02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

ونی کیس: بچیوں کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم

ونی کی سماعت جاری ہے- فائل فوٹو

کوئٹہ: سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں ڈیرہ بگٹی ونی کیس کی سماعت شروع ہوگئی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس خلجی عارف حسین اور جسٹس جواد ایس خواجہ پر مشتمل تین رکنی بنچ نے سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

جسٹس خواجہ کا کہنا تھا کہ جب تک لوگ سامنے نہیں آتے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

آج سماعت کے شروع میں چیف جسٹس نے طارق مسوربگٹی کے کزن سرفراز بگٹی سے ثبوتوں کے بارے میں دریافت کیا جو انہوں نے پیش کرنے کو کہا تھا۔

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ایک ماہ پرانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ جرگےمیں شریک قبائلی عمائدین کےنام بھی بتاسکتے ہیں۔

تاہم ایڈوکیٹ جنرل امان اللہ کنڈھانی کا کہنا تھا کہ ابھی تک ایسا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا۔

ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا کہ شواہد نہ ہونے کی بنیاد پر اس کیس کوختم کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے اس کے جواب میں کہا کہ کیس ختم نہیں کرسکتے اور تفتیش کرنی ہوگی۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ بچیوں کا عدالت میں پیش کیا جائے۔

رپورٹوں کے مطابق پانچ روز قبل بکر میں مبینہ طور پر رکن اسمبلی طارق مسوری بگٹی کی سربراہی میں ایک جرگے کا انعقاد ہوا تھا اور خونی تنازعے کے تصفیے کیلیے تیرہ لڑکیوں کو ونی کردیا تھا۔

اس واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد سپریم کورٹ نے اس واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے طارق مسوری کو عدالت میں طلب کیا تھا۔

تاہم طارق مسوری نے گزشتہ روز ہونے والی سماعت میں عدالت کو بتایا تھا کہ جرگہ ان کی سربراہی میں نہیں ہوا اور وہ اس وقت ملتان میں تھے۔

دوسری جانب عدالت میں ڈپٹی کمشنرڈیرہ بگٹی کا کہنا تھا کہ بچیوں کو لانے کے لیے دو ہیلی کاپٹر ڈیرہ بگٹی بھیج دیے ہیں۔

ونی ایک رسم ہے جس میں ناراض پارٹی کو تنازعہ حل کرنے لیئے لڑکیاں شادیوں کے لیئے دے دی جاتیں ہیں۔ یہ رسم برسوں سے صوبہ خیبر پختونخواہ صوبہ بلوچستان اور سندھ کے کچھ حصوں میں مختلف ناموں سے موجود ہیں۔

اینٹی خواتین پریکٹس کی روک تھام کے لیئے سن دو ہزار گیارہ میں ایک ایکٹ بنایا گیا تھا جس نے اس رسم کو جرم قرار دیا تھا۔

اس ایکٹ کے مطابق ‘کوئی بھی آدمی بدلہ صلح، ونی، سوارا یا کسی دوسری رسم یا پریکٹس کے تحت چاہے وہ کسی نام سے بھی ہو، کسی سول تنازعہ کو حل کرنے کے لیئے کسی بھی لڑکی کو شادی کے لیئے دے گا یا اسے شادی پر مجبور کرے گا، اسے قید کی سزا دی جائے گی جو سات سال تک ہوسکتی ہے لیکن تین سال سے کم نہیں ہوسکتی اور اس کے ساتھ ساتھ اس پر پانچ لاکھ جرمانہ بھی ہوگا۔

اس حصے سے مزید

بلوچستان میں بارہ مشتبہ عسکریت پسند کی ہلاکت کا دعویٰ

گومازئی میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا جس کے نتیجے میں بارہ مشتبہ شرپسند ہلاک ہوگئے۔

بلوچستان: مختلف علاقوں میں فائرنگ، چار افراد ہلاک

کوہلو، ڈیرہ مراد جمالی اور قلعہ عبداللہ میں نامعلوم مسلح افراد کی ٹارگٹ کلنگ سے دو افراد زخمی بھی ہوئے۔

بلوچستان: ذکری فرقے کے چھ افراد سمیت نو ہلاک

حکام کے مطابق مسلح افراد نے ذکری فرقے سے تعلق والے افراد پر اس وقت فائرنگ کردی جب وہ ایک عبادت گاہ میں موجود تھے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔