21 ستمبر, 2014 | 25 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

کوہاٹ میں خود کش حملہ، سترہ افراد ہلاک

سیکیورٹی ایجنسیز کے سپاہی خودکش حملے کے بعد درہ آدم خیل کے علاقے میں گھیرا تنگ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ – اے ایف پی فوٹو

پشاور: کوہاٹ کے علاقے درہ آدم خیل میں ہفتے کو خود کش حملہ آ وروں نے ایک پرہجوم مارکیٹ میں کار کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں کم ازکم سترہ افراد ہلاک  جبکہ چالیس دیگر زخمی ہوئے ہیں ۔

دھماکہ درہ آدم خیل کی مرکزی مارکیٹ میں مقامی امن کمیٹی کے دفتر کے نزدیک ہوا اور عسکریت مخالف کمیٹی کے اہلکار اس حملے کا ہدف تھے ۔

مقامی عہدے دار فخرالدین نے اے ایف پی کو بتایاکہ ہلاکتوں کی تعداد سترہ اورچالیس دیگر زخمی ہیں ۔

فخر نے بتایاکہ فوری طور پر واضح نہیں کہ امن کمیٹی کے کتنے ارکان ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں کیونکہ بم دھماکہ پرہجوم سڑک پر ہوا ہے اور متعدد دکاندار بھی متاثر ہوئے ہیں ۔

خیبر پختونخواہ صوبے کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے بتایاکہ یہ خود کش حملہ تھا اور اس کا ہدف مقامی امن کمیٹی تھی ۔

دیگر دو سرکاری عہدے داروں نے بھی بم دھماکے اور ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ زخمیوں کو دیگر شہروں میں منتقل کیا گیا ہے کیونکہ مقامی طور پر طبی سہولتیں ناکافی ہیں ۔

حکام نے بتایا کہ کسی نے بھی فوری طور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ۔

مقامی انٹیلی جنس حکام نے بتایا کہ امن کمیٹی سابق طالبان عسکریت پسندوں پر مشتمل ہے جو اپنے طالبان ساتھیوں سے علیحدہ ہوگئے تھے اور جنہوں نے مقامی عمائدین اور عسکریت پسندی کے خلاف حکومتی کوششوں کی مدد کے لیے ملیشیاء تشکیل دی تھی ۔

نیم خود مختار درہ آدم خیل کا علاقہ شمال مغربی شہروں پشاور اور کوہاٹ کے درمیان واقعہ ہے۔

اس علاقے میں متعدد خود کش حملے اور بم دھماکے ہو چکے ہیں جن کا الزام طالبان عسکریت پسندوں پرعائد کیا جاتا رہا ہے ۔

اس حصے سے مزید

پشاور چرچ حملوں کی یاد میں

مسیحی برادری نے آل سینٹ چرچ میں بائیس ستمبر، 2013 کو دو بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کیلئے خصوصی عبادات کیں۔

پشاور: سخت سیکیورٹی میں انسدادِ پولیو مہم جاری

حکام کے مطابق پشاور کی 96 یونین کونسلوں میں آج سات لاکھ 54 ہزار بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔

ہنگو: نامعلوم افراد کی فائرنگ، جے یو آئی ف کے رہنما ہلاک

مقامی رہنما شیر عالم پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ گاڑی میں سفر کررہے تھے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

پاکستان کی "مڈل کلاس" بغاوت

پاکستان کے مڈل کلاس لوگ ہی جمہوریت کے سب سے بڑے مخالف ہیں اور کچھ کیسز میں تو جمہوریت کی مخالفت بغاوت کی حد تک شدید ہے۔

!میرے پیارے اسلام آباد

میں آپ سے معافی چاہتا ہوں کہ میں نے آپ کی جانب دو دھرنے بھیجے ہیں، جنہوں نے آپ کا امن و سکون تباہ کر دیا ہے۔

بلاگ

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-

ڈرامہ ریویو: چپ رہو - حساس ترین موضوع پر بہترین پیشکش

زیادتی جیسے واقعات ہر وقت خبروں میں رہتے ہیں اس حوالے سے یہ ڈرامہ شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

میں باغی ہوں

اس ملک میں کہیں قانون کی حکمرانی نہیں، ہر جگہ لوٹ مار مچی ہے- کسی کو قانون کا پاس نہیں- تبدیلی آئی تو سب کا احتساب ہوگا-