23 ستمبر, 2014 | 27 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

سیلاب سے 455 افراد ہلاک ہوئے، این ڈی ایم اے

گزشتہ دو سالوں کی ہی طرح اس سال بھی صوبہ سندہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ۔ اے پی فوٹو

اسلام آباد: نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق، گزشتہ پانچ ہفتوں سے ہونے والی مون سون بارشوں کے نتیجے میں کل چار سو پچپن افراد ہلاک ہوئے۔

پاکستان گزشتہ دو سالوں کے دوران سیلابوں کا شکار رہا ہے جس میں دو ہزار دس کا تباہ کن سیلاب بھی شامل ہے جس میں تقریباً اٹھارہ سو افراد ہلاک اور دو کڑوڑ دس لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے۔

پچھلے دو سالوں کی ہی طرح اس سال بھی صوبہ سندہ سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں تیس لاکھ افراد سیلاب کے زیر اثر آئے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں متاثرین کی تعداد آٹھ لاکھ نوے ہزار رہی اور بلوچستان میں تقریباً دس لاکھ افراد متاثر ہوئے۔

ستمبر سے لیکر اب تک دو لاکھ ساٹھ ہزار افراد ریلیف کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں تاہم این ڈی ایم اے کے مطابق ڈھائی ہفتے قبل متاثرین کی تعداد دو لاکھ نوے ہزار تھی۔

این ڈی ایم اے کی طرف سے شائع کیے گئے ڈیٹا کے مطابق سیلاب کے باعث دس لاکھ سے زائد فصلیں بھی متاثر ہوئیں۔

اس حصے سے مزید

وزیراعظم کے خلاف مقدمے کا عدالتی حکم سپریم کورٹ میں چیلنج

اٹارنی جنرل نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم غیر قانونی ہے۔

طاہر القادری کا دھرنے کے شرکاءکو واپسی کی اجازت دینے سے انکار

طاہر القادری نے پیر کو دھرنے میں شریک اپنے حامیوں کو گھر واپسی کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

الیکشن کمیشن نے انتخابی خامیوں کا ذمہ دار آر اوز کو قرار دے دیا

آر اوز قانونی طور پر پولنگ اسٹیشنز کو منتخب کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں مگر انہوں نے یہ ٹاسک خود مکمل نہیں کیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

مووی ریویو: 'خوبصورت' - فواد اور سونم کی خوبصورت کہانی

اپنے مزاحیہ خیز کرداروں کے باوجود فلم شوخ اور رومانٹک ڈرامہ ہے، جسے آپ باآسانی ڈزنی کی طلسماتی کہانی کہہ سکتے ہیں-

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔