24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

عافیہ کے معاملے پر سب خاموش ہیں،فضل الرحمان

عافیہ کو گولی مارنے والا امریکی تھا اس لئے تمام انسانی حقوق کی تنظیمیں اور میڈیا خاموش ہے، فضل الرحمان۔ فائل فوٹو

پشاور: جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ملالہ پر حملے کے خلاف تو بہت شور مچایا گیا مگر ڈاکٹر عافیہ کے معاملے پر سب خاموش ہیں۔

 پشاور میں سابق وزیراعلٰی خیبر پختونخواہ اکرم خان درانی کے بیٹے ضیاد درانی کے حوالے سے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ طالبان کی غلطیوں کو بھی وہ تسلیم کرتے ہیں تاہم ہر طرح کے مظالم کو ظلم ہی سمجھنا چاہئے۔

 انکے مطابق چونکہ عافیہ کو گولی مارنے والا امریکی تھا اس لئے تمام انسانی حقوق کی تنظیمیں اور میڈیا خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے فیصلے انصاف کی بنیاد پر نہیں ہوتے۔

 جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر نوجوانوں کے اندر تبدیلی کی خواہش ہے تو سب سے پہلے کرپشن کا خاتمہ کیا جائے۔

اس حصے سے مزید

پشاور میں فائرنگ، سابق رکن قومی اسمبلی کا پرسنل سیکرٹری ہلاک

مقتول بسم اللہ کو نامعلوم افراد نے رنگ روڈ تاج آباد کے علاقے میں گولیوں کا نشانہ بنایا، پولیس۔

سراج الحق وزیر خزانہ خیبر پختونخوا کے عہدے سے مستعفی

جماعت اسلامی امیر سراج الحق نے وزیر خزانہ خیبر پختونخوا کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ایف ڈی ایم اے کو بے گھر افراد کے لیے ڈھائی ارب روپے درکار

وفاقی حکومت پہلے ہی فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو نقل مکانی کرنے والے افراد کی امداد کے لیے دو ارب روپے جاری کرچکی ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

Ishaque Mahar
22 اکتوبر, 2012 14:20
Moulana is 100% correct and U.S.A is world's No.1 terrorist.
Ishaque Mahar
22 اکتوبر, 2012 14:24
most of Malala's has been martyred by U.S and Pakistani soldiers, but no one media channel cried, why only Malala.....?
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-