19 اپريل, 2014 | 18 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

قصہ تمام ہوا؟

۔ —رائٹرز فائل فوٹو

آخرِ کار، ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ سوئس خط کی کہانی طویل عرصے کے بعد اب اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے۔

گزشتہ روز وفاقی وزیرِ قانون فاروق ایچ نائیک اور سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ میں خط کے متن  پر اتفاق ہوگیا، جس کے بعد اسے عوام کے لیے جاری کردیا گیا۔

خط کو عام کرنے کا فیصلہ شاید اس لیے کیا گیا ہے تاکہ حکومت مستقبل میں اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹ  سکے۔

دسمبر دو ہزار نو میں، این آر او کیس کا فیصلہ آنے کے بعد سے آج تک جہاں حکومت خط کی سیاست کھیلتی رہی وہیں عدالت کی ساری دلچسپی صرف ایک خط پر مرکوز رہی۔

پاکستان کے دھندلے منظر نامے میں اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حکومت کے  دل میں ایسا کیا آیا جو خط لکھنے کے فیصلے کا سبب بنا۔

ساتھ ہی ایسی کیا بات تھی کہ عدالت وزیرِ قانون کو بہت زیادہ ڈھیل دینے پر آمادہ رہی حالانکہ حکومت بدستور اپنا کھیل جاری رکھے ہوئے تھی۔

بلاشبہ، منگل کو حکومت ایک بار پھر عدالت کو چیلنج کرنے کے لیے تیار نظر آ رہی تھی لیکن اچانک اگلے ہی روز معاملے پر اتفاق ہو گیا۔

بہرحال، وجہ کچھ بھی ہو، سوئس خط کی کہانی کا یہ انجام خوش آئند ہے۔

اس معاملے پر جہاں عدالت کا بہت سا وقت ضائع ہوا، وہیں ایک وزیراعظم فارغ ہوا اور مسئلے پر غور کے لیےحکومت نے بے شمار اجلاس کرڈالے۔

اس تمام عرصے میں یہ طے کرنے کے لیے کہ آیا خط لکھا جائے کہ نہیں، حکومت میں شامل اتحادیوں کے اجلاس بھی منعقد ہوتے رہے۔

اگرحکومت یہ معاملہ بہت پہلے ہی طے کر لیتی تو وہ دیگر انتہائی اہم مسائل پر زیادہ توجہ دے سکتی تھی۔

انتخابات سر پر آن کھڑے ہیں اوراس معاملے کے طے پا جانے کے بعد ووٹرز کی توجہ حکومت کے اس شور سے ہٹ جائے گی کہ انہیں ہدف بنایا جا رہا ہے۔

ووٹرز اب حقیقی مسائل پر توجہ دیتے ہوئے موجودہ حکومت کی کارکردگی جانچنے کے بعد یہ فیصلہ کرسکیں گے کہ آیا یہ حکومت مزید پانچ سال اقتدار حاصل کرنے کی حقدار ہے کہ نہیں۔

جہاں تک عدالت کی بات ہے تو شاید اب انہیں اپنی توجہ کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک ایسے خط کے علاوہ، جس کے نتائج شاید معنی خیز بھی ثابت نہ ہو سکیں، عدالت کے سامنے اور بھی اہم توجہ طلب معاملات موجود ہیں۔

اس حصے سے مزید

طالبان کی کہانی

مذاکراتی عمل میں، داستانِ جنگ کو یکسر فراموش کردینا حکومت کی بڑی اور بنیادی غلطی ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات

سب کچھ ماورائی فلموں جیسا لگتا ہے لیکن پاکستان سمیت کوئی بھی اس خطرے سے محفوظ نہیں۔

ٹی ٹی پی ڈرائیونگ سیٹ پر؟

خفیہ رکھے گئے مذاکرات پر پیشرفت کے دعوے، لگتا ہے ٹی ٹی پی پھر فائدے میں ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔