25 جولائ, 2014 | 26 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

کوہاٹ میں خود کش حملہ، سترہ افراد ہلاک

سیکیورٹی ایجنسیز کے سپاہی خودکش حملے کے بعد درہ آدم خیل کے علاقے میں گھیرا تنگ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ – اے ایف پی فوٹو

پشاور: کوہاٹ کے علاقے درہ آدم خیل میں ہفتے کو خود کش حملہ آ وروں نے ایک پرہجوم مارکیٹ میں کار کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں کم ازکم سترہ افراد ہلاک  جبکہ چالیس دیگر زخمی ہوئے ہیں ۔

دھماکہ درہ آدم خیل کی مرکزی مارکیٹ میں مقامی امن کمیٹی کے دفتر کے نزدیک ہوا اور عسکریت مخالف کمیٹی کے اہلکار اس حملے کا ہدف تھے ۔

مقامی عہدے دار فخرالدین نے اے ایف پی کو بتایاکہ ہلاکتوں کی تعداد سترہ اورچالیس دیگر زخمی ہیں ۔

فخر نے بتایاکہ فوری طور پر واضح نہیں کہ امن کمیٹی کے کتنے ارکان ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں کیونکہ بم دھماکہ پرہجوم سڑک پر ہوا ہے اور متعدد دکاندار بھی متاثر ہوئے ہیں ۔

خیبر پختونخواہ صوبے کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے بتایاکہ یہ خود کش حملہ تھا اور اس کا ہدف مقامی امن کمیٹی تھی ۔

دیگر دو سرکاری عہدے داروں نے بھی بم دھماکے اور ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ زخمیوں کو دیگر شہروں میں منتقل کیا گیا ہے کیونکہ مقامی طور پر طبی سہولتیں ناکافی ہیں ۔

حکام نے بتایا کہ کسی نے بھی فوری طور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ۔

مقامی انٹیلی جنس حکام نے بتایا کہ امن کمیٹی سابق طالبان عسکریت پسندوں پر مشتمل ہے جو اپنے طالبان ساتھیوں سے علیحدہ ہوگئے تھے اور جنہوں نے مقامی عمائدین اور عسکریت پسندی کے خلاف حکومتی کوششوں کی مدد کے لیے ملیشیاء تشکیل دی تھی ۔

نیم خود مختار درہ آدم خیل کا علاقہ شمال مغربی شہروں پشاور اور کوہاٹ کے درمیان واقعہ ہے۔

اس علاقے میں متعدد خود کش حملے اور بم دھماکے ہو چکے ہیں جن کا الزام طالبان عسکریت پسندوں پرعائد کیا جاتا رہا ہے ۔

اس حصے سے مزید

پشاور میں فائرنگ، سابق رکن قومی اسمبلی کا پرسنل سیکرٹری ہلاک

مقتول بسم اللہ کو نامعلوم افراد نے رنگ روڈ تاج آباد کے علاقے میں گولیوں کا نشانہ بنایا، پولیس۔

سراج الحق وزیر خزانہ خیبر پختونخوا کے عہدے سے مستعفی

جماعت اسلامی امیر سراج الحق نے وزیر خزانہ خیبر پختونخوا کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ایف ڈی ایم اے کو بے گھر افراد کے لیے ڈھائی ارب روپے درکار

وفاقی حکومت پہلے ہی فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو نقل مکانی کرنے والے افراد کی امداد کے لیے دو ارب روپے جاری کرچکی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-