17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

سیلاب سے 455 افراد ہلاک ہوئے، این ڈی ایم اے

گزشتہ دو سالوں کی ہی طرح اس سال بھی صوبہ سندہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ۔ اے پی فوٹو

اسلام آباد: نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق، گزشتہ پانچ ہفتوں سے ہونے والی مون سون بارشوں کے نتیجے میں کل چار سو پچپن افراد ہلاک ہوئے۔

پاکستان گزشتہ دو سالوں کے دوران سیلابوں کا شکار رہا ہے جس میں دو ہزار دس کا تباہ کن سیلاب بھی شامل ہے جس میں تقریباً اٹھارہ سو افراد ہلاک اور دو کڑوڑ دس لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے۔

پچھلے دو سالوں کی ہی طرح اس سال بھی صوبہ سندہ سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں تیس لاکھ افراد سیلاب کے زیر اثر آئے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں متاثرین کی تعداد آٹھ لاکھ نوے ہزار رہی اور بلوچستان میں تقریباً دس لاکھ افراد متاثر ہوئے۔

ستمبر سے لیکر اب تک دو لاکھ ساٹھ ہزار افراد ریلیف کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں تاہم این ڈی ایم اے کے مطابق ڈھائی ہفتے قبل متاثرین کی تعداد دو لاکھ نوے ہزار تھی۔

این ڈی ایم اے کی طرف سے شائع کیے گئے ڈیٹا کے مطابق سیلاب کے باعث دس لاکھ سے زائد فصلیں بھی متاثر ہوئیں۔

اس حصے سے مزید

سینیٹر فیصل رضا عابدی سے استعفیٰ طلب

پارٹی ڈسپلن کی بار بار خلاف ورزی پر پی پی پی نے فیصل رضا عابدی سے سینیٹر شپ کا استعفی طلب کرلیا ہے۔

نواز زرداری کا ملکی سلامتی پر تبادلہ خیال

وزیر اعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف زرداری کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات، اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

الیکشن 2013: کالعدم تنظیم کی شرکت کا انکشاف

گزشتہ الیکشن میں حصہ لینے والے 'متحدہ دینی محاذ' میں کالعدم تنظیم اہلسنت ولجماعت بھی شامل تھی۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟

جادو کا چراغ: نبض کے بھید اور ایک برباد محبت

بوڑھے دانا طبیب نے مختلف ناموں پر بدلتی نبض کو دیکھ کر لڑکی کی پراسرار بیماری کا علاج کیا-

سارے جہاں سے مہنگا - ریویو

فلم میں ایک اچھوتا خیال پیش کیا گیا ہے کہ کس طرح 'جگاڑ' کر کے ایک مڈل کلاس آدمی مہنگائی کا توڑ نکالتا ہے۔