30 ستمبر, 2014 | 4 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

کوہاٹ میں خود کش حملہ، سترہ افراد ہلاک

سیکیورٹی ایجنسیز کے سپاہی خودکش حملے کے بعد درہ آدم خیل کے علاقے میں گھیرا تنگ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ – اے ایف پی فوٹو

پشاور: کوہاٹ کے علاقے درہ آدم خیل میں ہفتے کو خود کش حملہ آ وروں نے ایک پرہجوم مارکیٹ میں کار کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں کم ازکم سترہ افراد ہلاک  جبکہ چالیس دیگر زخمی ہوئے ہیں ۔

دھماکہ درہ آدم خیل کی مرکزی مارکیٹ میں مقامی امن کمیٹی کے دفتر کے نزدیک ہوا اور عسکریت مخالف کمیٹی کے اہلکار اس حملے کا ہدف تھے ۔

مقامی عہدے دار فخرالدین نے اے ایف پی کو بتایاکہ ہلاکتوں کی تعداد سترہ اورچالیس دیگر زخمی ہیں ۔

فخر نے بتایاکہ فوری طور پر واضح نہیں کہ امن کمیٹی کے کتنے ارکان ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں کیونکہ بم دھماکہ پرہجوم سڑک پر ہوا ہے اور متعدد دکاندار بھی متاثر ہوئے ہیں ۔

خیبر پختونخواہ صوبے کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے بتایاکہ یہ خود کش حملہ تھا اور اس کا ہدف مقامی امن کمیٹی تھی ۔

دیگر دو سرکاری عہدے داروں نے بھی بم دھماکے اور ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ زخمیوں کو دیگر شہروں میں منتقل کیا گیا ہے کیونکہ مقامی طور پر طبی سہولتیں ناکافی ہیں ۔

حکام نے بتایا کہ کسی نے بھی فوری طور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ۔

مقامی انٹیلی جنس حکام نے بتایا کہ امن کمیٹی سابق طالبان عسکریت پسندوں پر مشتمل ہے جو اپنے طالبان ساتھیوں سے علیحدہ ہوگئے تھے اور جنہوں نے مقامی عمائدین اور عسکریت پسندی کے خلاف حکومتی کوششوں کی مدد کے لیے ملیشیاء تشکیل دی تھی ۔

نیم خود مختار درہ آدم خیل کا علاقہ شمال مغربی شہروں پشاور اور کوہاٹ کے درمیان واقعہ ہے۔

اس علاقے میں متعدد خود کش حملے اور بم دھماکے ہو چکے ہیں جن کا الزام طالبان عسکریت پسندوں پرعائد کیا جاتا رہا ہے ۔

اس حصے سے مزید

پشاور: والدین کا انکار، سولہ ہزار بچے پولیو ویکسین سے محروم

علاقے کی بااثر شخصیات کی مدد سے انکار کرنے والے والدین کو راغب کریں گے، حکام۔

وادیِ تیراہ میں ریمورٹ کنٹرول بم دھماکا، پانچ افراد ہلاک

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دھماکا تیراہ میں شدت پسند گروپ لشکر اسلام کی بیس میں ہوا۔

ہنگو: متاثرین کے کیمپ میں دھماکا، سات افراد ہلاک

ہنگو میں شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کر کے آںے والوں کے متاثرین کے کیمپ میں دھماکے سے سات افراد ہلاک ہو گئے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

فائرنگ کی زد میں

پولیس کی قیادت کو ادراک ہوا ہے کہ اسے صاحب اختیار لوگوں کے غیر قانونی مطالبات کو نا کہنے کی ہمت دکھانے کی ضرورت ہے.

پالیسی سازی کا فن

پنجاب میں باربارآنے والے سیلاب نے فیصلہ سازی اور پالیسی سازی کے درمیان خلا کو بےنقاب کردیا ہے۔

بلاگ

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟

مووی ریویو: دی پرنس — انسپائر کرنے میں ناکام

مجموعی طور پر روبوٹ جیسی پرفارمنسز اور کمزور پلاٹ کی وجہ سے یہ فلم ناظرین کی دلچسپی قائم رکھنے میں ناکام رہی-

مخلص سیاستدانوں کے سچے بیانات

جب سے دھرنے جاری ہیں، تب سے ہم نے سیاستدانوں سے طرح طرح کی باتیں سنی ہیں جن میں سے کچھ پیش خدمت ہیں۔