01 اکتوبر, 2014 | 5 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

'قومی مفاد جمہوری نظام میں ہے'

سپریم کورٹ۔ اے ایف پی تصویر

اسلام آباد: منگل کے روز سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا ہے کہ قومی مفاد اسی میں ہے کہ جمہوری نظام چلتا رہے۔

 چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالت عظمی کا تین رکنی بنچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اب آئی جی آئی نہیں بنے گی، جو آئین کہتا ہے وہی ہوگا۔

 افتخار محمد چوہدری کے مطابق ماضی میں جو کچھ ہوا اسے نہیں بھولنا چاہیے۔انکا کہنا تھا کہ آئین کو حالیہ دنوں بگاڑنے کی  کوشش کی گئی تھی۔

 اس سے قبل کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا  کہ صدر کا عہدہ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے تاہم بد قسمتی سے سابق صدر مملکت ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

 چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بنچ ایوان صدر سے  جواب کا انتظار کر رہا ہے، جواب نفی میں آیا تو جلال حیدر کو بلانے پر غور کریں گے۔

 اصغر خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کیس سے متعلق 'حقائق کی سمری' عدالت میں  پیش کی اور کہا کہ یہ مشترکہ آپریشن تھا جسمیں ایم آئی کے اکاونٹس استعمال کیے گئے تھے۔

 جس کے جواب میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بریگڈیر حامد سعید کے اکاؤنٹس کھولنے کا یہ مطلب نہیں کہ ایم آئی اس معاملے میں ملوث تھی۔

 درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایم آئی افسران کے اکاؤنٹس آئی ایس آئی کے کنٹرول میں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے اعتراف کیا کہ انکی ہدایت پر اکاؤنٹس کھلے اور جنرل درانی پورے آپریشن کے انچارج تھے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ چودا کروڑ میں سے سات کروڑ روپے سیاست دانوں میں تقسیم کیے گئے۔

اس حصے سے مزید

وزیراعظم کی امریکی سفیر رچرڈ اولسن سے ملاقات

سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ اس ملاقات میں پاک امریکا تعلقات کے فروغ اور خطے کی موجودہ صورتحال پر بات چیت کی گئی۔

ڈھائی ہزار پولیس اہلکار آج گھر واپس لوٹ جائیں گے

اسلام آباد میں تعینات پنجاب پولیس کے گیارہ ہزار اہلکاروں میں سے ڈھائی ہزار کو وفاقی حکومت واپس بھیجنے پر تیار ہوئی ہے۔

ارسا نے حالیہ سیلاب کو ایک نعمت قرار دے دیا

ارسا کے مطابق اگرچہ سیلاب نے زبردست تباہی پھیلائی ہے، پھر بھی یہ اپنے ساتھ بیس لاکھ ایکڑ فٹ اضافی پانی بھی ساتھ لایا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

فائرنگ کی زد میں

پولیس کی قیادت کو ادراک ہوا ہے کہ اسے صاحب اختیار لوگوں کے غیر قانونی مطالبات کو نا کہنے کی ہمت دکھانے کی ضرورت ہے.

پالیسی سازی کا فن

پنجاب میں باربارآنے والے سیلاب نے فیصلہ سازی اور پالیسی سازی کے درمیان خلا کو بےنقاب کردیا ہے۔

بلاگ

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟

مووی ریویو: دی پرنس — انسپائر کرنے میں ناکام

مجموعی طور پر روبوٹ جیسی پرفارمنسز اور کمزور پلاٹ کی وجہ سے یہ فلم ناظرین کی دلچسپی قائم رکھنے میں ناکام رہی-

مخلص سیاستدانوں کے سچے بیانات

جب سے دھرنے جاری ہیں، تب سے ہم نے سیاستدانوں سے طرح طرح کی باتیں سنی ہیں جن میں سے کچھ پیش خدمت ہیں۔