23 اگست, 2014 | 26 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

ایفیڈرین کیس: موسٰی گیلانی کی ضمانت کی توثیق

علی موسی گیلانی ۔—فائل/ آن لائن فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایفیڈرین کوٹہ کیس میں وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین اور علی موسٰی گیلانی کی ضمانت کی توثیق کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جب تک مقدمہ کی سماعت عدالت میں جاری ہے دونوں کی ضمانت برقرار رہے گی۔

جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مخدوم شہاب الدین اور علی موسٰی گیلانی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔

عدالت نے تمام فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد علی موسیٰ گیلانی اور مخدوم شہاب الدین کی ضمانت ایفیڈرین کیس کی سماعت جاری رہنے تک برقرار رہنے کا حکم دیا۔

قبل ازیں موسٰی گیلانی کے وکیل خالد رانجھا نے عدالت کے روبرو اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل پر پیسے لینے اور سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرنے کے الزامات ثابت نہیں ہوئے جبکہ وعدہ معاف گواہوں کے بیانات بھی بعد میں لیے گئے۔

جسٹس طارق پرویز نے خالد رانجھا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے مؤکل پر ایفیڈرین رکھنے کا الزام نہیں صرف سیاسی اثر و رسوخ اور فون کالز کرنے کا الزام ہے۔

جس پر خالد رانجھا نے کہا کہ تمام پارلیمینٹیرینز اپنے حلقہ کے لوگوں کے کام کرنے کیلیئے فون کالز کرتے ہیں لیکن موسٰی گیلانی نے ایسی کوئی کال نہیں کی۔

اے این ایف کے وکیل شاہد عباسی نے دونوں شخصیات کے وکلاء کے دلائل پر جوابی دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ اے این ایف کا دائرہ اختیار یہ ہے کہ ایفیڈرین کا غلط استعمال ہوا ہے یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سارے کیس میں سیاسی دباؤ استعمال کیا گیا جبکہ ایک سال میں تمام ادویہ ساز کمپنیوں کا ایفیڈرین حاصل کرنے کا کوٹہ پانچ ہزار تین سو دس کلو گرام تھا لیکن اس کیس میں ساڑھے نو ہزار کلو گرام سے زائد ایفیڈرین حاصل کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ موسٰی گیلانی کے پی اے توقیر نے جو اثر و رسوخ استعمال کیا وہ ریکارڈ پر ہے۔ جسٹس ناصر الملک نے استفسار کیا کہ کیا ایسا کوئی ثبوت موجود ہے کہ ایفیڈرین کو نشے کے طور پر استعمال کیا گیا ہو جس پر اے این ایف کے وکیل خاموش ہو گئے۔

بعد ازاں عدالت نے مخدوم شہاب الدین اور علی موسٰی گیلانی کی ضمانتوں کی توثیق کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی موسٰی گیلانی نے کہا کہ آج یہ ثابت ہو گیا کہ اے این ایف نے اُنہیں سیاسی طور پر نشانہ بنانے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے۔

مخدوم شہاب الدین نے کہا کہ وہ حق اور سچ پر تھے۔

اس حصے سے مزید

'وزیراعظم ممکنہ اندرونی بغاوت سے خبردار رہیں'

حکمران جماعت کی بھاری اکثریت کے باوجود پارٹی میں موجود 'میر جعفر و میر صادق' سے خطرہ ہے، جماعت اسلامی

آئندہ 48 گھنٹے’حساس‘ ہیں، وفاقی وزیر داخلہ

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ فوج کو اس آزمائش سے نکالیں اور آپریشن کی طرف ان کو لے کر جائیں جہاں ان کی ضرورت ہے۔

تحریک انصاف اور حکومت میں مذاکرات ختم، کل پھر ہوں گے

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے باعث موجودہ سیاسی صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

کچھ جوابات

وزیر اعظم کا اعلان کردہ کمیشن مسئلے سلجھانے کے بجائے زیادہ الجھا دے گا۔

بڑھتی مایوسی

مایوسی تب اور بڑھتی ہے جب عوام دیکھتے ہیں کہ حکمران عوامی پیسے سے اپنے کام چلانے میں شرم بھی محسوس نہیں کرتے۔

بلاگ

پاکستان ایک "ساس" کی نظر سے

68 سالہ جین والر کو پاکستان بہت پسند آیا، اتنا زیادہ کہ بقول ان کے مجھے پاکستان سے محبت ہوگئی ہے۔

مووی ریویو: گارڈینز آف گیلیکسی ایک ویژول ٹریٹ ہے

جو یادوں کے ایسے دور میں لے جاتی ہے جب ایکشن کے بجائے مزاح کسی کامک کا سرمایہ اور اسے بیان کرنے کا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔

اب مارشل لاء کیوں ناممکن؟

ایوب، ضیاء اور مشرّف، تینوں ہی مغربی قوّتوں کے جغرافیائی سیاسی کھیلوں میں اسٹریٹجک کردار کے بدلے جیتے تھے۔

عمران خان کے نام کھلا خط

گزشتہ ایک ہفتے کے واقعات پی ٹی آئی ورکرز کی تمام امیدوں اور توقعات کو بچکانہ، سادہ لوح اور غلط ثابت کر رہے ہیں۔