29 جولائ, 2014 | 1 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

سیلاب سے 455 افراد ہلاک ہوئے، این ڈی ایم اے

گزشتہ دو سالوں کی ہی طرح اس سال بھی صوبہ سندہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ۔ اے پی فوٹو

اسلام آباد: نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق، گزشتہ پانچ ہفتوں سے ہونے والی مون سون بارشوں کے نتیجے میں کل چار سو پچپن افراد ہلاک ہوئے۔

پاکستان گزشتہ دو سالوں کے دوران سیلابوں کا شکار رہا ہے جس میں دو ہزار دس کا تباہ کن سیلاب بھی شامل ہے جس میں تقریباً اٹھارہ سو افراد ہلاک اور دو کڑوڑ دس لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے۔

پچھلے دو سالوں کی ہی طرح اس سال بھی صوبہ سندہ سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں تیس لاکھ افراد سیلاب کے زیر اثر آئے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں متاثرین کی تعداد آٹھ لاکھ نوے ہزار رہی اور بلوچستان میں تقریباً دس لاکھ افراد متاثر ہوئے۔

ستمبر سے لیکر اب تک دو لاکھ ساٹھ ہزار افراد ریلیف کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں تاہم این ڈی ایم اے کے مطابق ڈھائی ہفتے قبل متاثرین کی تعداد دو لاکھ نوے ہزار تھی۔

این ڈی ایم اے کی طرف سے شائع کیے گئے ڈیٹا کے مطابق سیلاب کے باعث دس لاکھ سے زائد فصلیں بھی متاثر ہوئیں۔

اس حصے سے مزید

آرٹیکل 245 کا نفاذ: حکومتی اعلامیے کی نقل پیش کرنیکا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے دارالحکومت میں آئین کے آرٹیکل 245 کے نفاذ کے حکمنامے کی نقل پیش کرنے کا نوٹس جاری کردیا۔

فوج طلب کرنے پر وزارت داخلہ و دیگر کو نوٹسز جاری

اگر اسلام آباد میں ایسا قدم اٹھایا گیا تو اس سے حکومتی رٹ کمزور ہوگی، درخواست گزار۔

مضاربہ اسکینڈل: نیب کا ایک اور ریفرنس

ریفریس میں میزبان ٹریڈنگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو غلام رسول ایوب سمیت تین افراد کو فریق بنایا گیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔