01 ستمبر, 2014 | 5 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

'قومی مفاد جمہوری نظام میں ہے'

سپریم کورٹ۔ اے ایف پی تصویر

اسلام آباد: منگل کے روز سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا ہے کہ قومی مفاد اسی میں ہے کہ جمہوری نظام چلتا رہے۔

 چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالت عظمی کا تین رکنی بنچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اب آئی جی آئی نہیں بنے گی، جو آئین کہتا ہے وہی ہوگا۔

 افتخار محمد چوہدری کے مطابق ماضی میں جو کچھ ہوا اسے نہیں بھولنا چاہیے۔انکا کہنا تھا کہ آئین کو حالیہ دنوں بگاڑنے کی  کوشش کی گئی تھی۔

 اس سے قبل کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا  کہ صدر کا عہدہ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے تاہم بد قسمتی سے سابق صدر مملکت ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

 چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بنچ ایوان صدر سے  جواب کا انتظار کر رہا ہے، جواب نفی میں آیا تو جلال حیدر کو بلانے پر غور کریں گے۔

 اصغر خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کیس سے متعلق 'حقائق کی سمری' عدالت میں  پیش کی اور کہا کہ یہ مشترکہ آپریشن تھا جسمیں ایم آئی کے اکاونٹس استعمال کیے گئے تھے۔

 جس کے جواب میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بریگڈیر حامد سعید کے اکاؤنٹس کھولنے کا یہ مطلب نہیں کہ ایم آئی اس معاملے میں ملوث تھی۔

 درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایم آئی افسران کے اکاؤنٹس آئی ایس آئی کے کنٹرول میں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے اعتراف کیا کہ انکی ہدایت پر اکاؤنٹس کھلے اور جنرل درانی پورے آپریشن کے انچارج تھے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ چودا کروڑ میں سے سات کروڑ روپے سیاست دانوں میں تقسیم کیے گئے۔

اس حصے سے مزید

شاہراہِ دستور پر صحافت ایک جرم ہے

میڈیا کے نمائندے جو کچھ منظر میں ہوتا ہے، وہی ناظرین کو دکھاتے ہیں، لیکن شاہراہِ دستور پر ان کا یہ فرض جرم بن گیا تھا۔

موجودہ سیاسی بحران، سپریم کورٹ کی ثالثی کی پیشکش

عدالت نے تحریک انصاف اورعوامی تحریک کے وکلاء کو قیادت سے مشورے کے لیے ایک گھنٹہ کا وقت دیا ہے۔

آرمی چیف کی وزیراعظم سے اہم ملاقات جاری

اس ملاقات میں آرمی چیف گزشتہ روز ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس میں ہونے والے فیصلوں سے وزیراعظم کو آگاہ کریں گے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مودی اور مسئلہ کشمیر

کیا پاکستان مسئلہ کشمیر کو ایسے ہی رہنے دینا چاہتا ہے، تاکہ کشمیر سے زیادہ اہم افغانستان کے مسئلے پر توجہ دے سکے؟

اسلام آباد کا تماشا

عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ جوڈیشل کمیشن ایک کمزور وزیر اعظم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر تحقیقات کر سکے گا.

بلاگ

نوازشریف: قوت فیصلہ سے محروم

نواز شریف اپنے بادشاہی رویے کی وجہ سے پھنس چکے ہیں، جو فیصلے انہیں چھ ماہ پہلے کرنے چاہیے تھے وہ آج کر رہے ہیں۔

حالیہ بحران پر کچھ سوالات

مستقبل میں کیا ہو گا، بحران کا کیا حل نکلے گا، ان سوالات کے جوابات موجود نہیں ہیں، پر اس حوالے سے کئی سوالات موجود ہیں۔

پکوانی کہانی- سندھی بریانی

ہر قسم کی بریانیوں میں سے یہ بریانی منفرد حیثیت رکھتی ہے جو سندھی طریقے سے بہت زیادہ مصالحوں کے ساتھ تیار ہوتی ہے۔

‫ڈرامہ ریویو: وہ۔۔۔ دوبارہ (خوف و دہشت کا احساس)

انسان چاہے بد روحوں سے جتنا بھی ڈرے مگر ان پر بنی فلموں یا ڈراموں کو دیکھنے کا شوق پھر بھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔