17 ستمبر, 2014 | 21 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

'قومی مفاد جمہوری نظام میں ہے'

سپریم کورٹ۔ اے ایف پی تصویر

اسلام آباد: منگل کے روز سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا ہے کہ قومی مفاد اسی میں ہے کہ جمہوری نظام چلتا رہے۔

 چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالت عظمی کا تین رکنی بنچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اب آئی جی آئی نہیں بنے گی، جو آئین کہتا ہے وہی ہوگا۔

 افتخار محمد چوہدری کے مطابق ماضی میں جو کچھ ہوا اسے نہیں بھولنا چاہیے۔انکا کہنا تھا کہ آئین کو حالیہ دنوں بگاڑنے کی  کوشش کی گئی تھی۔

 اس سے قبل کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا  کہ صدر کا عہدہ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے تاہم بد قسمتی سے سابق صدر مملکت ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

 چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بنچ ایوان صدر سے  جواب کا انتظار کر رہا ہے، جواب نفی میں آیا تو جلال حیدر کو بلانے پر غور کریں گے۔

 اصغر خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کیس سے متعلق 'حقائق کی سمری' عدالت میں  پیش کی اور کہا کہ یہ مشترکہ آپریشن تھا جسمیں ایم آئی کے اکاونٹس استعمال کیے گئے تھے۔

 جس کے جواب میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بریگڈیر حامد سعید کے اکاؤنٹس کھولنے کا یہ مطلب نہیں کہ ایم آئی اس معاملے میں ملوث تھی۔

 درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایم آئی افسران کے اکاؤنٹس آئی ایس آئی کے کنٹرول میں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے اعتراف کیا کہ انکی ہدایت پر اکاؤنٹس کھلے اور جنرل درانی پورے آپریشن کے انچارج تھے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ چودا کروڑ میں سے سات کروڑ روپے سیاست دانوں میں تقسیم کیے گئے۔

اس حصے سے مزید

دفعہ 144 کے تحت درج مقامات ختم کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مقامات خارج کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ماورا قانون اقدام کی اجازت نہیں سکتی ہے۔

مبینہ پولیس اہلکار کی پی ٹی آئی میں شمولیت

بعد میں فیصل آباد پولیس کے دستے کے انچارج نے اس شخص کے پولیس انسپکٹر ہونے کے دعویٰ کو مسترد کردیا۔

ہنگامی صورتحال میں گمشدہ بچوں کے تحفظ کی پالیسی تیار

قدرتی آفات سے بچوں کے لیے خطرات میں اضافہ ہوجاتا ہے، بلکہ بچے بدسلوکی اور استحصال کی صورتحال کا مزید نشانہ بنتے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مزید جمہوریت

نظام لپیٹ دینے اور امپائر کی باتیں کرنے کے بجائے ہمارا مطالبہ صرف مزید جمہوریت ہونا چاہیے، کم جمہوریت نہیں۔

تبدیلی آگئی ہے

ملک میں شہری حقوق کی عدم موجودگی میں عوام اب وسیع تر بھلائی کا سوچنے کے بجائے اپنے اپنے مفاد کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

بلاگ

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔

کراچی میں فرقہ وارانہ دہشتگردی

کراچی ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ دہشت گردی کی زد میں ہے اور روزانہ کوئی نہ کوئی بے گناہ سنی یا شیعہ اپنی جان گنوا رہا ہے۔

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔

کریچر - تھری ڈی: گوڈزیلا یا ڈیوی جونز کا کزن؟

یہ کہنا غلط نہ ہوگا بپاشا ہارر تھرلرز تک محدود ہوگئی ہیں جبکہ عمران عبّاس نے انکے گرد چکر کاٹنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔