23 ستمبر, 2014 | 27 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

صدر کے دو عہدوں کے خلاف کیس کی سماعت ملتوی

صدر پاکستان آصف علی زرداری۔ فائل فوٹو

لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے  صدر آصف علی ذرداری کے دو عہدوں کیخلاف کیس کی سماعت کی۔

 بدہ کے روز عمر عطا بندیال کی صدارت میں لاہور ہائی کورٹ کے لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی۔

 سماعت کے دوران حکومت کے نمائندے ایڈوکیٹ وسیم سجاد نے کہا کہ صدرکےخلاف درخواستیں ایسے دی جارہی ہیں جیسے کہ وہ عام آدمی ہوں۔

 انکا کہنا تھا کہ انہیں وقت دیا جائے، وہ تاخیری حربےاستعمال نہیں کررہے۔

 جسٹس بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدرعام آدمی نہیں ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ یہ توہین عدالت کامعاملہ ہے،فیصلہ میرٹ پرہوگا۔

 کیس کی سماعت اکتیس اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔

 اس سے قبل پانچ ستمبر کی سماعت کے دوران لاہورہائی کورٹ نے صدر آصف علی زرداری کے دو عہدے رکھنے کےخلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر صدر کے پرنسپل سیکرٹری کو دوبارہ نوٹس جاری کیا تھا۔

 واضح رہے کہ بائیس جون کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود دو عہدے رکھنے پر صدر پاکستان کے پرنسپل سیکرٹری کو نوٹس جاری کیا تھا۔

 درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر نے مؤقف اختیارکیا تھا کہ عدالتی حکم کے باوجود صدر نے ایک عہدہ  نہیں چھوڑا اور وہ ایوان صدر میں سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس حصے سے مزید

لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر ڈی جی آئی ایس آئی مقرر

رضوان اختر اب تک ڈائریکٹر جنرل رینجرز کے عہدے پر کام کررہے تھے، وہ جلد ہی اپنی نئی ذمہ داری سنبھال لیں گے۔

سرکاری اداروں میں بھرتیوں پرپابندی ختم

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیلاب متاثرین کو فی خاندان 25 ہزار روپے امداد دی جائے۔

گورنر پنجاب کا شریف برادران سے اختلافات کی تردید

میں مستعفی نہیں ہورہا، اس حوالے سے رپورٹس میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ لندن سے واپسی پر میں استعفیٰ دے دوں گا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-