28 جولائ, 2014 | 29 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

ملالہ کو علاج کیلیے بیرون ملک منتقل نہیں کر رہے، ملک

آرمی ڈاکٹرز کی ٹیم ملالہ کا معائنہ کرتے ہوئے- آئی این پی فوٹو

پشاور: وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ قومی امن ایوارڈ یافتہ ملالہ یوسفزئی پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی ہے، حملہ کرنے والے دہشت گرد کہیں نہیں بھاگ سکتے۔

بدھ کو سی ایم ایچ پشاور میں ملالہ یوسف زئی کی عیادت کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ملالہ یوسف زئی پر حملہ کرنے والے دہشت گرد کہیں بھاگ نہیں سکتے انھیں گرفتار کر کے ہرحال میں قرارواقعی سزا دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ملالہ پرحملہ کرنے والے دہشت گردوں کی شناخت ہو گئی ہے اور ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ وہ کتنے دن پہلے سوات میں آئے تھے اورانہوں نے کن کن لوگوں کو استعمال کیا اور کیا طریقہ واردات اختیار کیا۔

رحمان ملک نے مزید کہا کہ ملالہ کو علاج کیلیے بیرون ملک بھیجے جانے سے متعلق فیصلہ فی الحال موخر کردیا گیا، ڈاکٹروں کے مطابق ملالہ کی حالت خطرے سے باہر ہے لیکن اگر ڈاکٹروں تجویز کیا تو انہیں مزید علاج کیلیے بیرون ملک بھیجا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں نے ملالہ کے سر میں لگنے والی گولی جو ان کے کندھے تک جا پہنچی تھی اس کو آپریشن کے ذریعے نکال دیا ہے اور میڈیکل بورڈ کی رائے کے مطابق ملالہ کو فی الحال بیرون ملک نہیں بھیجا جا رہا، ڈاکٹروں کی رپورٹ کے مطابق ملالہ کے دماغ کا مرکزی حصہ متاثر نہیں ہوا۔

 اس سے قبل طالبان کے قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہونے والی ملالہ کے سر سے گولی نکال لی گئی تھی لیکن ان کو مزید علاج کیلیے بیرون ملک منتقل کرنے کی اطلاعات تھیں۔

ملالہ یوسفزئی کو سوات میں ان کی اسکول بس میں گولی ماری گئی تھی جس میں ان کی دو سہیہلیاں بھی زخمی ہوئی تھیں۔ اس حملے کے بعد ملالہ کو ملٹری ہسپتال میں داخل کردیا گیا تھا۔

ملالہ کو منگل کی رات انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا جہاں ڈاکٹرز نے ان کی حالت کو سیریس قرار دی۔

ایک ملٹری افسر نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ماہر ڈاکٹرز ملالہ کی حالت کا جائزہ لینے بدھ کے روز پشاور روانہ ہوئے ہیں۔

افسر کا کہنا تھا کہ ان کا ایجنڈا دو نکاتی ہے۔ ایک یہ کہ ملالہ کی حالت دیکھتے ہوئے انہیں بیرون ملک لے جایا جائے، دوسرا کہ ان کی سرجری ادھر ہی کردی جائے۔

گزشتہ رات سی ایم ایچ ہسپتال میں ایک ڈاکٹر نے اے ایف پی کو بتایا کہ گولی ان کے سر سے گزر کر ان کی گردن کے قریب پیچھے کندھے کی طرف چلی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملالہ اس وقت انتہائی نگہداشت یونٹ میں نیم بے ہوشی کی حالت میں ہیں تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ ملالہ اس وقت وینٹیلیٹر پر نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آنے والے تین سے چار دن ملالہ کے لیے بہت اہم ہیں۔

دوسرے طرف پی آئی اے چیف جنید یوسف نے اے ایف پی کو بتایا کہ پی آئی اے کا طیارہ تیار کھڑا ہے، بس آرڈر ملنے کی دیر ہے۔

اس حصے سے مزید

کے پی اور فاٹا میں آج عید منائی جارہی ہے

پشاور سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں نمازِ عید کے اجتماعات میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

اسلام آباد میں فوج کی طلبی، سیاسی جماعتوں کی مخالفت

خیبر پختونخوا میں قومی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملک میں مارشل لاء کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی، سراج الحق

جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ اُن کی جماعت کسی بھی غیرقانونی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (7)

zak
10 اکتوبر, 2012 06:51
Those who attacks mosques, schools tombs, innocent men women and childrens, not allowed them to use the word islam or muslims, just call them taliban firqa طالبان فرقه and followers of taliban firqa.
Mohammad jehangir
10 اکتوبر, 2012 11:19
پڑہئیے گااقبال جہانگیر کا تازہ بلاگ : طالبان کا ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملہ http://www.awazepakistan.wordpress.com
Raza
10 اکتوبر, 2012 14:51
Qom ki baity malala yosuf zai per qatlana hamla ma Talban ki siyasat hai. Meray khaiyal ma wo jo Talban ko support karta hai unhi logo ka hat hai. Ye buzdily hai. Wasa bhi ourat per hath utana mardangi nahi. Talban ki ab ahmiyat khatam hogai. Allah Tala se Dua hai. Malala ko sahat Tandurusti Ata farfai. Aamee
muhammad yaseen
10 اکتوبر, 2012 15:07
ye boht bora howa ha mala to hemary k hiro t taleban ka is masom bajy se kysa kam ta m hokmat se apel krta ho k is k molzmo ko jald az jald pkra jy or malala ko ny zendge ata kry is ko sehat naseb gta prmay
syed naved
10 اکتوبر, 2012 23:49
ان کو انسان کہن بھی یقینی طور پر انسانیت کی توھین و تذلیل ھ ،تحریک طالبان نے ملالہ کی ساتھ بہت بڑا نا انصافی ،ظلم کی ہے ،یہ لوگ مافی کے حقدار بھی نہیں بن سکتے .........
ادریس حیدر
11 اکتوبر, 2012 11:19
ملالہ یوسف زئی پر حملہ انتہائی افسوسناک عمل ہے اس کڑے وقت میں ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس سوچ کا مقابلہ کریں جو انتہا پسندی اور شدت پسندی کی سوچ ہے اور اس بات کو سمجھیں کہ طاقت گولی میں نہیں گفتگو میں ہے ملالہ یوسف زئی بلاشبہ ایک توانا آواز ہیں جنہوں نے طالبان کی شدت پسندانہ ذہنیت کو بے نقاب کیا اور پوری دنیا پر یہ واضح کیا کہ ہم امن چاہتے ہیں اور امن پسند قوم ہیں وہ ہمیں نہیں ہماری اس سوچ کو مارنا چاہتے ہیں جس کا مظاہرہ ملالہ نے اپنی تحریروں اور اپنی گفتگو میں کیا ہم خوفزدہ نہیں ہیں کیونکہ یہ سوچ اب پوری ملک کی ہے وہ دہشت سے اس کو دبا نہیں سکتے
nawaz
11 اکتوبر, 2012 20:58
insha allah jald theek ho jae gi hamari dua he
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

اخلاقیات: غیر مسلم پاکستانیوں کے لیے

اگر آج پاکستان میں غیر مسلم پاکستانیوں کا تناسب 5 فی صد بھی ہے تو 20 کروڑ کے ملک میں یہ ایک کروڑ پاکستانی بنتے ہیں۔