16 ستمبر, 2014 | 20 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

پشاور: طالبان نے چیک پوسٹ پر حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی

۔ — اے ایف پی فائل تصویر

پشاور: صوبہ خیبر پختونخواہ میں پشاور کے نواحی علاقے متنی میں پولیس چیک پوسٹ پرعسکریت پسندوں کے حملے میں پولیس کے سینئیر افسر سمیت سات سیکورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے۔

ہمارے نمائندے ظاہر شاہ سے ٹیلیفون پہ بات کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے ترجمان احسان اللہ احسان نے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ میں صرف دو طالبان حملہ آور زخمی ہوئے اور جاتے ہوئے وہ تین اہلکاروں کے ذبح شدہ سراور بھاری مقدار میں اسلحہ بھی لے گئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق، بھاری ہتھیاروں سے لیس تین سو کے قریب حملہ آوروں نے پشاور - کوہاٹ روڈ پر متنی کے علاقے میں قائم ایک چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا۔

تین گھنٹے تک جاری رہنے والے مقابلے میں سپریٹینڈنٹ پولیس خورشید خان سمیت تین پولیس جبکہ فرنٹئیر کور کے چار اہلار ہلاک ہو گئے۔

بارہ زخمی سیکورٹی اہلکاروں کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، عسکریت پسندوں نے موقع پر خورشید خان کا سر تن سے جدا کر دیا تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خورشید خان کے لیے ستارہ شجاعت کا اعلان کیا ہے۔

حملہ آوروں نے چیک پوسٹ کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے بعد نذر آتش کر دیا۔

حملے میں کم از کم چار گاڑیاں اور تین موٹر سائیکل بھی تباہ ہوئے ہیں

سرکاری ذرائع کے مطابق، عسکریت پسند حملے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ حملے کے بعد متعدد سیکورٹی اہلکار بھی لا پتہ ہیں۔

ہلاک ہونے والے سیکورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ پیر کو پولیس لائنز پشاور میں ادا کر دی گئی ہے جس کے بعد میتیں تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں۔

اس حصے سے مزید

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کسی صورت اسمبلی تحلیل نہ کرنے کا اعلان

میں نے اسمبلی کے اراکین سے وعدہ کیا ہے کہ میں مستعفی تو ہوسکتا ہوں مگر اسمبلی تحلیل نہیں کروں گا۔

ضرب عضب: فضائی کارروائی میں مزید ’15 دہشتگرد‘ ہلاک

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے تابائی میں فوجی ہیلی کاپٹروں نے فضائی کارروائی کی۔

بونیر: فائرنگ سے قومی وطن پارٹی کے رہنما ہلاک

پرواز خان کو پیر بابا کے علاقے گوکند درہ میں ان کے گھر کے سامنے نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

محمد اشرف
15 اکتوبر, 2012 07:51
تخريب كار اتنی بڑی تعداد ميں جمع ہوتے رہے۔ اس وقت ہماری ايجنسياں كيوں سو رہی تهيں۔
wajid ali
21 اکتوبر, 2012 04:46
keya seraf Malala hi is Mulak ki hian Khorshed S.P is mulak ka nahi ta is ni is mulak ki khedmat nahi ki te
سروے
مقبول ترین
قلم کار

باغیوں کی ضرورت ہے

موجودہ حکومت انتہائی قابل سول سرونٹس کو بھی صرف اس لیے ناپسند کرتی ہے، کیونکہ وہ درباریوں کی طرح نیازمندی نہیں دکھاتے۔

چھوٹے باغیچوں کی اہمیت

غریب خواتین کو لیز پر چھوٹے پلاٹ دیے جاسکتے ہیں، جہاں وہ اپنے گھر والوں کے لیے کھانے کی چیزیں اگا سکیں۔

بلاگ

جب خاموشی بہتر سمجھی جائے

اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ برطانوی پاکستانیوں کے پاس جنسی استحصال پر بات کرنے کے لیے آزادی نہیں ہے۔

نائنٹیز کا پاکستان - 6

اندازے کے مطابق اس دور میں پاکستانی فوج ہر ماہ اوسط ساڑھے سات کروڑ ڈالر ’مجاہدین‘ پر خرچ کر رہی تھی۔

ماضی کی جھلکیاں، میرانِ تالپورکے مقبرے

یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ مزارات کافی خراب حالت میں ہیں۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ کس وقت دیواریں منہدم ہوجائیں۔

ٹیم کو محمد حفیظ کی ضرورت ہے

ٹی-20 اور ون ڈے، دوںوں ہی میں وہ سب سے اچھے آل راؤنڈر ہیں، اور یہاں وہ پاکستان کے لیے اپنی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔