22 اگست, 2014 | 25 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

پشاور: طالبان نے چیک پوسٹ پر حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی

۔ — اے ایف پی فائل تصویر

پشاور: صوبہ خیبر پختونخواہ میں پشاور کے نواحی علاقے متنی میں پولیس چیک پوسٹ پرعسکریت پسندوں کے حملے میں پولیس کے سینئیر افسر سمیت سات سیکورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے۔

ہمارے نمائندے ظاہر شاہ سے ٹیلیفون پہ بات کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے ترجمان احسان اللہ احسان نے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ میں صرف دو طالبان حملہ آور زخمی ہوئے اور جاتے ہوئے وہ تین اہلکاروں کے ذبح شدہ سراور بھاری مقدار میں اسلحہ بھی لے گئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق، بھاری ہتھیاروں سے لیس تین سو کے قریب حملہ آوروں نے پشاور - کوہاٹ روڈ پر متنی کے علاقے میں قائم ایک چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا۔

تین گھنٹے تک جاری رہنے والے مقابلے میں سپریٹینڈنٹ پولیس خورشید خان سمیت تین پولیس جبکہ فرنٹئیر کور کے چار اہلار ہلاک ہو گئے۔

بارہ زخمی سیکورٹی اہلکاروں کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، عسکریت پسندوں نے موقع پر خورشید خان کا سر تن سے جدا کر دیا تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خورشید خان کے لیے ستارہ شجاعت کا اعلان کیا ہے۔

حملہ آوروں نے چیک پوسٹ کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے بعد نذر آتش کر دیا۔

حملے میں کم از کم چار گاڑیاں اور تین موٹر سائیکل بھی تباہ ہوئے ہیں

سرکاری ذرائع کے مطابق، عسکریت پسند حملے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ حملے کے بعد متعدد سیکورٹی اہلکار بھی لا پتہ ہیں۔

ہلاک ہونے والے سیکورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ پیر کو پولیس لائنز پشاور میں ادا کر دی گئی ہے جس کے بعد میتیں تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں۔

اس حصے سے مزید

پشاور: تیز بارش میں حادثات، 8 افراد ہلاک، 42زخمی

پشاور اور گرد ونواح میں تیزہواؤں کے ساتھ آندھی اورگردآلود طوفان شروع ہوا جس کے بعد گرج چمک کے ساتھ شدید بارش شروع ہوگئی۔

آئی ڈی پیز کو اسکولوں سے بے دخل کرنے پر اسلام آباد مارچ کی دھمکی

شمالی وزیرستان سے نقل مکانی پر مجبور افرد نے کہا ہے کہ انہیں اسکولوں سے نکالا گیا تو وہ اسلام آباد میں دھرنا دیں گے۔

'جمہوریت کو نقصان پہنچا تو عمران، قادری ذمہ دار ہوں گے'

عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی خان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنوں کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

محمد اشرف
15 اکتوبر, 2012 07:51
تخريب كار اتنی بڑی تعداد ميں جمع ہوتے رہے۔ اس وقت ہماری ايجنسياں كيوں سو رہی تهيں۔
wajid ali
21 اکتوبر, 2012 04:46
keya seraf Malala hi is Mulak ki hian Khorshed S.P is mulak ka nahi ta is ni is mulak ki khedmat nahi ki te
سروے
مقبول ترین
قلم کار

بڑھتی مایوسی

مایوسی تب اور بڑھتی ہے جب عوام دیکھتے ہیں کہ حکمران عوامی پیسے سے اپنے کام چلانے میں شرم بھی محسوس نہیں کرتے۔

مضبوط ادارے

ریاستی اداروں پر تمام جماعتوں کی جانب سے حملہ تب کیا گیا جب وہ ابتدائی طور پر ہی سہی پر قابلیت کا مظاہرہ کرنے لگے تھے۔

بلاگ

عمران خان کے نام کھلا خط

گزشتہ ایک ہفتے کے واقعات پی ٹی آئی ورکرز کی تمام امیدوں اور توقعات کو بچکانہ، سادہ لوح اور غلط ثابت کر رہے ہیں۔

جعلی انقلاب اور جعلی فوٹیجز

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی غیر آئینی حرکتوں کی وجہ سے اگر فوج آگئی تو چینلز ایسی نشریات کرنا بھول جائیں گے۔

!جس کی لاٹھی اُس کا گلّو

ہر دکاندار اور ریڑھی والے سے پِٹنا کوئی آسان عمل نہیں ہوگا شاید یہی وجہ ہے کہ سول نافرمانی کوئی آسان کام نہیں۔

ہمارے کپتانوں کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

اس بات کا پتہ لگانا مشکل ہے کہ مصباح الحق اور عمران خان میں سے زیادہ کون بچوں کی طرح اپنی غلطی ماننے سے انکاری ہے۔