29 جولائ, 2014 | 1 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

پشاور: طالبان نے چیک پوسٹ پر حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی

۔ — اے ایف پی فائل تصویر

پشاور: صوبہ خیبر پختونخواہ میں پشاور کے نواحی علاقے متنی میں پولیس چیک پوسٹ پرعسکریت پسندوں کے حملے میں پولیس کے سینئیر افسر سمیت سات سیکورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے۔

ہمارے نمائندے ظاہر شاہ سے ٹیلیفون پہ بات کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے ترجمان احسان اللہ احسان نے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ میں صرف دو طالبان حملہ آور زخمی ہوئے اور جاتے ہوئے وہ تین اہلکاروں کے ذبح شدہ سراور بھاری مقدار میں اسلحہ بھی لے گئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق، بھاری ہتھیاروں سے لیس تین سو کے قریب حملہ آوروں نے پشاور - کوہاٹ روڈ پر متنی کے علاقے میں قائم ایک چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا۔

تین گھنٹے تک جاری رہنے والے مقابلے میں سپریٹینڈنٹ پولیس خورشید خان سمیت تین پولیس جبکہ فرنٹئیر کور کے چار اہلار ہلاک ہو گئے۔

بارہ زخمی سیکورٹی اہلکاروں کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، عسکریت پسندوں نے موقع پر خورشید خان کا سر تن سے جدا کر دیا تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خورشید خان کے لیے ستارہ شجاعت کا اعلان کیا ہے۔

حملہ آوروں نے چیک پوسٹ کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے بعد نذر آتش کر دیا۔

حملے میں کم از کم چار گاڑیاں اور تین موٹر سائیکل بھی تباہ ہوئے ہیں

سرکاری ذرائع کے مطابق، عسکریت پسند حملے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ حملے کے بعد متعدد سیکورٹی اہلکار بھی لا پتہ ہیں۔

ہلاک ہونے والے سیکورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ پیر کو پولیس لائنز پشاور میں ادا کر دی گئی ہے جس کے بعد میتیں تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں۔

اس حصے سے مزید

ٹانگ کی معذوری بھی اس اہلکار کو اپنے فرائض سے نہ روک سکی

وہ ان بموں کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے جو اس کے بقول عیدالفطر کے بعد پاکستانی طالبان مختلف مقامات پر نصب کرسکتے ہیں

لانگ مارچ پر حکومت سے 'ڈیل' کی تردید

عمران خان کا کہنا ہے کہ آئی ڈی پیز کے معاملے میں وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی۔

چودہ اگست سے بروغل فیسٹیول کا آغاز

چترال سے 260 کلومیٹر کے فاصلے پر بروغل کی جنت نظیر وادی سطح سمندر سے 13 ہزار فٹ بلندی پر واقع ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

محمد اشرف
15 اکتوبر, 2012 07:51
تخريب كار اتنی بڑی تعداد ميں جمع ہوتے رہے۔ اس وقت ہماری ايجنسياں كيوں سو رہی تهيں۔
wajid ali
21 اکتوبر, 2012 04:46
keya seraf Malala hi is Mulak ki hian Khorshed S.P is mulak ka nahi ta is ni is mulak ki khedmat nahi ki te
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔