25 اپريل, 2014 | 24 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

کوہاٹ میں خود کش حملہ، سترہ افراد ہلاک

سیکیورٹی ایجنسیز کے سپاہی خودکش حملے کے بعد درہ آدم خیل کے علاقے میں گھیرا تنگ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ – اے ایف پی فوٹو

پشاور: کوہاٹ کے علاقے درہ آدم خیل میں ہفتے کو خود کش حملہ آ وروں نے ایک پرہجوم مارکیٹ میں کار کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں کم ازکم سترہ افراد ہلاک  جبکہ چالیس دیگر زخمی ہوئے ہیں ۔

دھماکہ درہ آدم خیل کی مرکزی مارکیٹ میں مقامی امن کمیٹی کے دفتر کے نزدیک ہوا اور عسکریت مخالف کمیٹی کے اہلکار اس حملے کا ہدف تھے ۔

مقامی عہدے دار فخرالدین نے اے ایف پی کو بتایاکہ ہلاکتوں کی تعداد سترہ اورچالیس دیگر زخمی ہیں ۔

فخر نے بتایاکہ فوری طور پر واضح نہیں کہ امن کمیٹی کے کتنے ارکان ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں کیونکہ بم دھماکہ پرہجوم سڑک پر ہوا ہے اور متعدد دکاندار بھی متاثر ہوئے ہیں ۔

خیبر پختونخواہ صوبے کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے بتایاکہ یہ خود کش حملہ تھا اور اس کا ہدف مقامی امن کمیٹی تھی ۔

دیگر دو سرکاری عہدے داروں نے بھی بم دھماکے اور ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ زخمیوں کو دیگر شہروں میں منتقل کیا گیا ہے کیونکہ مقامی طور پر طبی سہولتیں ناکافی ہیں ۔

حکام نے بتایا کہ کسی نے بھی فوری طور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ۔

مقامی انٹیلی جنس حکام نے بتایا کہ امن کمیٹی سابق طالبان عسکریت پسندوں پر مشتمل ہے جو اپنے طالبان ساتھیوں سے علیحدہ ہوگئے تھے اور جنہوں نے مقامی عمائدین اور عسکریت پسندی کے خلاف حکومتی کوششوں کی مدد کے لیے ملیشیاء تشکیل دی تھی ۔

نیم خود مختار درہ آدم خیل کا علاقہ شمال مغربی شہروں پشاور اور کوہاٹ کے درمیان واقعہ ہے۔

اس علاقے میں متعدد خود کش حملے اور بم دھماکے ہو چکے ہیں جن کا الزام طالبان عسکریت پسندوں پرعائد کیا جاتا رہا ہے ۔

اس حصے سے مزید

خیبر ایجنسی میں فورسز کی کارروائی۔ 24 شدت پسند ہلاک

ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں وہ شدت پسند بھی شامل ہیں جو اسلام آباد سبزی منڈی اور پشاور دھماکے میں ملوث تھے۔

پشاور ہسپتال سے نو مبینہ جنگجو گرفتار

چھ مبینہ جنگجو اپنے تین زخمی ساتھیوں کو ایک ایمبولینس میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال لائے،جہاں پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔

جماعتِ اسلامی کا پشاور میں جرگے کا فیصلہ

جے آئی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یکم مئی کو ہونے والے اس جرگے میں تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کریں گے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

مقدّس ریپ

دو دن وہ اسی گاؤں میں ماں کے بازؤں میں تڑپتی رہی۔ گھر میں پیسے ہی کہاں تھے کہ علاج کے لئے بدین تک ہی پہنچ پاتے۔

میڈیا اور نقل بازی کا کینسر

ایسا نہیں کہ میں کوئی پہلا انسان ہوں جس کے خیالات پر نقب لگائی گئی ہو، مگر آخری ضرور بننا چاہتا ہوں

!مار ڈالو، کاٹ ڈالو

مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس پر شدید غصہ آ رہا ہے اور میں اسے سچ بولنے پر چیخ چیخ کر ڈانٹنا چاہتا ہوں-

خطبہء وزیرستان

کس سازش کے تحت 'آپکو' بدنام کرنے کے لئے دھماکے کیے جاتے ہیں؟ کس صوبے کے مظلوم عوام آپکے بھائی ہیں؟