02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

بلوچستان بدامنی کیس کا عبوری حکم جاری

اسلام آباد میں واقع سپریم کورٹ کی عمارت۔ —فائل تصویر

کوئٹہ: سپریم کورٹ نے بلوچستان بدامنی کیس میں اپنا عبوری حکم جاری کردیا ہے۔

جمعہ کو سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں مقدمے کی سماعت کے بعد عبوری حکم میں قراردیا گیا کہ صوبائی حکومت نے اپنی اہلیت کھودی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا صوبے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

حکم نامے میں قراردیا گیا کہ بلوچستان میں تعینات ایف سی موثر کردار ادا نہیں کررہی، لاپتہ افراد کے مقدمات میں ایف سی کانام لیاجارہا ہے۔

عدالت کے مطابق صوبے میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت کے شواہد بھی ملے ہیں۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں صوبائی حکومت کولاپتہ افراد کے لواحقین کومعاوضہ ادا کرنے کاحکم بھی دیا۔

اس حصے سے مزید

بلوچستان میں بارہ مشتبہ عسکریت پسند کی ہلاکت کا دعویٰ

گومازئی میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا جس کے نتیجے میں بارہ مشتبہ شرپسند ہلاک ہوگئے۔

بلوچستان: مختلف علاقوں میں فائرنگ، چار افراد ہلاک

کوہلو، ڈیرہ مراد جمالی اور قلعہ عبداللہ میں نامعلوم مسلح افراد کی ٹارگٹ کلنگ سے دو افراد زخمی بھی ہوئے۔

بلوچستان: ذکری فرقے کے چھ افراد سمیت نو ہلاک

حکام کے مطابق مسلح افراد نے ذکری فرقے سے تعلق والے افراد پر اس وقت فائرنگ کردی جب وہ ایک عبادت گاہ میں موجود تھے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔