02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

رمشا مسیح کیس: حکم امتناعی میں توسیع کردی گئی

عدالت عالیہ نے آئندہ سماعت پر وکلاء کو دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ پر حکم امتناعی میں توسیع کردی۔ اے ایف پی فوٹو

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے رمشا مسیح کیس کی ایف آئی آر خارج کرنے کی درخواست پر ٹرائل کورٹ پر جاری حکم امتناعی میں توسیع کرتے ہوئے سماعت چودہ نومبر تک ملتوی کردی  ہے۔

بدہ کے روز عدالت نے رمشا مسیح کیس کی ایف آئی آر خارج کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

دوران سماعت، چوہدری عبدالعزیز ایڈوکیٹ نے مدعی ملک عماد کی جانب سے وکالت نامہ جمع کروایا۔

عدالت عالیہ نے آئندہ سماعت پر وکلاء کو دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ پر حکم امتناعی میں توسیع کردی۔

کیس کی سماعت چودہ نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

اس حصے سے مزید

کچرہ چننے والوں کی زندگی میں عارضی انقلاب

شاکر جان کی خواہش ہے کہ مظاہرین ڈی چوک پر ہمیشہ موجود رہیں، جن کی وجہ سے اس کے لیے روزی کمانا آسان ہوگیا ہے۔

سپریم کورٹ : پندرہ پارلیمانی جماعتوں کو نوٹس جاری

ممکنہ ماورائے آئین اقدام سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ وہ صرف ایک مرتبہ عمران خان سے ملے ہیں۔

اسلام آباد دھرنے پاکستان کے خلاف بغاوت ہیں، نثار

موجودہ سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے پارلیمٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا' (الجھتے رشتوں کی کہانی)

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔