24 اپريل, 2014 | 23 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

پشاور: طالبان نے چیک پوسٹ پر حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی

۔ — اے ایف پی فائل تصویر

پشاور: صوبہ خیبر پختونخواہ میں پشاور کے نواحی علاقے متنی میں پولیس چیک پوسٹ پرعسکریت پسندوں کے حملے میں پولیس کے سینئیر افسر سمیت سات سیکورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے۔

ہمارے نمائندے ظاہر شاہ سے ٹیلیفون پہ بات کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے ترجمان احسان اللہ احسان نے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ میں صرف دو طالبان حملہ آور زخمی ہوئے اور جاتے ہوئے وہ تین اہلکاروں کے ذبح شدہ سراور بھاری مقدار میں اسلحہ بھی لے گئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق، بھاری ہتھیاروں سے لیس تین سو کے قریب حملہ آوروں نے پشاور - کوہاٹ روڈ پر متنی کے علاقے میں قائم ایک چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا۔

تین گھنٹے تک جاری رہنے والے مقابلے میں سپریٹینڈنٹ پولیس خورشید خان سمیت تین پولیس جبکہ فرنٹئیر کور کے چار اہلار ہلاک ہو گئے۔

بارہ زخمی سیکورٹی اہلکاروں کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، عسکریت پسندوں نے موقع پر خورشید خان کا سر تن سے جدا کر دیا تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خورشید خان کے لیے ستارہ شجاعت کا اعلان کیا ہے۔

حملہ آوروں نے چیک پوسٹ کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے بعد نذر آتش کر دیا۔

حملے میں کم از کم چار گاڑیاں اور تین موٹر سائیکل بھی تباہ ہوئے ہیں

سرکاری ذرائع کے مطابق، عسکریت پسند حملے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ حملے کے بعد متعدد سیکورٹی اہلکار بھی لا پتہ ہیں۔

ہلاک ہونے والے سیکورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ پیر کو پولیس لائنز پشاور میں ادا کر دی گئی ہے جس کے بعد میتیں تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں۔

اس حصے سے مزید

خیبر ایجنسی میں فورسز کی کارروائی۔ دس شدت پسند ہلاک

ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں وہ شدت پسند بھی شامل ہیں جو اسلام آباد سبزی منڈی اور پشاور دھماکے میں ملوث تھے۔

پشاور ہسپتال سے نو مبینہ جنگجو گرفتار

چھ مبینہ جنگجو اپنے تین زخمی ساتھیوں کو ایک ایمبولینس میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال لائے،جہاں پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔

جماعتِ اسلامی کا پشاور میں جرگے کا فیصلہ

جے آئی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یکم مئی کو ہونے والے اس جرگے میں تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کریں گے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

محمد اشرف
15 اکتوبر, 2012 07:51
تخريب كار اتنی بڑی تعداد ميں جمع ہوتے رہے۔ اس وقت ہماری ايجنسياں كيوں سو رہی تهيں۔
wajid ali
21 اکتوبر, 2012 04:46
keya seraf Malala hi is Mulak ki hian Khorshed S.P is mulak ka nahi ta is ni is mulak ki khedmat nahi ki te
مقبول ترین
بلاگ

مقدّس ریپ

دو دن وہ اسی گاؤں میں ماں کے بازؤں میں تڑپتی رہی۔ گھر میں پیسے ہی کہاں تھے کہ علاج کے لئے بدین تک ہی پہنچ پاتے۔

میڈیا اور نقل بازی کا کینسر

ایسا نہیں کہ میں کوئی پہلا انسان ہوں جس کے خیالات پر نقب لگائی گئی ہو، مگر آخری ضرور بننا چاہتا ہوں

!مار ڈالو، کاٹ ڈالو

مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس پر شدید غصہ آ رہا ہے اور میں اسے سچ بولنے پر چیخ چیخ کر ڈانٹنا چاہتا ہوں-

خطبہء وزیرستان

کس سازش کے تحت 'آپکو' بدنام کرنے کے لئے دھماکے کیے جاتے ہیں؟ کس صوبے کے مظلوم عوام آپکے بھائی ہیں؟