02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

کوئٹہ میں چار افراد کی ٹارگٹ کلنگ

۔— اے پی پی فائل فوٹو

کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے چار شیعہ مسلمان ہلاک ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق منگل کی صبح موٹرسائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے سرکی روڈ پرکباڑی مارکیٹ میں ایک دکان پر اندھادھند فائرنگ کردی۔

حملے میں  ہزارہ برادری کے چار افراد شدید زخمی ہوئے جو بعد میں ہسپتال منتقلی کے دوران ہلاک ہو گئے۔

واقعے کے بعد سیکورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردیں۔

پولیس کے سینیئر عہدے دار آصف غفور نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ یہ فرقہ ورانہ حملہ تھا، جس میں موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے۔

واقعہ کے خلاف مشتعل افراد نے جناح روڈ پر ہوائی فائرنگ کرکے دکانیں بند کرا دیں اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔

تاہم پولیس اور سیکورٹی فورسز نے موقع پر پہنچ کر ٹریفک بحال کردی۔

اس حصے سے مزید

بلوچستان میں بارہ مشتبہ عسکریت پسند کی ہلاکت کا دعویٰ

گومازئی میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا جس کے نتیجے میں بارہ مشتبہ شرپسند ہلاک ہوگئے۔

بلوچستان: مختلف علاقوں میں فائرنگ، چار افراد ہلاک

کوہلو، ڈیرہ مراد جمالی اور قلعہ عبداللہ میں نامعلوم مسلح افراد کی ٹارگٹ کلنگ سے دو افراد زخمی بھی ہوئے۔

بلوچستان: ذکری فرقے کے چھ افراد سمیت نو ہلاک

حکام کے مطابق مسلح افراد نے ذکری فرقے سے تعلق والے افراد پر اس وقت فائرنگ کردی جب وہ ایک عبادت گاہ میں موجود تھے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

Mohammad jehangir
16 اکتوبر, 2012 09:24
طالبانی دہشتگردوں اور ان کے ساتھیوں نے ہمارے پیارے ملک کو جہنم بنا دیا ہے، 42ہزار کے قریب معصوم اور بے گناہ لوگ اپنی جان سے گئے،پاکستان کی اقتصادیات آخری ہچکیاں لے رہی ہے اور داخلی امن و امان کی صورتحال دگرگوں ہے۔ مذہبی انتہا پسندی عروج پر ہے۔فرقہ ورانہ قتل و غارت گری کا ایک بازار گرم ہے اور کو ئی اس کو لگام دینے والا نہ ہے۔ طالبان ،لشکر جھنگوی، جندوللہ اور القائدہ ملکر پاکستان بھر میں دہشت گردی کی کاروائیاں کر رہے ہیں اور ملک کو فرقہ ورانہ فسادات کی طرف دہکیلنا چاہتے ہیں۔ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں بی ایل اے کے علاوہ لشکر جھنگوی بھی شامل ہے۔ دہشت گردی پوری دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے جس سے پاکستان بھی متاثر ہے۔ دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور عقیدہ نہیں ہوتا اور وہ صرف اپنے مقاصد کا حصول چاہتے ہیں۔ بد قسمتی سے گلگت بلتستان انتہا پسندی اور دہشت گردی کے واقعات سے محفوظ نہیں رہا۔ ناخوشگوارواقعات میں قیمتی جانوں کا ضیاع اور امن وامان متاثر ہوا ہےکوئٹہ اور ملک کے دوسرےحصوں میں شیعہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعہ قتل کیا جا رہا ہے۔فرقہ واریت پاکستان کے لئے زہر قاتل ہے۔ فرقہ واریت پھیلانے والوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو ملک میں خانہ جنگی شروع ہوجانے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان اور اسلام کے دشمن یہی چاہتے ھیں کہ شعیہ سنی فسادات کو ہوا دی جائے اور اس طرح اس ملک کے ٹکڑے کر دئے جائیں۔ موجودہ اشتعال انگیز فضا میں خدانخواستہ فرقہ واریت کا کوئی بڑا سانحہ ، کسی وقت بھی رونما ہو سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال کا فائدہ صرف اور صرف دہشت گردوں کو پہنچ رہا ہے اور پہنچے گا۔ فرقہ وارانہ آگ کو ہوا دینے والے عوام اور ملک دشمن عناصر ہیں۔ ملک کو لسانی اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کا سامنا ہے۔ ملک فرقہ واریت کی لپیٹ میں ہے ،ملک دشمن قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کر کے انتشار کا شکارکرنا چاہتی ہیں۔ مذہب، عقیدے اور کسی نظریے کی بنیاد پر قتل وغارت گری اور دہشت گردی ناقابل برداشت ہے ۔ جسکی اسلام سمیت کسی مہذب معاشرے میں گنجائش نہیں۔ فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں رسول اکرم کی تعلیمات میں کہیں بھی دوسرے مذاہب اورعقائدکے ماننے والوںکی گردنیں اڑانے کادرس نہیں ملتابلکہ سرکاردوعالمؐ نے تودوران جنگ کلمہ طیبہ پڑھ لینے والے کافرکوبھی قتل کرنے پرناراضی کا اظہارکیا لیکن بدقسمتی سے آج اسلام کی شکل کوبگاڑاجارہاہے، چند انتہاپسند عناصر پاکستان میں نہ صرف شیعہ مسلموں بلکہ غیرمسلموں کو زیادتیوں کانشانہ بنارہے ہیں، آج دنیابھرمیں اسلام کوبدنام کیاجارہاہے اوردنیاکواسلام اورمسلمانوں کی غلط تصویرپیش کرنے کاجوازمل رہاہے۔ بدقسمتی سے مخالف نظریات کے حامیوں کوقتل کرنے کو بھی جہاد کہاجاتا ہے جو کہ اسلام کی رو سے غلط ہے۔ خدا اور اس کے رسول کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے گناہوں اور معصوم بچوں،مردوں اور عورتوں کا خون بے دریغ اور ناحق بہایا جا رہا ہےاور وہ بھی اسلام نافذ کرنے کے نام پر۔ سکولوں ،مساجد اور امام بارگاہوں کو تباہ کیا جا رہا ہے اور افواج پاکستا ن اور پتولیس اور تھانوں پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ کون سا اسلام ان چیزوں کی اجازت دیتا ہے؟ ملک کا وجود ان دہشت گردوں نے خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اسلام کے نام پر بننے والا پاکستان آج دہشستان بن گیا ہے اور ہر سو ظلم و دہشت اور افرا تفری کا راج ہےاور ہم سب پھر بھی خاموش ہیں،آخر کیوں؟ یہ دہشت گرد مسلمان نہیں بلکہ ڈاکو اور لٹیرے ہیں ، اسلام کے مقدس نام کو بدنام کر رہے ہیں۔ مسلمان تو کیا غیر مسلموں کو بھی اسلام سے متنفر کر رہے ہیں۔ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲) ............................................................. اقبال جہانگیر کا تازہ بلاگ : ملالہ پر حملہ کرنے والے درندے ہیں http://www.awazepakistan.wordpress.com
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔