20 ستمبر, 2014 | 24 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

فیصل رضا عابدی کا چیف جسٹس کے استعفے کا مطالبہ

پیپلز پارٹی کے سینیٹر فیصل رضا عابدی۔ فائل فوٹو

اسلام آباد: سینیٹر فیصل رضا عابدی نے سینٹ اجلاس کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افتخار چوہدری نے ازخود کارروائی کے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور وہ سپریم کورٹ کا لیٹرہیڈ خاندان کے لیے استعمال کر کے  آئین  کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔

جمعرات کے روز سینیٹ میں بولنے کی اجازت  نہ ملنے پر سینیٹر فیصل رضا عابدی نے  چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے قریب  دھرنا دینے کی کوشش کی تاہم بعدازاں اجازت ملنے پر فیصل رضا عابدی  نے چیف جسٹس  افتخار محمد چوہدری اور رجسٹرار سپریم کورٹ سے استعفے کا مطالبہ  کیا۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آئین  کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ میری شکایت موصول ہونے پر چیف جسٹس کو سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلانا چاہیے تھا۔

سینیٹر فیصل رضا عابدی نے الزام  عائد کیا کہ  چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ازخود  کارروائی کے اختیار کو غلط استعمال کیا اور عدالتی روایات کے خلاف بے تحاشہ حکم امتناعی جاری کیے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ میری شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے جسٹس تصدق جیلانی فوری طور پر سپریم  جوڈیشل کونسل کا اجلاس  بلائیں۔ سینیٹر فیصل رضا عابدی نے  چیف جسٹس کےخلاف اہم دستاویزات چیئر کے حوالے کر دیں۔

فیصل رضا عابدی نے کہا کہ  جو کچھ کہتا رہا  پارلیمنٹ اور عدلیہ کی اجازت سے  کہا۔ انہوں نے کہا کہ  سپریم کورٹ کا لیٹر ہیڈ چیف جسٹس نے اپنے خاندان کیلیے کیسے استعمال کیا۔ انہوں نے رجسٹرار کا لیٹر بھی ایوان میں پیش کر دیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ فوج اور عوام پر حملہ کرنیوالوں کو چیف جسٹس نے رہا کیا جبکہ ان کے بیٹے نے باپ کا نام استعمال کر کے بدمعاشی کی۔

سینیٹر فیصل رضا عابدی کی تقریر کے موقع پر ایوان بالا میں وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک سمیت حکمران جماعت کی اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔

اس حصے سے مزید

'دھرنوں کے خلاف مذمتی قرارداد زرداری کی منظوری کے بعد پیش ہوئی'

پیپلزپارٹی کی جانب سے یہ اصرار کیا گیا کہ وہ اس کی پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری سے منظوری لیں گے۔

کسی کو جمہوریت پر کلہاڑا نہیں چلانے دیں گے، وزیراعظم

قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت کسی کو بھی قومی سلامتی سے کھیلنے نہیں دے سکتی ہے۔

نیا آئی ایس آئی چیف، وزیراعظم کے لیے مشکل انتخاب

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل ظہیر الاسلام یکم اکتوبر کو ریٹائر ہورہے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (3)

Malick Hussain
18 اکتوبر, 2012 23:16
Faisal Raza Abdi is like a mujahid and moman. He is not one who accused the SC and Chief Justice of Pakistan. Many 0thers vhave more serious charges against SC and Chief Justice of Pakistan. He is senator and has the courge and responsibility to accuse the chief and his institution. This is the unique chief and his institution who looks for middle way. This SC is failed to give equal justice to two PM at one issue. Chief justice deserve one time hang up, justice Khosa and his bench be given twice hang up, law minister NAIK should be hanged three time. Justice Tasdaduq must take up Faisal Raza Abdi ( Moman) case for justice sake.How come political leader keeps barking that they are behind SC? Is there any honey canal behind SC? sorry for hard language, SC also give hard judgements. It fired a member of PA and than restored him, mental judges is not the need of my country. We need new wake up.
tahir
22 اکتوبر, 2012 18:48
faisal raza abidi zardari ki hidayat pr hi cheif justice ky khilaf bayan day rahe hain.
tahir
22 اکتوبر, 2012 19:02
faisal raza abidi ko moman aur sucha smjhny waly ko apny dimagh ka muaeena krwa lena chahy.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

رودرہیم کا سبق

بچوں پر ہونیوالے جنسی تشدد پر ہماری شرمندگی کی سمت غلط ہے۔ شرم کی بات تو یہ ہے کہ ہم اس کو روکنے کی کوشش نہ کریں-

رکاوٹیں توڑ دو

اشرافیہ تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق کرنے پر تلی ہوئی ہے جو خاص طور سے 1970ء کی دہائی کے بعد سے بد سے بدتر ہورہاہے۔

بلاگ

مووی ریویو: دختر -- دلوں کو چُھو لینے والی کہانی

اپنی تمام تر خوبیوں اور کچھ خامیوں کے ساتھ اس فلم کو پاکستانی نکتہ نگاہ سے پیش کیا گیا ہے۔

پھر وہی ڈیموں پر بحث

ڈیموں سے زراعت کے لیے پانی ملتا ہے، پانی پر کنٹرول سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور توانائی بحران ختم کیا جاسکتا ہے۔

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔