02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

عافیہ کے معاملے پر سب خاموش ہیں،فضل الرحمان

عافیہ کو گولی مارنے والا امریکی تھا اس لئے تمام انسانی حقوق کی تنظیمیں اور میڈیا خاموش ہے، فضل الرحمان۔ فائل فوٹو

پشاور: جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ملالہ پر حملے کے خلاف تو بہت شور مچایا گیا مگر ڈاکٹر عافیہ کے معاملے پر سب خاموش ہیں۔

 پشاور میں سابق وزیراعلٰی خیبر پختونخواہ اکرم خان درانی کے بیٹے ضیاد درانی کے حوالے سے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ طالبان کی غلطیوں کو بھی وہ تسلیم کرتے ہیں تاہم ہر طرح کے مظالم کو ظلم ہی سمجھنا چاہئے۔

 انکے مطابق چونکہ عافیہ کو گولی مارنے والا امریکی تھا اس لئے تمام انسانی حقوق کی تنظیمیں اور میڈیا خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے فیصلے انصاف کی بنیاد پر نہیں ہوتے۔

 جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر نوجوانوں کے اندر تبدیلی کی خواہش ہے تو سب سے پہلے کرپشن کا خاتمہ کیا جائے۔

اس حصے سے مزید

پروفیسر اجمل کے بدلے تین طالبان قیدی رہا کرائے، مُلا فضل اللہ

اسلام آباد میں 30 ہزار لوگوں نے حکومت کو یرغمال بنا لیا ہے جس سے طالبان کا کام آسان ہو گیا،سربراہ تحریک طالبان پاکستان

بے گھر افراد کے لیے 1.5 ارب روپے کے فنڈز کی درخواست

فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ فنڈز کے اجراء میں تاخیر سے نقد امداد کی تقسیم کا پروگرام معطل ہوسکتا ہے۔

۔’’ضرب عضب‘‘: 32 دہشت گرد ہلاک، 3ٹھکانے تباہ

آئی ایس پی آر کے مطابق بارودی مواد سے بھری ہوئی 23 گاڑیاں اور اسلحے کے 4 ذخائر بھی تباہ کر دیئے گئے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

Ishaque Mahar
22 اکتوبر, 2012 14:20
Moulana is 100% correct and U.S.A is world's No.1 terrorist.
Ishaque Mahar
22 اکتوبر, 2012 14:24
most of Malala's has been martyred by U.S and Pakistani soldiers, but no one media channel cried, why only Malala.....?
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا' (الجھتے رشتوں کی کہانی)

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔