02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

شہباز شریف کے داماد کی ضمانت منظور

لاہور: علی عمران ڈیفنس بی پولیس اسٹیشن میں اپنا بیان رکارڈ کرانے آ رہے ہیں۔— ائی این پی فوٹو

لاہور: لاہور کی مقامی عدالت نے بیکری ملازم تشدد کیس میں وزیراعلیٰ پنجاب کے داماد علی عمران کی ضمانت منظور کرکے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

ڈیفنس کے علاقے میں متعلقہ کیس میں گرفتار علی عمران نے مقامی عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کر رکھی تھی۔

جمعہ کو کینٹ کچہری میں سماعت کے آغاز پر ان کے وکلاء نے دلائل دیے کہ  ان کے موکل کا کیس سے کوئی تعلق نہیں، لہذا انہیں رہا کیا جائے۔

وکلاء کے مطابق پولیس کی طرف سے پیش کی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں بھی انہیں بے گناہ قرار دیا گیا ہے۔

جس پر عدالت نے پچاس ہزار کے مچلکوں پر علی عمران  کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا۔

اس حصے سے مزید

اڈیالہ جیل کے زخمی کی حالت بدستور تشویش ناک

پولیس گارڈ کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے توہین مذہب کے مبینہ برطانوی ملزم کو مزید ہسپتال میں رکھنے کی درخواست۔

جاویدہاشمی تحریک انصاف سے مستعفی،الیکشن میں مسلم لیگی حمایت حاصل

حکومتی جماعت کے وفد سے ملاقات کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ایسی پارٹی کا کارکن نہیں رہنا چاہتا جو جمہوریت کے خلاف سازش کرے۔

امید ہے عید سے قبل دھرنے ختم ہوجائیں گے، رحمان ملک

سابق وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ فریقین کو لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا، سیاست میں مذاکرات کا راستہ بند نہیں ہوتا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟