاتاہم کوئی جانی ننقصان نہیں ہوا۔

گھر میں موجود افراد کا کہنا تھا کہ نامعلوم افراد دستی بم پھنک کر فرار ہوگئے۔

ادھر، میرپورخاص کے علاقے ڈگری میں پیپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی میرحیات تالپور کے گھر سے مشکوک بیگ ملا۔ بیگ کے ساتھ موجود پمفلیٹس پر سندھودیش لبریشن آرمی لکھا تھا۔

حیات تالپور کے گھر کے باہر پولیس کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔

نوابشاہ میں رکن سندھ اسمبلی فصیح شاہ کے گھر سے پانچ کلو وزنی بم ملا، جسے ناکارہ بنادیا گیا۔

واضح رہے کہ ہفتے کی رات کو خیرپورمیں پیپلز پارٹی کے جلسے عام میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے نجی ٹی وی کے رپورٹر سمیت چھ افراد ہلاک جبکہ چار زخمی ہوئے تھے۔

جانوری گوٹھ میں رکن قومی اسمبلی اور وزیر اعلی کی بیٹی سیدہ نفیسہ شاہ کے جلسہ میں اس وقت نامعلوم افراد نے اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جب وہ خطاب کرنے جارہی تھیں۔

اس حصے سے مزید

جامعہ کراچی میں تدرسی عمل غیر معینہ مدت کے لیے بند

یونیورسٹی کی ٹیچر سوسائٹی کا کہنا تھا کہ تدریسی عمل اس وقت تک بحال نہیں ہوگا جب تک ان مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔

آئین کے مسودے کی گمشدگی، وفاق اور صوبوں سے جواب طلب

سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 1973ء کے آئین کا اصل مسودہ قومی اسمبلی سے چوری ہوگیا تھا۔

کراچی: فائرنگ کے واقعات میں سیاسی کارکن سمیت چار افراد ہلاک

پولیس اور رینجرز کے آپریشن کے باوجود شہر میں ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان جیسے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

رودرہیم کا سبق

بچوں پر ہونیوالے جنسی تشدد پر ہماری شرمندگی کی سمت غلط ہے۔ شرم کی بات تو یہ ہے کہ ہم اس کو روکنے کی کوشش نہ کریں-

رکاوٹیں توڑ دو

اشرافیہ تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق کرنے پر تلی ہوئی ہے جو خاص طور سے 1970ء کی دہائی کے بعد سے بد سے بدتر ہورہاہے۔

بلاگ

مووی ریویو: دختر -- دلوں کو چُھو لینے والی کہانی

اپنی تمام تر خوبیوں اور کچھ خامیوں کے ساتھ اس فلم کو پاکستانی نکتہ نگاہ سے پیش کیا گیا ہے۔

پھر وہی ڈیموں پر بحث

ڈیموں سے زراعت کے لیے پانی ملتا ہے، پانی پر کنٹرول سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور توانائی بحران ختم کیا جاسکتا ہے۔

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔